ریلو کٹے اور پھٹیچر کھسرے

ریلو کٹے اور پھٹیچر کھسرے  !!
(بچپن کے پنگے اور نوجوانی کے دنگے ۔ پہلی قسط) 
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اشہد ان لا اِلہ الا اللہ .. نزدیکی مسجد کا لاؤڈ سپیکر فجر کی اذان سے گونج اٹھا، ٹھیک اسی لمحے میرا جسد خاکی اس جہانِ فانی میں پدھار چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ جی ھاں ! میں پیدا ہو چکا تھا اور پہلی آواز جو میرے کانوں میں پڑی وہ رمضان کمہار کی تھی، جو مسجد میں فجرکی اذان دے رھا تھا۔ ۔۔ اور دوسری آواز میری خود کی تھی یعنی رونے کی “اُوواں ۔۔۔۔۔ !! ۔۔۔ اُوواں ۔۔۔۔ !!”
“مبارک ہو ! بیٹا ہوا ہے، ارے آۓ ھاۓ دیکھو دیکھو اس بچے میں خون دوڑ رہا ہے یا پارا ؟ ” یہ تیسری آواز دائی اماں کی تھی، چونکہ پیدا ہوتے ہی میں بلا کا چست و چلاک واقع ہوا تھا لہذا دائی اماں بھی بہت پرجوش ہو گئی تھی ۔ گھر کے آنگن میں رشتے داروں کا جمگھٹا سا لگ چکا تھا اور چہ میگویَیاں شروع تھیں۔  نسبتاً بڑے بچوں کو سن گن لگ چکی تھی کہ فرشتے اور پریاں ایک پیارا سا کاکا ان کے ہاں چھوڑ گۓ ہیں۔ ظاہر ہے حسب روایت ان کو یہی بتایا گیا تھا۔ البتہ مجھے بلکل معلوم نہیں تھا کی مجھے یہاں کون چھوڑ گیا ہے، یہ بھی پتہ نہ تھا کہ میں اپنی مرضی سے آیا ہوں یا کسی فرشتے نے اوپر سے کورئیر کیا ہے۔ بہرحال جو بھی ہو، یہ طے تھا کہ اب میں اس مطلبی دنیا میں وارد ہو چکا ہوں اور یہاں سے واپس کہیں نہیں جا سکتا۔ گھر میں ایک جشن کا سما تھا۔ شیرینی بٹ رہی تھی، ہر طرف ایک رونق سی لگ چکی تھی۔ ڈھول تاشوں والے بھی اپنے اپنے برینڈڈ کھسرے ٹانگے بھر بھر کر لا رہے تھے اور اپنا بےمثال فن پیش کرنے کو بے تاب تھے۔  پتہ نہیں انہیں کیسے خبر ہو گئی تھی کہ جس نابغہْ روزگار ہستی کا صدیوں سے انتظار تھا اس کا ظہور ہو چکا ہے ۔۔ کھسروں اور ان کے مالکوں کی بے قراری دیدنی تھی وہ خوشی سے یوں پاگل ہو رہے تھے جیسے کاکا ہمارے گھر نہیں ان کے ہاں ہوا ہے۔ “دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا، امبڑی دے دل دا سہارا نی ویر میرا کوڑی چڑھیا ، کوڑی چڑھیا  نی سہیو کوڑی چڑھیا”۔ کھسرے زنانے انداز  میں مردانہ گلے پھاڑ رہے تھے ۔  کسی نے فورا توجہ دلائی کہ او پاگلو  منے کی یہ عمر ہے بھلا گھوڑی چڑھنے کی؟ اوۓ گھوڑی چڑھنے میں ابھی بہت وقت ہے۔ کھسروں کو جلد ہی اپنی “سنگین” غلطی کا احساس ہوا تو اسی لمحے ٹریک بدل دیا۔
“اے پتر ھٹاں تے نیَیں وکدے”
ہماری ایک بڑی خالہ تھیں , خوشی غمی کے ہر موقع پر فساد پبا کرنا ان کی زندگی کا ابدی مقصد تھا, ناک چڑھا کر کہنے لگیں “یہ اتنے پھٹیچر کھسرے کون لایا ہے ایسے پھٹیچر کھسروں سے تو اچھا تھا ہم ریچھ اور بندر نچوا لیتے”۔ ایک نسبتاً خوش شکل سا کھسرا  ناچنے کی بجاۓ ایک طرف خاموش بیٹھا تھا.  بڑی خالہ جھٹ بولیں “ھیں جی  یہ والا بیمار ہے کیا؟ یہ کیوں مردے کی طرح بے جان ہے ؟” یہ ریلو کٹا ہے جی، کھسروں کا گرو بولا . ہیں! ریلو کٹا ؟ یہ کیا ہوتا ہے؟ بڑی خالہ کہاں چھوڑنے والی تھی۔ او جی یہ عموماً ڈھولک بجاتا ہے اور اشد ضرورت ہو تو دو چار ٹھمکے بھی لگا لیتا ہے,  ابھی کچا ہے نا، گرو نے پیشہ ورانہ وضاحت کی……..  اوۓ پھٹیچر کھسریو !!بند کرو اے  بے غیرتی، سب سے بڑے پھوپھا جو کہ باریش اور کٹر وھابی مشہور تھے کھسروں پر برس پڑے ۔ “اوۓ نس جاؤ ایتھوں نیَیں تے میں تواڈیاں لتاں چیر دیاں گا”۔ ریلو کٹے  کھسرے نے زور سے تالی بجائی  اور سہمے ہوۓ لہجے میں بولا “ھاۓ ھاۓ ، بھلہ لتاں چیرن دی کی لوڑ اے” ساتھ ہی اس نے دوسرے کھسرے کو آنکھ ماری، “اے لتاں ساڈیاں نے, کوئی انڈیا دے کسے پھوجی دیاں نییں جے مولبی صاب ایویں گھر بیٹھ کے توڑ دیون گے”۔ سب سے چھوٹے چاچا دوڑتے ہوۓ آۓ اور پھوپھا جی کی منتیں کرنے لگے کہ کم از کم آج کے دن کھسروں کی گنجایش پیدا کی جاۓ۔ جبکہ بڑے پھوپھا کا کہنا تھا کہ دن چاہے کوئی بھی ہو کھسرا کھسرا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُدھر میں پالنے میں پڑا ساری کاروائی نوٹ کر تے ہوۓ سوچ رہا تھا کہ دیکھنے میں شاید سبھی ناچ  اچھے ہوں مگر بھوکے پھٹیچر کھسرے کا ناچ ایک الگ ہی تسکین دیتا ہو گا، آخر کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔  بہرحال یہ میرا مسلہ نہیں تھا۔  میں گول مٹول، حسین و جمیل اور انتہائی ہنس مکھ کاکا تھا۔ نرم و گداز چہرے پر الہڑ سا بھول پن، سنہری ویلوٹ کی قمیض، شربتی رنگ کے کمخواب کے پاجامے اور پیازی رنگ کی کلغی والی ٹوپی پہنے ہوۓ رنگلے پنگھوڑے میں جُھولتا میَں فرشتوں کو مات دیتا تھا۔
 میری ماں کہتی ہے کہ ابھی میں چھ مہینے کا ہی ہوا تھا کہ میرے رشتے کے پیغام آنے شروع ہوگۓ تھے لیکن میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ماں کو بتا دیا تھا کہ میں بڑا ہو کر خود اپنی دلہن چُنوں گا۔ حالانکہ پھوپھیوں اور خالاؤں کے بیچ میری شادی کو لے کر کئ بار جھگڑے ہو چکے تھے۔  آس پڑوس کی ہر نو بیاہی ابلہ ناری  مجھے دیکھ کر رشک کرتی , واری واری جاتی اور دل ہی دل میں سوچتی کہ کاش پہلے کی بجاۓ وہ اب کہیں پیدا ہوئی ہوتی تو شاید اس شہزادے کی دلہن بننے کی سعادت حاصل کر پاتی، ایک آدھ نے تو برملا اس معصوم خواہش کا اظہار بھی کر دیا تھا۔  کچھ کے لئے خاص دلچسپی کا امر یہ تھا کہ میرے ریشم جیسے مگر مردانہ وجاہت سے بھر پور جسم کو لاکھ گُد گُدانے اور چٹکیاں بھرنے پر بھی مجھے ھنسی نا آتی لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بلا وجہ ہی مسکراتا اور قلقاریاں بھرتا رہتا- خاندان کے سبھی بچوں کو اپنے ساتھ گھل ملنے کی اجازت مرحمت فرما دیتا۔۔۔ قصہ مختصر یہ کہ ابھی جھولے میں ہی تھا کہ میرے چلبلے پن اور معصوم اداؤں نے ھر ایک کو متاثر کرکے چھوڑا تھا- (باقی آئندہ)

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *