جموں کشمیر – تاریخ, مسئلہ, حقیقت اور حل ۔۔ بلال شوکت آزاد

کشمیر کی تاریخ 5000 ہزار سالہ ہے ۔اس رو سے کشمیری 5000 ہزار سال پرانی قوم, نسل اور تہذیب ہے۔ہم قوم پرست نہیں وطن پرست ہیں ۔ہمیں آزادی سے پیار ہے ہم غلام نہیں ۔کشمیر ایک الگ ملک ہے جو ریاست جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان سے مل کر ایک اکائی پر مشتمل ہے  پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے فوجیں نکالے پہلے اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی ہے تو ۔جب پاکستان ہمیں آزادی دیدےگا تب ہم بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جنگ لڑیں گے ۔اگر پاکستان کے انخلاء کے بعد بھارت نے ہم پر حملہ کیا تو ہم خود اپنا دفاع کرلیں گے بغیر غیر ملکی مداخلت اور مدد کے ۔کشمیر بجلی میں خودکفیل ملک ہوگا،کشمیر کا زعفران, ڈل جھیل, دیار اور سیاحتی ذر مبادلہ وغیرہ وغیرہ ہماری سات نسلوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں ۔ہم پہلے کشمیری ہیں پھر مسلمان کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد کشمیری تو بہرحال تھے لیکن مسلمان نہیں اس لیے اسلام کی وحدت ہم پر اپلائی نہیں ہوتی ۔جب تک چین, بھارت اور پاکستان کے مقبوضہ کشمیری حصے مل کر اکائی نہیں بنتے ریاست ہائے جموں اور کشمیر کے نام سے تب تک ہماری جدو جہد جاری رہے گی ۔اور ہاں جب کشمیر بشمول گلگت بلتستان بھی ہمارا ہوگا تو سی پیک میں سب سے تگڑا حصہ ہمارا ہی ہوگا تو کشمیر کا ہر فرد خودکفیل ہوگا ۔

اسی طرح کے اور بھی کئی بچگانہ دلائل, استدلال اور بیانات ہیں جو کشمیر کے کٹر قوم پرست بڑی معصومیت سے بیان کرتے ہوئے اور ان ہی جملہ نظریات کی تشہیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔میں نے آزادی اور حریت کے نظریات کی آڑ میں پنپتی اور اپنے انجام کو پہنچتی ہوئی کئی تحاریک کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا تاریخ اور حالات حاضرہ سے لیکن اس سے بھونڈی اور لغو نظریات کی حامل تحریک میرے مشاہدے اور مطالعے سے نہیں گزری۔اگر میرے مشاہدے اور مطالعے کی روشنی اور تحقیقی نتیجے کی روشنی میں یہ کشمیر بلخصوص آزاد کشمیر میں مچی ہوئی ہڑبھونگ تحریک اور نظریہ نہیں تو کیا ہے؟

یقیناً یہ سوال آپ کے اذہان میں آیا ہوگا اور آنا بھی چاہیے کہ اگر یہ سب نظریہ خودمختاری اور تحریک آزادی کوئی تحریک نہیں تو دراصل ہے کیا؟۔۔۔

جی جی میں اسی طرف آرہا ہوں۔یاد رکھیں تاریخ میں ہمیشہ نظریاتی ہلچل اور انقلاب دو ہی ناموں سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔تحریک آزادی یا انقلابی تحریک ۔۔اور سازش یا تخریبی تحریک ۔۔اس وقت ریاست جموں کشمیر میں یہ دونوں ہی برپا ہیں۔

تحریک آزادی کی جو مثبت تحریک برپا ہے وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہے جس کو بھارت پاکستان سے جوڑتا ہے اور عالمی فورمز پر ببانگ دہل پروپیگنڈا کرتا ہے کہ پاکستان دراندازی کرتا ہے, ہتھیار بند مسلح تحریک کو ہر طرح کی سپورٹ کرتا ہے اور دراصل پاکستان خطے میں امن کو داؤ پر لگا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔

دوسری طرف تحریک آزادی المعروف خودمختاری کی جو منفی اور تخریبی تحریک برپا ہے وہ آزاد کشمیر کے نام سے پاکستان میں موجود اور ملحق ریاست ہے۔جس میں بھارت پوری طرح ملوث ہے لیکن پاکستان ایسی کسی سازش کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی عالمی فورم پر پروپیگیٹ نہیں کرتا۔

جی ہاں خودمختاری اور علیحدگی کی اس تحریک کو میں سازش کہہ رہا ہوں تو یقیناً میرے پاس مضبوط دلائل بھی ہیں کہ کیوں یہ خودمختاری کی قوم پرست تحریک صرف تحریک نہیں بلکہ ایک گہری اور طویل سازش ہے جو راتوں رات تیار نہیں ہوئی۔

اس سازش کی تاریخی حیثیت اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس قوم پرست تحریک کی ہے۔

چلیں ذرا اس کو سمجھیں کہ پہلے ڈوگرا راجا نے اعلانیہ خودمختاری کا عندیہ لیکن درپردہ وہ بھارت سے کشمیر کا سودا کر چکا تھا۔

دوسری طرف کشمیری عوام کی الحاق پاکستان کی خواہش کو نظر انداز کیا گیا تو اولاً مقامی کشمیری حریت پسندوں نے مقدور بھر مسلح کاروائیوں سے بغاوت کی جبکہ قبائلی پاکستانیوں کے لشکر کشمیری عوام کی مدد کی غرض سے کشمیر کے جبراً الحاق کو روندتے ہوئے گلگت بلتستان کو آزاد کراتے ہوئے جموں و کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کراسکے اور مزید بھی کرالیتے لیکن راجہ ہری سنگھ ڈوگرا نے حالات اپنے خلاف ہوتے دیکھ کر فوراً بھارتی حکومت کو فوجی مداخلت کی اجازت دیدی جو کہ کاغذی کارروائی ہی تھی جبکہ بھارت اور مہاراجے کے درمیان معاملات پہلے ہی طے پاچکے تھے۔بھارت کی مداخلت نے دونوں نوزائیدہ ریاستوں میں جنگ کا ماحول بنادیا اور تاریخ کی ایک ایسی لمبی اور لاحاصل جنگ اور مسئلہ اور متنازعہ علاقے کی بنیاد رکھ دی جو اب تک سلگ رہے ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ جواہر لال نہرو دباؤ میں آکر یا کسی امن کی خواہش کے بل بوتے پر اقوام متحدہ میں لیکر نہیں گیا بلکہ یہاں ہندو کی ازلی مکاری اور چانکیائی سیاست کارفرما تھی۔نہرو کو یہ بات صرف معلوم ہی نہیں تھی بلکہ اس کو یقین تھا کہ مسلمان کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور اگر معاملہ قانونی طریقے سے حل کیا گیا تو بھارت مقدمہ ہار جائے گا اور کشمیر جوکہ اکثریتی مسلم علاقہ ہونے کے علاوہ جغرافیائی اور نظریاتی لحاظ سے پاکستان کا ہی حصہ ہے تو بھارت اس پر حق نہیں جتا سکتا۔سو ایک طرف فوج کشی کی گئی نہرو اور مہاراجہ کی ایما پر۔پھر معاملے کو مسئلہ بناکر اقوام متحدہ میں یہ قرار داد منظور کروالی کہ حالات کنٹرول میں آتے ہی بھارت مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کروائے گا اور کشمیری جس سے الحاق کے حق میں ووٹ کاسٹ کریں گے ان کی رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے انہیں اسی کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔

نہرو یہ کرکرا کر واپس بھارت آیا اور اس نے انٹیلی جنس رپورٹس جمع کیں جن کی روشنی میں بھارت کو کشمیر ہاتھ سے جاتا ہوا صاف نظر آرہا تھا جبکہ بھارت ایسا چاہتا نہیں تھا۔پھر سالہا سال قتل و غارت اور خون ناحق بہانے کے بعد بھارت یہ جان چکا تھا کشمیر بھارت کا کبھی نہیں ہوسکتا تو انہوں نے رویہ اور چال بدلی۔اب بھارت اس بات پر ذہن بنا چکا ہے کہ کشمیر بیشک بھارت کا نہ ہو لیکن بھارت کچھ ایسا کرے کہ کشمیر پاکستان کا بھی نہ رہے بلکہ ایک آزاد خودمختار ریاست کی صورت نقشے پر ابھرے۔اسی کے پیش نظر لگ بھگ تیس سال قبل بھارت کی قسمت خود بخود تو نہیں لیکن بہرحال کچھ بہت محنت سے چمکی۔اور کشمیر میں مذہبی اور نظریاتی مسلحہ تحریک کے مقابل سوشلسٹ نظریہ کی حامل ایک تحریک مقبول بٹ اور امان اللہ خان کی محنت سے وجود میں آئی جن کا نعرہ آزادی ہی تھا لیکن صرف بھارت سے نہیں بلکہ اولین پاکستان سے اور ثانیاً بھارت سے۔

مقبول بٹ کو بھارتی عدلیہ نے مبینہ قتل کے جرم میں پھانسی دیدی لیکن بعد میں بہت پچھتا رہے ہیں کہ اگر اس کو معافی دے کر کوئی سمجھوتہ کرکے کوئی ڈیل طے کرلی جاتی تو پاکستان کی طرف موجود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ٹکڑے کو بھی ہتھیانے کا نادر موقع مل جاتا اور بعد میں مقبول بٹ اور دیگر کے قضیے سے نمٹ لیا جاتا۔لیکن بھارت نے چانکیائی اور منوجی سمرتی سیاست اور روایات کا مان رکھا اور اب موجود جے کے ایل ایف کو مکمل سپورٹ بہم فرام کرکے پاکستان میں خودمختاری اور انتشار کی تحریک کو مزید پروان چڑھا رہا ہے۔اس کا فائدہ کیا ہوگا بھارت کو اور یہ کیوں کیا جارہا ہے؟

جبکہ ہر حال میں بھارت کشمیر کو رائے شماری دےکر مسئلہ حل کرنے پر راضی ہے لیکن اس وقت نہیں بلکہ تب جب یہ کشمیری قوم پرست کنکترے اس قدر رائے عامہ کو پاکستان کے خلا ف کردیں کہ اگر رائے شماری ہو تو بھارتی کشمیر کے ساتھ پاکستانی کشمیر بھی علیحدگی پر راضی ہوکر ووٹ کاسٹ کرے۔۔۔اس سے کیا ہوگا؟

یہی وہ خطرناک پہلو ہے اس سازشی اور تخریبی تحریک کا،مان لیں بلکہ فرض کریں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مشتمل رائے شماری پر بھارت اگلے بیس سال بعد راضی ہوگیا اور اقوام متحدہ کے سفیروں کی موجودگی میں کشمیر (جموں, کشمیر, تبت, گلگت بلتستان پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر) استصواب رائے میں ووٹ کاسٹ کرتا ہے۔تو جمہوری عمل کے بنیادی قانون کی روشنی میں 51/49 کی اکثریت والوں کی رائے مان لی جائے گی اور کشمیر کووہ حق مل جائے گا جس کا تقاضہ 70 سالوں سے جاری ہے۔

جب تک قوم پرست کشمیریوں کا وجود نہیں تھا تب یہ 51/49 کی اکثریت پاکستان سے الحاق پر راضی تھی اور اگر استصواب رائے ہوتا تو پورا کشمیر پاکستان کا ہی ہوتا لیکن بھارت اس انجام کو دیکھ کر قوم پرستوں کی یورپ اور امریکہ کے ذریعے مدد کرکے دراصل ایک تیر سے دو شکار کررہا ہے۔ایک طرف وہ کشمیری قوم پرستوں کو مضبوط کرکے پاکستان کے خلاف رائے عامہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان اور چائنہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے خائف ہوکر بھارت طے کرچکا ہے کہ سی پیک کو ہر حال میں سبوتاز کرنا ہے۔

اس کی خاطر وہ کشمیر سے بھی دستبردار ہونے کو تیار ہے بشرط یہ کہ کشمیر ایک خودمختار اور آزاد ملک کی حیثیت سے الگ ہوتو (بالکل بنگلہ دیش, نیپال اور بھوٹان کی طرح۔)بھارت کا ایک تجربہ قوم پرستی اور نسل پرستی کی بدولت کامیاب ہوچکا ہے پاکستان کے خلا ف بنگلہ دیش کی صورت۔اگر آپ مشرقی پاکستان ٹوٹنے کی سیاسی اور تاریخی وجوہات کے علاوہ  زمینی حقائق اور نظریاتی تاریخ پڑھیں تو آپ یہ جاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگا سکتے کہ دراصل بنگلہ دیش تب ہی ٹوٹ گیا تھا جب مجیب رحمن نے نہرو سے رابطہ کیا تھا اوائل جوانی میں لیکن نہرو جیسے کائیاں سیاستدان نے تاریخ کے مستقبل میں جھانک کر مجیب کو جو مشورہ دیاتھا وہ ایک دن ایک جوالہ مکھی بن کر پھٹا۔کیا مشورے بلکہ ہدایات دیں تھیں نہرو نے؟ ان کا مفہوم بیان کررہا ہوں۔

ریاست کے خلاف مردہ باد کے نعرے مت لگانا بلکہ ہمیشہ محرومیوں اور عائلی مسائل کا رونا رونا, نسل پرستی, لسانیت اور قوم پرستی کو ہوا دینا, ہمیشہ قومی دھارے سے نکلنے والے اقدامات کرنا, نوجوان نسل کو پاکستان کا منفی اور پروپیگیٹ چہرہ ہی دکھانا, مذہبی اتحاد سے دور رہ کر صرف قوم پرست تحریک کو مضبوط کرنا اور ریاست سے علیحدگی کا مقصد ذہن میں رکھنا۔

ذرا غور کریں تو سمجھ جائیں گے کہ وہی کچھ کشمیر میں دوہرایا جارہا ہے۔بنگال کی تاریخی حیثیت بہت پرانی ہے اتنی کہ ہزاروں سال پر محیط ہے ۔بنگالی زبان, قوم, تہذیب اور ثقافت کا کوئی ثانی نہیں ۔۔۔۔؟بنگالی قوم پرست نہیں وطن پرست ہیں ۔بنگالی آزادی سے پیار کرتے ہیں غلامی سے نفرت ۔ہمار دیش, تمار دیش, سنار دیش ۔پاکستان بنگلہ دیش سے فوجیں نکالے ۔اور بنگلہ دیش کا پٹ سن, مچھلی, چاول اور دریاملکر بنگلہ دیش کی سات نسلوں کو پال لیں گے ۔

بظاہر کتنا خوبصورت مگر بھیانک قوم پرستی کانظریہ دے کر مجیب سے فاش غلطی کروادی کہ بنگلہ دیش کی آزادی کے ایک سال بعد ہی بزرگ بنگالی موذیب کو گالیاں بکتے ہوئے اور بیٹیوں کو کوڑیوں کے مول کلکتہ کے بازاروں میں بیچ کر زندگی دن بسر کرنے پر مجبور ہوئے۔اور چند ہی سالوں میں مجیب انہی قوم پرستوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں داخل ہوا جو کبھی اسی مجیب کی ہاں میں ہاں ملا کر ہمار دیش تمار دیش اور سنار دیش کے نعرے لگاتے رہے تھے۔بالکل اب وہی صورت حال بھارت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پیدا کررہا ہے۔اب کشمیری قوم پرست محرکات زور وشور سے اسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جن پر کبھی بنگالی قوم پرستوں نے عمل کیا تھا۔لیکن اب کی بار صورتحال بھارت کے زیادہ حق میں ہے۔

کشمیر خطے میں پاکستان کے لیے ایک دوسرا مگر زیادہ خطرناک افغانستان بنے گا اگر قوم پرستوں کی محنت رنگ لائی تو،بھارت کشمیر کو خود مختار ریاست کی صورت کیوں قبول کرنے کو تیار ہے یہ بات تو بچہ بچہ بتا سکتا ہے کہ کشمیر کی خودمختار ریاست دراصل بھارت کی طفیلیہ ریاست ہوگی, جو ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکے گی جو بھارت کے مفادات کے خلاف اور پاکستان کے حق میں ہو۔کشمیر کی خود مختار ریاست کی آڑ میں بھارت اور امریکہ و اسرائیل کا بھیانک منصوبہ یہ ہے کہ ایک طرف سے بھارت پاکستان پر مسلحہ اور سفارتی دباؤ بڑھائے, دوسری طرف آزاد خود مختار کشمیر جیسی طفیلی ریاست کی مدد سے پاکستان کا پانی بند کرے اور توانائی سے محروم کرے اور سب سے بڑھ کر سی پیک کا روٹ کٹوادے۔جبکہ افغانستان میں بیٹھ کر امریکہ پاکستان کو من چاہی جنگ میں الجھا سکے۔

یہ سب ایجنڈا قوم پرست کشمیری تنظیم جے کے ایل ایف اور دیگر تنظیموں کے اتحادی سربراہوں کو معلوم ہے اور وہ اسی کی ترویج کی خاطر اب حقیقی میدان اور سوشل گراؤنڈز پر جدوجہد تیز تر کررہے ہیں۔دسمبر 2017 میں تمام قوم پرست کشمیری تنظیمیں مل بیٹھ کر اس ایک نقاطی فیصلے پر راضی ہوئیں کہ الگ الگ جدوجہد سے وہ کچھ حاصل نہیں کرسکتے لہذا ایک گرینڈ الائنس بناکر جدوجہد کی جائے جس کی نمائندگی جےکے ایل ایف کرے, اب یہ الائنس بھرپور طریقے سے وسط 2018 میں لانگ مارچ اور دھرنہ سیاست کا آغاز کرنے جارہا ہے۔

اب ذرا میں قوم پرستوں کے نظریہ خودمختاری کا پوسٹ مارٹم کرکے کچھ سوالات ان کے آگے رکھنےکی جسارت کروں گا کہ وہ مجھے اور دیگر محب وطن پاکستانیوں کو مدلل اور تسلی بخش جواب دیکر مطمئن کریں۔زیادہ نہیں دو نقاط پر بات کروں گا جن کا جواب مل جائے تو بات آگے بڑھےگی۔ایک بات خودمختار کشمیر کے حق میں جو مجھے بارہا پڑھنے اور سننے کو ملی کشمیری قوم پرستوں سےکہ کشمیر صدیوں سے ایک الگ اور خودمختار ریاست تھی لیکن ستر سالوں سے منقسم, مقبوضہ, مقہور اور مظلوم ریاست بن کررہ گئی ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہ تحریک ہر طرح کے مذہب اور مسلک سے بڑھ کر صرف ایک وطن پرست تحریک ہے مطلب کشمیر میں بسنے والے سبھی جدی پشتی کمشیری خواہ وہ ہندو سکھ یا مسلمان ہوں وہ اس کے باسی اور مالک ہیں ۔

چلیں اب ذرا پہلی بات پر مضبوط اعتراض سن لیں کہ کشمیر ہی کیا وادی سندھ کی تہذیب 7000 سال قبل مسیح کی ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے ہزاروں سالوں سے جس کی ذیلی تہذیبیں ہڑپہ اور ٹیکسلا کی صورت پنجاب اور خیبر پختون خوا  میں تادم الفاظ قائم ہیں زمانے کی اونچ نیچ کا مقابلہ کرکے۔اور دریائے سندھ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے؟یہ بچہ بچہ جانتا ہے مطلب کشمیر سے کراچی تک۔اگر تاریخی حوالوں سے نسلی اور قومی بنیادوں پر ہی ریاست کی تشکیل قانون ہے کشمیری قوم پرستوں کے نزدیک تو موجودہ پاکستان کا وجود اسی وادی سندھ یا دریائے سندھ کی تہذیب پر ہے اور ہمارے آباؤ اجداد ان کے آباؤ اجداد سے بھی 2000 قبل مسیح سے آباد تھے اس سر زمین پر۔

لیکن ہم قوم پرست نہیں بلکہ رجعت پسند مسلمان ہیں اور ہمارا وطن وہی ہے اور ہوگا جہاں کلمہ توحید کا بول بالا ہوگا کہ یہ میرا یا کسی انسان کا فارمولا نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔اب اگر کشمیری قوم پرستوں کی بھونڈی دلیل کو مان لیا جائے اور 5000 سال قبل مسیح یا 200 سال پرانی حیثیت میں واپس پلٹایا جائے تو اس طرح پوری دنیا کا نقشہ بدلنا ازحد ضروری بنتا ہے کہ 5000 ہزار سال قبل مسیح دنیا میں 150 سے زیادہ ممالک کا تو وجود ہی نہیں تھا بلکہ چندے معدودے بکھری ہوئی تہذیبوں پر مشتمل نقشہ تھا دنیا کا۔اور دوسری بات کشمیری قوم پرست آزاد کشمیری افراد صرف مجھےچند ایسی تنظیموں یا افراد کا نام بتادیں جموں و کشمیر سے جو بھارتی مقبوضہ ہوں اور ہندو یا سکھ کمیونٹی سے ہوں اور ان کاویژن وہی ہو جو ہمارے قوم پرست کشمیری افراد کا ہو مطلب وطن پرستی اولین ہو اور خودمختار کشمیر بطور جدی پشتی کشمیری وہ مسلمان کشمیریوں کے ساتھ ملکر بنانے پر پرعزم اور شامل حال ہوں۔

زیادہ نہیں دو تین ہی ایسی فعال تنظیموں اور درجن بھر افراد کا نام بتادیں۔مجھے یقین ہے کہ ان دونوں اعتراض نما سوالوں کا جواب اللے تللے اور گالیوں کی صورت تو مل سکتا ہے لیکن شرم اور غیرت کا مظاہرہ کرکے درست جواب نہیں دیں گے۔ایک بات اور اس بات یا میرے اعتراضات اور انکشافات کو کشمیری قوم پرستوں کا ایک عام رویہ سچ ثابت کرتا ہےکہ کسی بھی فورم اور گفتگو میں یہ بھارت کا تذکرہ نہیں کرتے اورنہ ہی بھارت کے خلاف ان کے الفاظ میں سختی اور غصہ نظر آتا ہے لیکن جب بھی بات کرتے ہیں ان کی زبانیں پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف سنگین الفاظ کی صورت زہر اگلتی رہتی ہیں۔پرانی کہاوتیں ہیں کہ کتا کبھی اپنی دم پر نہیں کاٹتا اور کتا کبھی اپنے مالکوں پر نہیں بھونکتا۔یہ کشمیری قوم پرست ان کہاوتوں کی جیتی جاگتی تصاویر ہیں۔

یہ کبھی بھارت کے خلاف کچھ نہیں بولیں گے اور نہ  ہی ان کے کسی پلیٹ فارم پر ایسی کوئی قرارد منظور ہوگی جو بھارت کےخلاف ہو۔میں گزشتہ تحریر میں واضح الفاظ میں بتا چکا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے اگر کشمیری مخلص ہیں تو صرف الحاق پاکستان میں ہی کشمیر کی عزت اور وقار کے ساتھ بقا ہے۔اگر خودمختار کشمیر بن بھی گیا تو چار ایٹمی ریاستوں کے بیچ ایسی ریاست کاوجود کسی صورت برداشت نہیں ہوگا جو کسی ایک طاقتور ملک کی طفیلی یا کٹھ پتلی ریاست بن کر رہے۔کشمیر کا جغرافیائی خدوخال بھی پاکستان کے فطری نقشےکی ترجمانی کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہےکہ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کر کے خودمختار کشمیر زیادہ دیر قائم رہ سکے تین غیر مسلم طاقتور ممالک کے ساتھ۔سمجھدار کو اشارہ کافی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے تو؟۔۔۔۔کشمیر بنے گا پاکستان!

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *