• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تاریخ تصوف از ڈاکٹر مصطفی حلمی مصری پر ایک نظر ۔۔راجہ قاسم محمود/ حصہ اول

تاریخ تصوف از ڈاکٹر مصطفی حلمی مصری پر ایک نظر ۔۔راجہ قاسم محمود/ حصہ اول

“قرطاس” (کراچی) نے ایک مصری عالم ڈاکٹر محمد مصطفی حلمی کی تصوف پر کتاب “تاریخ تصوف” کے نام سے   شائع کی ہے جس کا اردو ترجمہ رئیس احمد جعفری صاحب نے کیا ہے۔یہ کتاب 210 صٖفحات پر مشتمل ہے۔یہ کتاب ساٹھ سال سے دستیاب نہیں تھی جس کو 65 سال بعد ادارہ “قرطاس” نے دوسری دفعہ نئی طباعت و پروف ریڈنگ کے بعد شائع کیا ہے۔ادارہ “قرطاس” کی ناظمہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ نے کتاب کو شائع کرکے ایک عمدہ کام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ داد کی مستحق ہیں۔اللہ ‘قرطاس” کو مزید ترقی عطا کرے۔

اسلام میں تصوف کے آغاز کے بارے میں ڈاکٹر مصطفی حلمی کہتے ہیں کہ اس کا آغاز آپ ﷺ کے مبارک دور سے ہوا،اور تصوف دراصل اسلام کی روحانی زندگی ہے،آپﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم حب دنیا سے بے زار تھے ان کی زندگی کا مقصد فقط رب کریم کی خوشنودی تھا۔آپ ﷺ کی سیرت مقدسہ کے مطالعے کے دوران بھی یہ بات ہم کو نظر آتی ہے کہ آپ ﷺ غار حرا جاتے تھے اور یہ معمول نزول وحی سے پہلے کا تھا جس کا مطلب اس وقت بھی روحانی زندگی کا آغاز ہو چکا تھا۔آپ ﷺ نے لوگوں سے دور رہ کر خلوت نفس کے بعد کائنات کی علت غائی پر غور کرکے جو زندگی اختیار کی ،بعد کے زہاد و صوفیہ کے ریاضات اور مجاہدات اس کے تابع ہی آتے ہیں۔آپ ﷺ کی غار حرا کی تنہائی اور بعد کے زہاد و صوفیہ کے مجاہدات کا اصل الاصول رب کی معرفت تھا۔لہذا جو تصوف اس اصول سے دور ہوا وہ اسلام سے بھی دور ہوا،وہ ہندی تصوف،یونانی تصوف یا مسیحی تصوف تو کہلایا جا سکتا ہے مگر یہ اسلام کے بالکل معارض ہے،اصل تصوف وہ ہے جو قرآن و سنت اور آپ ﷺ کی حیات کے تابع ہو۔ڈاکٹر حلمی لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی غار حرا کی زندگی ہی تصوف کا پہلا بیج ہےجس کو بعد میں صوفیاء نے ایک تناور  درخت بنا دیا۔ڈاکٹر مصطفی حلمی نے بار بار آپ ﷺ کی غار حرا کی زندگی کا ذکر کیا ہے جہاں آپ ﷺ کو یکسوئی قلب میسر آئی،پھر معرفت نفس حاصل ہوئی،پھر اس قلب صافی میں زیادہ سے زیادہ جلا پیدا ہوئی،اور آپ ﷺ کو رویائے صادقہ نظر آنے لگے،یوں جب دنیا باطل اور شر پر چل رہی تھی آپ ﷺ حق اور خیر پر ڈٹ گئے۔بعد میں آنے والے صوٖفیاء کی زندگی آپ ﷺ کی اس زندگی ہی کی پیروی ہے جس کا مقصد و منشاء تصفیہ نفس اور تنقیہ نفس تھا۔ڈاکٹر صاحب نے اس اعتراض کو کہ یہ عزلت نشینی جو آپ ﷺ نےجس وقت اختیار کی تھئ اس وقت آپ ﷺ منصب رسالت پر فائز نہیں تھے کو لغو قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ زندگی جاہل عرب جیسی نہیں تھی بلکہ نبوت و رسالت کی تمہید تھی۔لہذا اس کو جاہلیت سے تعبیر کرنا ازخود جہالت ہے۔

مصنف نے یہاں ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ پر ایک دفعہ وجد کی کیفیت طاری تھی تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو؟ سیدہ عائشہ  صدیقہ نے فرمایا میں عائشہ ہوں ۔آپ نے دریافت فرمایا کون عائشہ ؟ سیدہ عائشہ نے فرمایا ابوبکرؓ کی بیٹی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کون ابوبکرؓ؟ وہ بولیں محمد ﷺ کے دوست۔آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کون محمد ﷺ۔اب سیدہ عائشہ خاموش ہوگئیں کیونکہ انھوں نے جان لیا تھا کہ آپ ﷺ دوسری کیفیت میں ہیں۔ اس حدیث کی میں نے کئی علمإ کرام سے ماخذ کے بارے میں پوچھا مگر تاحال نہیں مل سکا۔مصنف کہتے ہیں کہ اگر یہ حدیث درست ہے تو یہ دلیل ہے کہ رب کریم کی یاد میں بندے پر ایسی منزل آتی ہے کہ وہ اپنے وجود تک کو فراموش کر دیتا ہے اور یہ ہمیں صوفیہ زہاد کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ایسے ہی ایک گروہ اسرٰی اور معراج کے روحانی ہونے کا قائل ہے انہی  کی بات کو مان لیا جائے تو یہ اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ کا تصفیہ قلب اور تنقیہ روح اور اشراق بصیرت اس درجہ مکمل ہو چکا تھا کہ آپﷺ کی روح لطیف ، آسمان اور جہاں چاہے منتقل ہو سکتی تھی وہ تمام عالموں پر محیط تھی اور عالموں کے جملہ حقائق خفیہ اور دقائق غیبیہ آپ ﷺ کی روح پر منکشف تھے۔اسی سے صوفیہ کے مکاشفات،فتوحات و مشاہدات عالم شہادت سے عالم ملکوت و جبروت تک کی بنیاد اور اساس ملتی ہے۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرام میں بھی زہد و ورع اور کشف کا مادہ بدرجہ اتم موجود تھا مصنف اس سلسلے میں چند جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے آپؓ کا فرمایا کرتے تھے کہ
”تقوی کا نتیجہ کرم ہے، یقین ( ایمان) کا غنا اور واضع کا شرف“
آپ ؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے
”جس نے معرفت الہی کا ذائقہ چکھ لیا وہ ماسوا اللہ سے بے پرواہ ہو جاتا ہے لوگوں سے اسے وحشت ہونے لگتی ہے۔“

پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مصنف نے بتایا کہ وہ یاد الہی میں کس قدر غرق رہا کرتے تھے جس سے ان کی روح پاکیزہ اور قلب طہارت سے پُر  تھا۔ایسے ہی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا کہ ان کا زیادہ وقت عبادت اور ریاضت میں بسر ہوتا قرآن کریم کی تلاوت ان کا محبوب مشغلہ تھا جو ان کی شہادت تک جاری رہا۔سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کی زندگی بھی زہد و تقوی سے بھرپور تھی اور  کئی  لوگوں سے آپ کا زہد و ورع بڑھا ہوا تھا۔اس کے بعد اصحاب صفہ کا مقدس گروہ جو کہ رب کریم کی یاد میں ہر وقت مستغرق رہتا جن کو دنیا سے کچھ کھونے کا کوئی  غم نہ تھا۔یہ  تمام  مثالیں اس بات کا وافر ثبوت ہے کہ زہد و تصوف اسلام میں کوئی نئی چیز ہرگز نہیں۔

اسلام کی حیات روحیہ کا مصدر خود اسلام ہے جس کے سب سے بڑے دعویدار خود صوفیاء ہیں،جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا مصدر ہندی تصوف ہے اس کی تائید میں وہ نظری اور عملی مظاہر پیش کرتے ہیں جو کہ اسلامی تصوف اور ہندی تصوف میں مشترک پائے جاتے ہیں یا باہمی مشابہت رکھتے ہیں۔اس بارے ​ میں​ ابو ریحان البیرونی نے بہت کچھ لکھا انھوں نے ہندوؤں کے احوال،عقائد ، علوم اور دینی و فلسفی مسالک کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور ان  کا فلسفہ یونان اور اس کے ساتھ مسلمان صوفیاء کے اقوال وطریق سے تقابل کیا ہے۔البیرونی نے حکماء ہند و یونان اور صوفیہ مسلمین کے درمیان کئی چیزوں کو مماثل قرار دیا جیسے کہ ترک وسائط اور خلع علائق۔۔۔ اس کے بعد ڈاکٹر حلمی لکھتے ہیں کہ ہندومت کے تناسخ کے عقیدے کو وحدت الوجود کے مماثل قرار دے کر سمجھا جانے لگا اور بعض لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ حلول اور وحدت الوجود ایک ہی چیز ہے۔ڈاکٹر مصطفی حلمی کہتے ہیں کہ البیرونی کے نظریہ کی تائید کئی یورپی مستشرقین نے بھی کی جن میں ہارٹن،گولڈزیہر اور اولیری نمایاں ہیں.گولڈ زیہر نے کہا کہ حضرت ابراہیم بن ادھم کی زندگی کا واقعہ کہ انھوں نے بادشاہت اور امارت ترک کرکے فقر و فاقہ کی زندگی​ ​اختیار کی ہو بہو گوتم بدھ کی سوانح زندگی سے ماخوذ ہے۔پروفیسر اولیری کا بھی خیال ہے کہ تصوف میں ترک دنیا،امور دنیا سے بے فکری یہ سب چیزیں بدھ مت کے اثر سے اسلامی تصوف میں داخل ہوئی ہیں۔

مسلہ وحدۃ الوجود پر بات کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ یہ توحید کی ہی ایک شاخ ہے ۔حقیقت صرف ایک ہے البتہ اس کی تعبیریں اور تشریحیں الگ الگ اور جدا جدا ہیں۔ان تعبیروں اور تشریحوں میں تنوع اور تجدد کا جو رنگ نظر آتا ہے صرف اس بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہندو تصوف مطالعہ کی اثر پذیری کا نتیجہ ہے،سو یہ کوئی بات نہیں جس   کو اہمیت دی جائے بلکہ اگر نظر کو ذرا وسعت دی جائے تو یونان کے فلسفہ کی اثر پذیری کا رنگ بھی اس میں جاری و ساری نظر آئے گا۔مسلہ وحدۃ الوجود اور اس تشریح و تعبیر ایک مشکل معاملہ ہے میں اس بارے میں بات کرنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے میں نے مصنف کے لکھے الفاظ پر ہی اکتفا کیا ہے۔
مصنف کہتے ہیں کہ” اسلامی تصوف کے دو دور گزرے ہیں ایک آپ ﷺ کے عہد سے تعلق رکھتا ہے دوسرا وہ جو بعد کے میل جول سے عمل میں آیا۔پہلا دور تو خالص اسلامی ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش نہیں اس عہد کے زہاد کے سامنے تصوف کا جو نمونہ تھا وہ آپ ﷺ کی ذات گرامی  تھی۔اس دور میں یعنی کہ صدر اول میں تصوف اپنے اذواق،مجاہدات،حقائق اور مشاہدات کے اعتبار سے ایک مستقل فن نہیں بنا تھا کبھی اس کو علم تصوف،کبھی علم باطن اور کبھی سلوک و احسان سے یاد کیا جاتا تھا۔بدھ مت اور تصوف کے درمیان گوکہ چند امور پر مماثلت پائی جاتی ہے تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ تصوف بدھ مت سے متاثر ہے کیونکہ فنا یا احساس سے غیبت یا روح کا ادھر سے ادھر انتقال مکانی اگر صوفیہ کے ہاں کوئی درجہ رکھتے ہیں تو بدھ مت میں ان کی کوئی حیثیت نہیں جو کہ تصوف اور بدھ مت میں بنیادی فرق ہے”۔

مصنف یہ بھی کہتے ہیں کہ تصوف اسلامی پر ہندی علوم و افکار کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑھا ہاں اس کے برعکس اسلام نے ضرور اپنے اثرات دوسرے مذاہب اور ان کے علوم پر ڈالے۔کیونکہ عربی زبان میں کتب کے تراجم کے موجد خود مسلمان ہیں،جس زمانے میں یہ علوم د​وسری زبانوں یں منتقل ہورہے تھے اس وقت مسلمان ایک شاندار تہذیب و تمدن اور ناقابل تسخیر دین کے حامل تھے یہ دوسروں سے اتنا حاصل نہیں کرتے تھے جتنا دوسر​وں کی جھولی میں ڈالتے تھے۔اس کے علم کے سرچشمے سے مسلسل فیض حاصل کیا جاتا ہے اور ابتدائی تصوف کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہم کو اس سنت نبوی ﷺ سے مستعار نظر آتا ہے جس میں قسم کی آمیزش نہ تھی۔

ایسے ہی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تصوف اسلامی دراصل فارسی تصوف کا آئنیہ دار ہے ان کا استدلال یہ ہے کہ عرب اور فارس کے درمیان ثقافتی اور دینی تعلقات موجود تھے ،عرب وقتا” فوقتا” فارسی علوم و تصوف سے اپنا دامن بھرتے رہتے تھے مصنف اس بات کو بھی مکمل طور پر رد کرتے ہیں کہ اصل صورتحال اس کے برعکس ہے عربوں نے تہذیبی اور علمی اعتبار سے فارس پر اثر ڈالا جس کے کافی تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں جبکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ عربوں کی تہذیب و علم پر فارس کا کوئی اثر پڑا ہو۔بے شک کئی صوفیائے اسلام جس میں حضرت معروف کرخی،حضرت بایزید بسطامی جیسے جلیل القدر صوفیا پائے جاتے ہیں فارسی تھے اور ان کی اثر افرینی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر اس کے ساتھ کئی اہم صوفیاء جیسے حضرت سیلمان الدرانی عراقی الاصل ،حضرت ذالنون مصری جن کا تصوف میں بڑا نام ہے بلند پایہ صوفی مشرب بزرگ تھے۔مصر،عراق،شام اور حجاز میں کثرت سے صوفیا کی موجودگی اس الزام کی تردید کے لیے کافی ہے۔جبکہ اگر  ہم فارسی مسلم صوفیا کو دیکھیں تو وہ سب سے زیادہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اور شیخ شرف الدین عمر بن  الفارض سے متاثر نظر آتے ہیں اور یہ دونوں خالص عرب تھے جن کی عربیت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔بے شک فارس کے مسلم صوٖفیا نے تصوف اسلامی پر بہت اچھا اور مثبت اثر ڈالا لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے انھوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہی حاصل کیا۔

ایسے ہی تصوف کی بابت ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ نصرانیت سے متاثر ہے دلیل وہ ہی سابقہ پیش کی جاتی ہے جو فارسی اثر کے بارے میں دی جاتی ہے کہ عربوں کے ساتھ عیسائیوں کے گہرے روابط تھے اور کیونکہ عیسائیوں کا علمی پس منظر عربوں سے بہت مضبوط تھا اس لیے اس کے خیالات و افکار کا عربوں پر اثر پڑا۔یہ تعلقات جاہلیت اور اسلام کی آمد کے بعد بھی قائم رہے ،اس نظریے کے حامی کئی مستشرقین جیسے کہ گولڈ زیہر،نکلسن اور اولیری وغیرہ نے بھی وکالت کی کہ تصوف اسلامی کا تعلق رہبانیت سے ہے،اس کے علاوہ مصنف کہتے ہیں ایک اور گروہ بھی یہ ہی نظریہ رکھتا ہے کہ صوٖفیاء کی کتب کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے زیادہ تر اقوال حضرت عیسی علیہ السلام سے مروی ہیں۔مصنف نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے ابو طالب مکی کی کتاب قوت القلوب سے سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک حکایت نقل کی ہے جس میں جہنم کا خوف اور جنت کی طمع کی تعلیم ملتی ہے جب کہ تصوف اسلامی میں حب الہی بنیاد ہے اور لب لباب ہے،جنت کی طلب اور جہنم کا خوف بے شک بہت اہمیت کے حامل ہے مگر تصوف کی بنیاد حب الہی ہے یہ لطیف فرق بہت اہمیت کا حامل ہے جس سے اس نظریے کا رد ہوتا ہے کہ تصوف اسلامی رہبانیت سے ماخوذ ہے۔اسلام کا نظام تصوف اپنی روحانی زندگی،تربیت و تکمیل کے اعتبار سے بالکل الگ اور جدا گانہ ہے۔

میں یہاں ایک اور بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ بالفرض اگر افکار صوفیاء کا ماخذ سیدنا عیسی علیہ السلام کےاقوال ہیں تو یہ کوئی بری بات نہیں بلکہ سیدنا عیسی علیہ السلام ہمارے بھی نبی ہیں اور ان سے منسوب اگر کوئی قول بھی شریعت اسلامی کے خلاف نہ  ہو تو اس کو قبول کرنا چاہیے۔پہلے الزام کے جواب میں مصنف کہتے ہیں کہ اگر جاہلی عرب کے میلان اور فطرت پر نظر ڈالی جائے تو وہاں ہمیں سادہ زندگی کے ساتھ ساتھ تمدنی اور مالی برتری ​موجود نہیں ملتی جبکہ اس کے برعکس عیسائیت میں یہ چیزیں نہیں ملتی،دوسرا عیسائیوں سے متاثر ہو​ئے بغیر جاہلیت میں بنی صوفہ ملتے ہیں جو اپنی زندگی بیت الحرام کے لیے وقف کرچکے تھے اور دنیا سے اپنا ناتہ توڑ چکے تھے،یہاں ایک اور اعتراض جنم لیتا ہے کہ اگراسلامی تصوف نصرانیت سے ماخوذ نا مانا جائے تو جاہلیت کا فیض قرار پائے گا۔اس کے جواب میں مصنف کہتے ہیں کہ جاہل عرب کسی جگہ گوشہ نشین ہو کر سب سے اپنا رشتہ توڑ لیتے تھے اور بتوں سے قرب رکھتے تھے اور انھی کی عبادت کرتے تھے،جبکہ تصوف اسلامی ایسی تمام شرکیہ آمیزشوں سے پاک ہے جس میں تصفیہ نفس پر زور دیا اور ریاضت کے اصول و ضوابط مقرر کیے اور عبادت کے آداب سکھائے اور خدا واحد کی طرف قلوب کو متوجہ کرنا لازم قرار دیا اور دنیا میں رہ کر دنیا سے الگ رہنے کی تعلیم دی۔

ایسے ہی صوف کے لباس بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا کہ یہ خالص نصرانی لباس ہے مصنف کہتے ہیں روایات و اخبار سے یہ بات تصدیق کو پہنچ گئی ہے صوف کا لباس آپ ﷺ کے زمانہ میں عرب عام استعمال کرتے تھے اور خود آپ ﷺ نے بھی اسے استعمال کیا۔ ایسے ہی نصرانیت میں سکوت کو ذکر پر ترجیح ہے جبکہ تصوف میں ذکر کو بہت اہمیت حاصل ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات (سورہ بقرہ آیت نمبر 152 اور سورہ احزاب آیت نمبر 41-43 ) سے واضح ہے۔اس بحث کو سمیٹتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ اسلام کا تصوف اپنا ایک مستقل وجود رکھتا  ہے وہ کسی سے متاثر نہیں اگر اس کی بعض چیزیں نصرانیت سے مماثلت رکھتی ہیں تو یہ اتفاقی ہیں نا کہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ تصوف اس سے متاثر ہے۔

تصوف کے اوپر یونانی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مصطفی حلمی لکھتے ییں کہ یونانی علم و دانش اور فلسفے دنیا کے علوم و روایات پر گہرا اثر ڈالا ہے  مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسلام کا نظام تصوف و روحانیت یونان کے تابع ہے۔ایک اور اہم بات کہ اسلام نے دوسروں کی اچھی باتوں کے قبول کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا ہے۔صدر اول کے تصوف میں دوسرے خیالات کی آمیزش نہیں تھی بعد میں جب حالات بدلے اورر تصوف نے ایک مستقل علمی حیثیت اختیار کی تو اس پر فلسفے کا اثر پڑا۔اس زمانہ میں اس کی ضرورت بھی تھی کہ علمی طور پر ریاضت،مجاہدات،سعادت نفس اور نجات روح کے مسائل حل کیے جائیں۔یونان کے فلاسفہ میں افلاطون کے فلسفے کو مسلمانوں نے کافی دلچسپی سے دیکھا،اس نے کہا تھا کہ حقیقت اعلیٰ تک رسائی فکر اور عقل کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتی اس کے لیے مشاہدہ اور حضور نفس بھی ضروری ہے۔بالکل یہ ہی نظریہ صوفیائے اسلام کا ہے کہ حقیقت کی معرفت حس اور عقل سے نہیں ہو سکتی اس کے حصول کے لیے وہ نور ضروری ہے جو اللہ تعالی خود اپنی مرضی سے بندہ کے دل میں ڈالتا ہے نور کی یہ تجلی تب حاصل ہوتی ہے جب وہ نفس کی آلائشوں سے پاک ہوتا ہے۔ صوٖفیاء نے اس اصول کو بہت زیادہ اپنایا اور اپنے سامنے یہ حدیث رکھی کہ
“جس نے اپنے نفس  کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا”
اس حدیث کے بھی مستند ہونے کے بارے میں کلام پایا جاتا ہے

مصنف کہتے ہیں کہ صوٖفیا کا نظریہ وحدۃ الوجود درحقیقت ایک فلسفیانہ مسئلہ  ہے اس میں افلاطونی موثرات کافی حد تک پائے  جاتے  ہیں۔اس عقیدہ کی رو سے اللہ تعالی کا پہلا فیض عقل اول  ہے۔اسی  پر تمام موجودات کا مرکز کارفرما ہے۔اسی سے اللہ تعالی کےسوا تمام فیوض برآمد ہوتے ہیں،یہ نظریہ شیخ اکبر کی صورت میں ہمیں نظر آتا ہے۔جیسے جیسے مسلمان فلسفہ سے قریب آتے گئے،ان کے تصوف میں فلسفہ کا رنگ بڑھنے لگا،یہاں تک کہ اپنے مشاہدہ و وجدان اور خیال کے اظہار و دانش تک کے لیے انھوں نے فلسفیانہ مصطلحات استعمال بھی کیے اور ایجاد بھی کیے۔جن میں اہم اصطلاحات جیسے کہ حقیقت،کلمہ،علت و معلول،وحدت و کثرت ،عقل اول وغیرہ خالص فلسفیانہ ہیں۔اس کے وہ معنی و مفہوم مراد نہیں جو ظاہر الفاظ سے سمجھ آتے ہیں۔ ڈاکٹر حلمی لکھتے ہیں کہ اسلامی تصوف کے آخری دور پر یونانی فلسفہ عام طور پر اور افلاطونی فلسفے کا خاص طور پر بہت گہرا اثر پڑا مگر صدر اول کا اسلامی تصوف کسی درجہ میں بھی یونانی فلسفہ سے متاثر تھا۔

ڈاکٹر حلمی ایک دفعہ پھر بہت زور دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ جیسے اسلام کی اصل آمیزش و اشتراک سے پاک ہے ایسے ہی اس کا تصوف بھی اپنی انفرادیت میں یگانہ اور ممتاز ہے۔اس کا پیام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس دنیا کے پیدا کرنے والے سے زیادہ سے زیادہ لو لگائی جائے،جاہ و دنیا میں کم سے کم توجہ دی جائے۔
پہلی دو صدیوں میں  کوئی  مربوط اور مرتب نظام تصوف موجود نہیں تھا ،نہ ہی عبادت و ریاضت کا کوئی ایسا علمی نظام تھا اس وقت ہر چیز دین سے وابستہ تھی اور اس میں سب برابر کے شریک تھے مگر یہ صورت صرف عبادت اور عبادت کے ظاہری اشغال تک محدود تھی روحانیت کے ارتقاء اور فروغ کے لیے نظام موجود تھا۔پہلی اور دوسری صدی​ ​میں دو طرح کے مکاتب خیال تصوف سے متعلق تھے جن کو مصنف نے مدرسہ کوفہ اور مدرسہ بصرہ کے نام سے ذکر کیا ہے جہاں پر فقہ،حدیث،علم الکلام سے زیادہ ریاضت قلب،مجاہدہ نفس اور روح کی صفائی پر توجہ دی جاتی تھی۔ ان میں سے کوفہ کے مدرسے کے بارے میں ڈاکٹر مصطفی پروفیسر ماسینیون کے حوالے سے لکھتے ہیں یہ مدرسہ شعیہ شیوخ کی سربراہی میں کام کر رہا تھا ساتھ ہی اس میں مرجیہ عقائد رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے،اس مدرسہ کے اہم شیوخ میں ربیع بن خثم،جابر بن حیان،منصور بن عمار قابل ذکر ہیں۔جبکہ بصرہ کا مدرسہ جہاں پر منطق و نحو اور حدیث کے نقد و تمحیص کو بھی پیش نظر رکھا جاتا تھا،یہ مدرسہ اہل سنت کے اصول پر تھا،مگر یہاں پر معتزلی اور قدری عناصر بھی پائے جاتے تھے،یہاں کے شیوخ میں سے حسن بصری، مالک بن دینار،فضل الرقاشی،عبدالواحد بن زید قابل ذکر ہیں۔اس وقت کوفہ اور بصرہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی شیوخ زہد پیدا ہو رہے تھے جیسے خراسان میں جناب ابراہیم بن ادھم،شفیق بلخی وغیرہ۔یہ دور اول کے چند نمایاں نام ہیں ان کے بعد آنے والے جو صوفیہ کے نام سے ملقب ہوئے وہ اس ہی شجر کی شاخیں اور ٹہنیاں تھیں جس کی مضبوط جڑ آپ ﷺ کی حیات کے چشمہ نور سے سیراب ہو کر مستحکم ہوئی،صحابہ کرام کی حیات سے اس کی شاخیں فیض یاب ہوئیں۔

اول دور کے تصوف کے بنیادی اجزاء یہ تھے
1.ترک دنیا،لیکن دنیا میں رہ کر
2. حب دنیا سے نفرت
3. یاد الہی
4. توکل
5. اللہ کا خوف
6. ذات حق اور ذات خود کے مابین فکر دائم
7. معرفت نفس کے لیے تفحص کامل۔

حضرت حسن بصری کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ ان کا زہد صرف صفائے قلب،مجاہدہ اور ریاضت تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ فکر و تامل اور تنقیہ کردار پر بھی زور دیتے تھے۔ان کا زہد عبارت تھا حزن و دائم سے ان کی آنکھیں ہر وقت پُر  پرنم رہتی تھیں۔ان کے بارے میں علامہ شعرانی نے لکھا ہے کہ ان پر خوف خدا کی ایسی خشیت طاری رہتی تھی کہ گویا جہنم کی آگ صرف انہی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ امام حسن بصری کا اپنا قول بھی مصنف نے لکھا ہے کہ “جو شخص یہ جانتا ہے کہ موت آ کر رہے گی،جو یہ جانتا ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی،جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اسے بہرحال ایک نہ ایک دن خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے،وہ خوش کس طرح رہ سکتا ہے؟ اس کے حزن و الم کی کیفیت تو برابر بڑھتی ہی چلی جائے گی”۔ مصنف کہتے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ زہد و ریاضت میں نظریہ خوف و الم کے بانی امام حسن بصری تھے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ خوارج کا طبقہ زہاد اور امام حسن بصری کے زہد میں کسی حد تک مماثلت ہے یہ مماثلت و مشابہت زیادہ تر زہد اور خوف کے مسئلہ میں ہیں حالانکہ امام حسن بصری اور خوارج کے مابین فکر و عقائد کے لحاظ سے سنگین اختلاف رکھتے تھے۔ ا

ایسے ہی زہد میں محبت کی آمیزش بھی ایک اصول ہے جو کہ حضرت رابعہ بصری کی ایجاد ہے۔اس حب الہی سے مراد یہ نہیں کہ خشیت الہی کافور ہوجائے،اپنی جگہ پر وہ بھی موجود ہے خود حضرت رابعہ کی زندگی کے آثار و عناصر بکثرت نظر آتے ہیں۔لیکن جنت کے لالچ اور جہنم کے خوف کے ماسوا ایک اور جذبہ ان کے اندر بڑی شدت سے کام کر رہا تھا اور یہ حب الہی کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔ ان کے اس سلسلے میں کچھ اشعار جو مصنف نے نقل کیے ہیں ان کا ترجمہ ملاحظہ ہوں۔
“میں تجھ سے محبت کرتی ہوں۔
دو طرح کی محبت
ایک محبت ہے آرزو اور تمنا کی
اور دوسری ہے،صرف تیری ذات کی
میری وہ محبت جو آرزو اور تمنا سے معمور ہے
وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی
لیکن وہ محبت جو صرف تیری ذات سے ہے
تو اسی کا واسطہ،تو حجاب دور کردے،تاکہ آنکھیں تیرا جلوہ دیکھ سکیں۔”

ایسے ہی حضرت رابعہ بصری نفس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

” اے نفس
تو اللہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے
حالانکہ تو اس کی نافرمانی بھی کرتا ہے
اس سے بڑھ کر بھی کوئی عجیب اور نادر بات ہو سکتی ہے؟
اگر تیری محبت صادق ہے
تو،تو اپنے رب کی اطاعت کر
کیونکہ محبت کرنے والا
جس سے محبت کرتا ہے
اس کی اطاعت ضرور کرتا ہے”

ایسے ہی اپنی مناجات میں رب سے مخاطب ہو کر ایک بات بہت زور سے کرتی نظر آتی ہیں کہ وہ رب کریم کی عبادت جنت کی طلب یا جہنم کے خوف سے نہیں کرتی بلکہ میری عبادت کی بنیاد اپنے معبود سے محبت ہے۔رابعہ بصری کی ان مناجات سے محبت الہی کا اصول تصوف کا حصہ بن گیا۔

یہ پہلی صدی کے حالات تھے جب تصوف ایک انسٹی ٹیوشن کے طور پر مرتب نہیں ہوا تھا دوسری صدی ہجری میں یہ منظم و مرتب ہوا اور اس نے زیادہ استحکام اور ثبات حاصل کیا اور وقت کے زہاد،عباد،نساک ایک ہی نام سے یاد کیے جانے لگے اور یہ نام تھا صوفی۔

یہاں پر مصنف علامہ ابن خلدون کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تصوف کا شمار درحقیقت علوم شرعیہ میں ہی ہونا چاہیے،اگرچہ اس نے ملت اسلامیہ میں ایک نیا روپ اختیار کر لیا،کیونکہ اس کی اصل وہی ہے جو سلف صالحین کی تھی۔ مصنف کہتے ہیں کہ صوفی کا نام دوسری صدی ہجری میں کثرت سے استعمال ہوا کیونکہ اس سے پہلے زہاد اور عباد کا نام زیادہ معروف تھا۔ لفظ “صوفی” کے بارے میں ڈاکٹر حلمی کہتے ہیں کہ یہ تاریخی طور پر سب سے پہلے ابو ہاشم کوفی جن کی وفات 150 ہجری کی ہے نے استعمال کیا تھا وہ کوفہ کے متوطن تھے مگر ان کی زندگی کا بڑا حصہ شام میں گزرا،ان کی زندگی آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے بہت متاثر تھی۔ البیرونی کا کہنا ہے کہ “سوف” کے معنی یونانی زبان میں حکمت کے ہیں یونان کے ایک فلسفی کا نام “پیلا سوفا” یعنی “حکمت دوست” ہے۔اس رائے کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے مسلمان جب دوسرے علوم بالخصوص یونانی علوم سے آشنا ہوئے تو انھوں نے یہ لفظ لے لیا جو عربی میں آکر “صوف” بن گیا اور جو لوگ اس مفہوم تک نہیں پہنچ سکے انھوں نے اس کی نسبت “اصحاب صفہ” سے کر دی۔

صوفی کی تعریف میں چند صوفیاء کے اقوال پیش کیے گئے ہیں جن میں سے دو تین قول میں بھی نقل کرتا ہوں۔ حضرت بشر بن حافی کہتے ہیں
” صوفی وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کے لیے اپنے قلب کو تمام کثافتوں سے پاک کرلے،بس وہی اصل اور کھرا صوفی ہے”
جناب سہل بن عبداللہ کا ارشاد ہے
“صوفی وہ ہے جو گندگی سے پاک و صاف ہو،جس کا سینہ فکر و تامل کا گنجینہ ہو،جو مخلوق سے رشتہ قطع کرکے خالق کا ہو رہے،جس کے نزدیک سونا اور کنکر برابر ہو”
حضرت معروف کرخی
“تصوف کے معنی ہیں حقائق کا حاصل کرنا۔مخلوق کے ہاتھ میں از قبیل لفائم و اقتدار جو کچھ ہے اس سے یکسر روگرداں ہو جانا”
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں
“تصوف یہ ہے کہ حق تجھے تیرے وجود سے الگ کرکے ہلاک کردے اور پھر جو زندگی وہ تجھے دے،وہ صرف اسی کے لیے ہو”
ان مختلف تعریفوں میں کہیں بھی ایسی بات نظر نہیں آتی جو اسلام کے اصولوں سے ٹکراتی ہو بلکہ تصفیہ قلب،معرفت حقائق،کالق کا قرب اور حق پر استقامت تمام ایسی صفات ہیں جو اسلام کی مطلوب ہیں۔​دور حاضر کے معروف صوفی دانشور سید سرفراز شاہ صاحب کی بھی تصوف پر رائے نقل کرنا فائدہ سے خالی نہیں،وہ فرماتے ہیں
” بدقسمتی سے عام آدمی تصوف کے بارے میں بڑے غلط تصورات لیے بیٹھا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ تصوف کی بدولت انسان ماورائی  فطرت قوتوں کا مالک ہو جاتا ہے۔حالانکہ یہ تصوف نہیں مداری پن اور شعبدہ بازی ہے۔تصوف تو یہ ہے کہ انسان تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے آپ کو شریعت کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے تیار کرنے لگے۔ “(لوح فقیر)
جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تاریخ تصوف از ڈاکٹر مصطفی حلمی مصری پر ایک نظر ۔۔راجہ قاسم محمود/ حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *