سرائیکی کلچر:پاکستان کا ایک خوبصورت رنگ

سرائیکی کلچر پاکستان کے ثقافتی منظر نامے پر ایک نمایاں اور خوبصورت رنگ ہے۔سرائیکی ثقافت کا مسکن دریائے ستلج کے کناروں سے کوہ سلیمان کی چوٹیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تاریخ چالیس ہزارسال پرانی تہذیب انڈس سویلائزیشن سے جڑی ہے۔سرائیکی ثقافت کا نمایاں رنگ ملتان،ڈیرہ غازی خان،بہاولپور،میانوالی اورخوشاب کےسرسبزو شاداب خطے پر محیط ہےجبکہ پورے پاکستان اور دنیا میں سرائیکی بولنے والے اپنی میٹھی زبان،خوش اخلاقی اورسادگی کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔برصغیر میں جب اسلام کی آمد ہوئی تو اسلام سندھ باب الاسلام سےسرائیکی خطے کی زمینوں کو سیراب کرتا ہوا پنجاب میں وارد ہوا۔اس خطے کی ننانوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔اکثریتی مسلک سنی جبکہ شیعہ بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔باہمی سلوک اور محبت کی وجہ سےسرائیکی خطہ خاصا پرامن اور دہشتگردی و فسادات سے پاک ہے۔
سرائیکی ثقافت میں صوفیاء کا کردار بہت نمایاں رہاہے۔ملتان کو ولیوں کا شہر کہا جاتا ھے۔شاہ رکن الدین عالم،شاہ یوسف گردیز،شاہ شمس تبریز اوربہاالدین زکریا سہروردی،سیداحمدسعید کاظمی (رحمھم اللہ اجمعین)چند مشہور صوفیاء ہیں جن کے مزارات ملتان میں ہیں۔اس کے علاوہ خواجہ سلیمان تونسوی(تونسہ شریف)،سید امام علی شاہ(لودھراں)،خواجہ ابوبکر وراق(میلسی)،خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف)تصوف کے چند مشہور نام ہیں جنکا تعلق سرائیکی خطہ سےہے۔
سرائیکی زبان ہندی آریائی زبانوں کے قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے جس کا رسم الخط عربی فارسی طرز کا ہے۔سرائیکی زبان پاکستان کی سٹینڈرڈائزڈ زبانوں میں سے ایک ہےاور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں ایک شعبہ سرائیکی زبان کی ترویج و تعلیم کے لئے مختص ہے۔سرائیکی زبان میں ایم-اے سے پی ایچ ڈی تک تحقیق کروائی جاتی ہے،سرائیکی زبان میں موجود ادب زیادہ تر شاعری کی صورت میں ہے۔جدید سرائیکی ادب میں شاکر شجاع آبادی ایک بڑا نام ہے۔سرائیکی موسیقاروں میں عطاءاللہ عیسٰی خیلوی،اللہ دتہ لونے والا، کوثرجاپانی،پٹھانے خاں،عابدہ پروین،طالب حسین درد اور نعیم ہزارہ بڑے نام ہیں۔
سرائیکی خطہ کے لوگ عموما شلوار قمیص پہنتے ہیں جبکہ کچھ مرد لونگی اور تہبند باندھتے ہیں۔سر پر پگڑی یا پٹکا رکھنا شرافت و بزرگی کی علامت ہے۔عورتیں شلوار قمیص پہنتی ہیں اور سر کو بھوچنڑ یا چنی سے ڈھانپتی ہیں۔سرائیکی کھیلوں میں گلی ڈنڈہ،پٹھوگرام،چھپن چھپائی اور باندرکلا مشہور ہیں۔شادیوں پر جاگے،مہندی اور جھومر کا رواج ہے جو کہ اس خطے کے لوگوں کی زندہ دلی کی پہچان ہے۔ڈھول کی تھاپ پر ناچتے جوان زندگی کا مزہ دوبالا کر دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمیشہ سرائیکی خطے کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کاموں سے محروم رکھا گیا۔تخت لاہور کے والیان نے کبھی اچ شریف اور کوہ سلیمان کے گردونواح میں تعلیم،صحت اورصاف پانی کو ترستی عوام کی شنوائی نہیں کی جبکہ لاہور میں میٹرو ٹرین اور اورنج لائن کے منصوبے جاری ہیں۔وسائل کی غیرمساوی تقسیم سے تنگ آکر سرائیکی خطے سے انقلابی و احتجاجی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جو اب رفتہ رفتہ ایوان کی بحثوں کا حصہ بن رہی ہیں۔دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے مگر مجھے سرائیکی علاقے کے زندہ دل اور محنتی لوگوں کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *