روایت کی جیت۔۔عبدالباسط

کیا کہا۔۔!! میری نسبت؟جاؤ جاؤ کسی اور کو بَلی کا بکرا بناؤ، میں ہی ملی تھی سولی چڑھانے کو؟ فریحہ پاؤں پٹختے ہوئے وہیں سے واپس ہوئی اور کمرے میں جا کر کھٹاک سے دروازہ بند کر دیا۔ آج صبح جب وہ اٹھ کر ناشتے کی ٹیبل پر آئی تو یہ خبر اس کی منتظر تھی کہ”فریحہ کی نسبت طے کر دی گئی ہے دو دن بعد منگنی کی رسم ہونے والی ہے۔“اس کی بھابھی نے جب دادا جان کا حکم نامہ سنایا تو بھونچال آگیا۔

دراصل اس خاندان کی روایت چلی آرہی تھی کہ گھر کے وڈیرے جو حکم نامہ جاری کرتے سب کو بلا چوں چراں مانتے ہی بنتی تھی۔گھرانے کے کسی فرد کو نہ تو اتنا اختیار تھا اور نہ ہی کسی میں گھر کے وڈیرے (جو کہ فریحہ کے دادا تھے)کے حکم سے انکار کی ہمت، تمام تر امور کی زمام ِ تصرف دادا کے ہاتھ میں تھی۔اس  سے پہلے بھی اس خاندان میں جو نسبتیں طے ہوئیں،وہ دادا کی مرضی سے ہی ہوئی تھیں۔ خود ان کے بڑوں نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ زاہد کے لیے را نی، تنویر کے لیے امبر، اسی طرح چار رشتے طے ہوگئے۔ جو کہ چچا زادوں سے ہونے قرار پائے تھے۔اور گھر کے تمام ہی افراد نے سر تسلیم خم کر لیا تھا، کہ بڑوں کے فیصلوں میں خیر ہوتی ہے۔اگرچہ جن کی نسبتیں طے ہوئیں ان کے خوابوں کا خون ہوچکا تھا، آنکھوں میں سجے سپنے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئے تھے۔ کیوں کہ اس خاندان کی روایت ہی فیصلے مسلط کرنا تھی۔ یہاں تو اپنے علاوہ سب Bipeds تھے انہیں فقط دوپایہ مخلوق کی حیثیت حاصل تھی۔

لیکن اب کی بار فریحہ نے یہ بات سنتے ہی ببانگ دہل انکار کردیا اورساتھ ہی کھانا پینا چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی۔اس کی امی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے کہ خاندان والے کیاکہیں گے؟ ان کی آنکھیں  پریشان،دماغ سن اور شعور مفلوج ہو چکا تھا۔وہ فریحہ کو سمجھا  رہی تھیں کہ بیٹا! نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے مگر فریحہ اپنی بات پر بضد، اس دھوکے میں تھی کہ شاید وڈیرے اس کی بات کا مان رکھ لیں۔ وہ کہتیں، چلو میں اپنے شوہر کا تو  سامنا کرلوں گی، اپنے سسر کا سامنا کیسے کروں گی؟ فریحہ کی ماں اسے سمجھائے جارہی تھیں کہ بیٹا! یہاں کوئی نہیں سنتا، کیوں خود کو بھی اور مجھے بھی رسوا کرنے پر تلی ہو؟ جو فیصلہ گھر کے بڑوں نے کرلیا وہ اب نہیں بدل سکتا مگر فریحہ بدستور اپنی بات پر قائم رہی کہ نہیں، نہیں اور نہیں۔

آج تیسرا دن تھا اور تین ہی دن سے فریحہ نے کھانے کا ایک لقمہ تک نہیں لیا تھا۔ مگر اس کی ماں کے علاوہ کسی کو کوئی پرواہ نہ تھی۔ حالانکہ سب جانتے تھے کہ فریحہ حق پر ہے اور جائز  مطالبہ کر رہی ہے مگر وڈیرے اپنے قوانین میں ردوبدل کیسے کر لیتے؟ پھر وہی ہوا جس کا اس کی ماں کو ڈر تھا۔ دادا نے بیک جنبش قلم اس کو حرف غلط قرار دے دیا اور ستم بالائے ستم اپنی بات پر ایسے کھڑے رہے جیسے سب کی زندگیاں انہیں دان کر دی گئی ہوں۔ہر معاشرے، سوسائٹی میں رہنے بسنے والوں نے اپنے لیے کچھ اصول و ضوابط، کچھ قوانین مرتب کر رکھے ہوتے ہیں تا کہ وہ پرسکون اور خوشگوار ماحول میں زندگی گزار یں، ایسا وہ بہتر زندگی کے لیے کرتے ہیں تا کہ خوش رہیں اور ترقی کر سکیں۔اسی معاشرے کے کچھ انسان ان اصول و ضوابط پر سختی سے عمل پیرا ہوتے اور پابندی کرتے ہیں۔ بہر صورت ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔لیکن کچھ قوانین کو وہ اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔ یہیں سے الجھن و کشمکش کی فضاء پیدا ہو جاتی ہے اگرچہ یہ الجھن ان قوانین کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

مگر یہاں وہ بہتری کاارادہ ہی نہ رکھتے تھے۔ گھر میں عجب تناؤ سا پیدا ہو گیا تھا۔ سب کھنچے کھنچے سے تھے۔ فریحہ بڑوں کا فیصلہ ماننے کو تیار نہ تھی اور بڑے اپنے فیصلے سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اس کے بابا بہت دلبرداشتہ تھے کہ اس کو میں نے پالا،پوسا، لکھایا، پڑھایا، اور آج یہ میری ہی بات کا رد کر رہی ہے۔ اسے میں نے یہ تو نہیں سکھایا تھا۔ وہ اسے اس کے حقوق دینے سے صرف  نظر  کر رہے تھے۔ وہ بہر صورت یہی چاہتے تھے کہ فریحہ کو بھی ویسی ہی لکڑی کے ستون سے باندھا جائے جیسے اس سے پہلے کی بچیوں کو باندھا گیا۔ جبکہ فریحہ صدائے احتجاج بلند کیے ہوئے تھی کہ امی! ویسے تو جائز و ناجائزآپ کو اور بابا کو ہر چیز میں یاد رہتا ہے ہر وقت اسی فکر میں گھل رہے ہوتے ہیں۔ یہاں میری باری پر کیوں بھول گئی ہیں؟ میں الحمد للہ عاقلہ بالغہ ہوں اور حکم یہ ہے کہ عاقلہ پر مرضی مسلط نہ کی جائے، بلا رضا مندی کے نکاح کی اجازت تو شریعت بھی نہیں دیتی۔ میرے بھی تو کچھ حقوق ہیں۔ آپ مجھے خوش نہیں دیکھنا چاہتے ناں؟ بیٹا!

ایسے کیوں سوچا تم نے؟ اس کی امی نے نمناک  آنکھوں  سے اس کی طرف دیکھا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ پائی۔ آنسوؤں کی لڑیاں ٹپ ٹپ کرتی تکیے کو بھگونے لگیں تھیں۔
اس کی امی سوچنے لگی کہ کاش! ہمارے وڈیرے نبی پاک ﷺ کے اسوہ حسنہ سے سبق حاصل کریں، خود نبی پاک ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ سے پوچھ کر ہی حضرت علی ؓ کو رشتہ کی حامی بھری اور رشتہ دیا تھا۔ شریعت کا حکم بھی تو یہی ہے۔ مگر ان کے پاؤں جکڑے ہوئے ،زبان کو تالا لگا ہوا تھا۔ وہ چپکے چپکے رونے اور رب کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر پا رہی تھیں۔اس کی امی نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے اسے اٹھا کے اپنے سینے سے لگایا تو وہ بلک بلک کر رو پڑی۔ اس کی امی خود پر قابو رکھتے ہوئے بولیں: بیٹا! کون ماں یا کون باپ ایساچاہے گا کہ ان کے دل کا ٹکڑا غمگین رہے؟ ماں باپ ہمیشہ اپنی اولا دکا اچھا ہی چاہتے ہیں۔وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کی بچی اگلا گھر سدھارے تو خوشیاں مقدر ہوں۔ وہ تو بچی کی خوشیاں چاہتے ہیں۔

آپ مجھے خوش دیکھنا چاہتے  ناں تو یوں مجھ پر فیصلہ مسلط نہ کرتے، میری رائے کا خیال رکھتے، مجھے میرے حقوق دیتے، کم از کم مجھ سے پوچھ تو لیتے۔ فریحہ بولتی جارہی تھی۔ مگر اس کی امی کے پاس بغیر آنسو بہانے کے کوئی جواب نہ تھا۔

دوسری طرف لوگ بدگمانی کی حدوں کو چھو رہے تھے۔ کوئی اس کی تعلیم کو انکار کا ذریعہ بنا رہا تھا تو کوئی میاں موبائل کو مورد الزام ٹھہرا رہا تھا۔۔کہ یہ ساری اس موبائل کی کارستانی ہے۔ جبکہ فریحہ اس بات سے بے پرواہ یہی ثابت کرنے پر تلی تھی کہ اس کے بھی کچھ حقوق ہیں۔اس کی حیثیت کا خیال رکھ کر اس کی رائے کو اہمیت دی جائے مگر۔۔۔ وڈیرے ان اصول ضوابط کو اپنے سینے سے لگائے ایسے جنون و مدہوشی کی راہ چل رہے تھے کہ انہیں تبدیل کرنے یا ان پر نظر ثانی کی زحمت تک گوارا نہ کی۔

بالآخر روایات جیت گئیں۔ ایک  اور انسان  روایات کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔ فریحہ نے ان کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے سمجھوتہ کر لیا۔طے شدہ بات کے مطابق فریحہ کی شادی کر دی گئی تھی اس بات سے بے پرواہ ہو کر کہ آیا آنے والی زندگی  کیا گل کھلائے گی؟ کیا وہ خوش  رہ  سکے گی؟ کیا وہ ایڈجیسٹ ہو جائے گی یا سمجھوتے ہی کرتی رہے گی؟

ہمارے معاشرے میں ایسے اپنے بنائے ہوئے قوانین نسلوں تک چلتے ہیں یہاں تک کہ یہ روایات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اگر اس وقت یہ روایات کسی طاقتور کے ہاتھ میں آجائیں تو وہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ پھر انسانی زندگی سے زیادہ ان روایات کا احترام کیا جاتا ہے اور سوسائٹی وہیں کی وہیں کھڑی رہ جاتی ہے۔ اور وقت بھاگتا ہواآگے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں انسان کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ روایات کی پاسداری کے لیے انسان تک کا خون کر دیا جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *