اورنج ٹرین تکمیلی مراحل میں۔۔راحیلہ خان

لاہور میں رِنگ روڈ کا افتتاح ہوچکا ۔ اورنج ٹرین چلنے والی ہے عنقریب۔ سوال یہ ہے کہ رنگ روڈ کے مطلوبہ نتائج سامنے آئے؟ اورنج ٹرین کیا موجودہ حالات کے پیشِ نظر ضرورت نہیں؟ میٹرو پہلے ہی چل رہی ہے، لوگوں نے بہت تنقید کی مخالف سیاسی جماعتوں نےطرح طرح کے نعرے ایجاد کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنان ،ووٹرزکو بہتر معیار زندگی تو نہ فراہم کر سکے البتہ شروع ہوئے منصوبوں کے ناکام  کرنے کے لیے  عجیب و غریب منطق پیش کرتے رہے ۔ جیسے سڑکوں کے بجائے تعلیم عام کرو ۔ فلائی اوور اور انڈرپاس سے جہالت کم نہیں ہوگی ۔ موٹر وے پر لوگوں نے بہت شور مچایا تھا کِسی زمانے میں۔۔ لیکن جو بھی لاہور سے باہر ہے وہ لاہور کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا۔۔ ہر بارسفر کرتے ہوئے آرام و سکون محسوس کرنے کے بعد خوشی کا عنصر غالب آجاتا ہے کہ شکر ہے جہاں آمدورفت آسان ہوئی وہیں کاروبار میں اِضافہ بھی ہوا اور ملازمت کے مواقع بھی بڑھے۔

بات یہ ہے کہ  مجھے اپنے گھر میں بنیادی ضرویات میسر ہونی چاہییں ۔ مجھے نہیں معلوم بجلی کِیسے بَنتی ہے ۔۔پانی کہاں سے آتا ہے اور گیس کی لائنیں کِیسے بِچھائی جاتی ہیں۔ میں ووٹ کاسٹ کرتی ہوں اور میں انہی  ضروریات کی تکمیل کے لئے ہر طرح کے قوانین پر عمل کرتی ہوں۔ اِسی طرح میں گھر سے باہر جاؤں مجھے  تو وہ تمام سہولیات میسر ہونی چاہییں  جس کی میں  بطور شہری حقدار ہوں ۔ میں سفر کروں تو خود کو محفوظ سمجھوں۔اگر   میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا چاہتی ہوں تو مجھے معیاری ٹرانسپورٹ کیوں نہ ملے۔ مجھے راستے میں کچرا کیوں نظر آتا ہے جب میں میونسپل کارپوریشن والوں کو باقائدگی سے ادائیگی کرتی ہوں۔ جب میں بل ادا کرتی  ہوں کیوں بجلی گیس اور سیوریج میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔؟سڑکیں  کیوں جگہ  جگہ سے ٹوٹی  ہیں اور کیوں تعمیراتی وجوہات کی بنا پر مجھے مشکل سے گزرنا پڑتا ہے۔

اس بابت میں سوال کرنے کی مجاز ہوں ۔ میں کِسے شکایت کروں کہاں لائن میں لگوں؟۔ یہ معلومات فراہم کرنا ان نمائندوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ  داری ہے۔یہ ان کا کام ہے۔!

مجھے صرف پوچھنا ہے، سوال کرنا ہے اور جواب طلبی کے لئے درخواست دینی ہے ۔ متعلقہ ادارے کا ملازم مجھے جوابدہ  ہے؟ اسے   میری شکایت کو درج کرنا اور مسئلے کو حل کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔ یہ سوچ ہر اس شخص کی ہونی چاہیےجو محنت مشقت کرکے اپنے ملک میں ہی بے سکونی کا شکار ہے۔ کسے اپنا شہر لاہور جیسا نہیں چاہیے؟ کون ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہو گا؟ یقیناً میں اور آپ  تو کیا ، کوئی بھی نہیں ۔۔چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو اور کسی بھی رنگ و نسل کا ہو ۔وہ ہرگز اپنے حق پر کمپرومائز نہیں کرے گا۔ یہ عوام کا حق ہے۔ یہ اس شہری کا حق ہے جو اپنے قیمتی ووٹ سے نمائندے کا انتخاب کرتا ہے۔ اس پر یقین کرکے ووٹ کاسٹ کرنے کی تکلیف اٹھاتا ہے۔ جدید دور کی تمام سہولیات کو عوام تک پہنچانا ان نمائندوں کی  ذمہ داری ہے ،  ان نمائندوں کا فرض ہے کہ  بہتر منصوبہ بندی کریں بہترین پالیسی اپنائیں اور عوام میں اپنا امیج بہتر بنانے کے لئے ان پالیسیز پر عمل درآمد کو یقنی بنائیں !

آپ کو اپنا معیار زندگی خود بہتر بنانا ہے ۔ ایک لمحے کے لئے سوچیے۔کیا نمائندوں کی شکلیں دیکھنے  کے لئے ان کو  منتخب کیا جاتا ہے؟ان کے اور ان کے معاشقوں پر تبصرہ کرنے اور وقت گزاری کے لئے  منتخب جاتا ہے؟ ان کے بنک بیلنس اور جائیدادوں کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں وقت ضائع کرنے کے لئے منتخب کیا جاتا ہے؟ یا پھر زبان رنگ و نسل کو مقدم رکھ کر اپنے لئے اپنا ہم زبان، ہم نسل حاکم تلاشا جاتا ہے  کہ کوئی اور حکومت کرے تو اس سے بہتر اپنی برادری کا شخص ہمیں غلام بنائے ۔۔۔ پیسہ کسی اور کی جیب میں نہ  جائے اس لئے اپنے فرقہ اور ہم زبانوں کو ہی کھانے کو دیا جائے۔۔ کیا یہ سب اتنا اہم ہے؟ کیا آپ کو بار بار اس دنیا میں آنا ہے یا پھر وقت کی رفتار آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ گزرا ہوا وقت آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟

مسئلہ  یہ ہےکہ ان ٹولوں نےاپنے مفادات کو مقدم رکھا ہے ۔ اپنےعیش و عشرت اور آرام و آسائش کو بے شمار لوگوں کی ضروریات پر ترجیح دی ہے ۔ ان پر اپنا تسلط قائم کرکے راج کرنا اور ان کے خون پسینے کی کمائی کو اپنا حق سمجھ کر لوٹا ہے۔ مذہبی ٹولے من پسند فرقوں میں عوام کی درجہ بندی کرتے ہیں ۔ انہیں مشتعل کرتے ہیں مذہب کو بنیاد بنا کر انتہاپسندی کو ہوا دیتے ہیں جبکہ دین رواداری، امن اور بھائی چارے کےفروغ  کا درس دیتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ غیر مسلم کو بھی دعوت دیں ایک پلیٹ فارم مہیا کریں اور ملک میں بدامنی سے نجات اور ملکی فلاح و بہبود کے لئے سر جوڑ کر کچھ حل نکالیں ۔ ہر ہر سیاسی ٹولے نے اپنی ایک ”فورس“ تیار کر لی ہے جو انہیں بچانے کےلئے ہر جگہ ا ن کی ایک کال پر پہنچ جاتی ہے اور ان کے سر آپس میں لڑ مر کر اپنے اور اپنی نسل کے مستقبل سے بےفکر ہوکر وقتی فائدے کے لئے ان کا دفاع کرتے ہیں ۔

عوام کاحق ہے   کہ وہاں مطالبہ کرے ۔اپنی ضروریات کو اہم جانے۔ اپنے مسائل کا حل ان کے نزدیک پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ اپنا اور بچوں کا مستقبل  محفوظ  کرنے کے لئے ضمانت طلب کرے ۔سوال کرے! لیکن یہاں الٹا حسا ب ہے  ، عوام سے جواب مانگا جاتا ہے  اور اپنے مفاد کے لئے انہیں قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے ۔ آپ کو گھر میں وہ کون سی سہولیات میسر ہیں جس بنا پر آپ مطمئن ہو کر ووٹ کاسٹ کرنے جاتے ہیں ؟ گھر سے نکلتے ہوئے آپ خود کوکتنی عزت دیتے ہیں؟ کیا مطلوبہ معیار زندگی آپ کو میسر ہے؟ آپ کی ایک ،دو،تین کتنی تعداد کی شکایات پر ملحقہ ادارے نوٹس لیتے ہیں؟ عزت دیجیے خود کو ۔۔۔ اپنے آپ کو  محفوظ کیجیے۔ اپنے مستقبل کو محفوظ کیجیے۔ ذات پات فرقہ نسل پرستی اور مذہب کی بنیاد پر نمائندوں کا انتخا ب آپ کی زندگی کے وہ قیمتی ماہ و سال نہیں لوٹا سکتے  جو آپی نےتکلیف کی نذر کیے۔ آپ کو بنیادی ضروریات تک دسترس آسان اور یقینی  بنانے کے لئے ووٹ کرنا ہے۔ آپ کو مسائل کا حل چاہیے، آپ کو اپنا مستقبل محفوظ چاہیے، یہی آپ کی ترجیح  ہونی چاہیے۔ اس کو ووٹ  کیجیے  جس نے اپنے وعدے 100% نا سہی لیکن کسی حد تک  تو پورے کیے ہوں ۔ اس کا اندازہ آ پ کو ناصرف گھر میں رہ کرہوسکتا ہے بلکہ گھر سے قدم باہر رکھتے ہی محسوس ہونا چاہیے ، جمہوریت میں حکمران عوام ہوتی ہے ۔ عوام کے پاس حق ہوتا ہے  حکمران چننے  کا۔ مطالبات منوانے کا اور سوال کرنے کا  ! حکمران بنیں ،غلام نہیں اور حکمران بننے کے لئے ایک قوم بنیں !

Avatar
راحیله خان
بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *