“چارلس بکاؤسکی کو کیوں پڑھنا چاہۓ!” حسن کرتار

اگر آپ اردو شعراء اور ادیبوں کے سطحی گہرے غموں، شکوؤں ، نالوں ، سطحی خود پسندی، انقلابی نظموں اور ایک جیسے خیالات سے سخت اکتاۓ ہوۓ ہیں تو یقینا ً آپ کو چارلس بکاؤسکی کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ گو چارلس بکاؤسکی نے بھی ہر عظیم شرابی رائٹر کی طرح بے تحاشہ لکھا مگر کچھ چیزیں اتنی کمال لکھیں کہ ان کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔

یہی وجہ ہے کہ آج انٹرنیٹ پہ آپ پوری دنیا میں سب سے زیادہ کوٹ کیے جانے والے ادیب ہیں۔ “ہر کوئی اسٹائل نہیں اپنا سکتا۔ نہ ہر کسی میں اسٹائل ہوتا ہے۔ میں نے بہت سارے کتے دیکھے جو مردوں سے زیادہ اسٹائلش تھے۔ گو کتوں میں کوئی اسٹائل نہیں ہوتا۔ بلیاں بے حد اسٹائلش ہوتی ہیں۔” “مجھے پندرہ سال لگے شاعری کو انسان بنانے میں۔ مگر انسانوں کو انسان بنانے کے لیے مجھ سے کچھ زیادہ درکار ہے!”

اس طرح کی نہ جانے اور کتنی باتیں ہیں جو نہ پہلے پڑھی گئیں نہ سنی گئیں۔ میں اپنی امریکن دوست کا سخت شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے اتنے منفرد فنکار سے ملاقات ہوئی۔ فرسٹ کمنٹ میں چارلس بکاؤسکی کے خیالات پر ایک اور مختصر وڈیو شئیر کی جا رہی ہے۔ آرٹسٹ ، پاکستانی رائٹرز، سوشل میڈیا بلاگرز اور صحافی جو سائبر اینگزائٹی کا شکار ہونے کی وجہ سے دن میں ہزار فضول باتیں کیے  بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس وڈیو میں بیان کیے گئے خیالات سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اگر سیکھنا چاہیں تو!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *