’’خامہ بدست غالب ‘‘ (جناب ستیہ پال آنند)

SHOPPING

’’خامہ بدست غالب ‘‘ (جناب ستیہ پال آنند)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستیہ پال آنند صاحب کی کتاب ’’خامہ بدست غالب ‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ ہے تو یہ نظموں کا مجموعہ، مگر اس کا محور تنقید ہے اور اس میں غالب کے اشعار پر تضمین کی صورت میں’’قاری اساس تنقید‘‘ کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ گویا یہ نظموں کی صورت میں دراصل ’’تخلیقی تنقید‘‘ ہے، لہٰذا میں بھی اسے تنقید ہی کے خانے میں رکھوں گا۔ اس حوالے سے کتاب میں شامل یہ نظمیں ایک شاعر کی تنقیدی اور نقاد کی تخلیقی اپچ کے ساتھ ساتھ ایک مدرس اور کے تدریسی عمل کا تخلیقی اظہاریہ بھی ہیں۔ یہ عملی تنقید کی منظوم مثالوں پر مشتمل ایسی دستاویز ہے جو اردو تنقید کے طالبعلموں کے لیے حوالے کا کام دیتی رہے گی۔
ان نظموں کو پڑھ کر اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ستیہ پال صاحب کے ہاں الفاظ کا حیرت انگیز ذخیرہ ہے اور وہ اس کا استعمال جس روانی سے کرتے ہیں وہ بھی کمال ہے۔ مجھے یہاں اپنے والد شبنم ؔرومانی صاحب کی بات یاد آگئی، وہ کہتے تھے کہ ’’شاعر مجبور نہیں ہوتا، کوئی لفظ برمحل نہیں ہے تو اس سے سمجھوتہ نہیں کرتا بلکہ اس کی جگہ دس اور الفاظ لے آتا ہے‘‘۔ وہ اکثر انیس و دبیر کے ایک معرکے کا ذکر کرتے تھے جس میں (غالباً) دبیر نے مشاعرے میں کلام سناتے ہوئے فقرے بازی کے جواب میں متبادل مصرعوں کا ڈھیر لگا دیا تھا۔ ستیہ پال صاحب نے بھی جس طرح ایک ایک لفظ یا استعارے کے لیے کئی کئی متبادل الفاظ استعمال کیے ہیں وہ دیدنی ہے۔ میں یہاں نظموں کے عنوان لکھنے کے بجائے صرف نمبر درج کررہا ہوں کیوںکہ کتاب میں بھی ان پر نمبر ڈالے گئے ہیں۔ پہلے حصے میں نظم ۲۱ مجھے زیادہ اچھی لگی کہ اس میں تنقید سے زیادہ تخلیق کا مزہ آرہا ہے۔ اسی طرح نظم ۳۰ اور ۳۴ کی آخری سطریں بھی خوب ہیں۔ نظم ۳۹ میں ناقوس سے متعلق بہت اچھا نکتہ اٹھایا گیا ہے جو قابلِ غور ہے۔ دوسرے حصے میں نظم ۱ اور ۴ زیادہ اچھی لگیں۔ آخری نظم ۱۱ میں غالب کے شعر کو اپنے تجربات کی روشنی میں دیکھنے اور منتقل کرنے کی بہت اچھی مثال پیش کی گئی ہے۔ میں نظموں پر زیادہ تفصیل سے اس لیے نہیں لکھ رہا کہ وہ خود طبع زاد نہیں بلکہ کسی اور شعر کی تنقید کے طور پہ لکھی گئی ہیں۔ ’’قاری اساس تنقید (ایک مکالمہ)‘‘ کے عنوان سے جو مکالمہ نظم کی صورت میں کتاب کے شروع میں درج ہے، اس کا پہلا بند ’’قاری(۱)‘‘ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا کہ یہ اس کتاب میں باقی نظموں سے الگ ایک طبع زاد نظم کی کیفیت رکھتا ہے اور تخلیقی اعتبار سے بجائے خود ایک مکمل نظم ہے۔
کتاب کا مقدمہ ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی ضرورت، اطلاق اور اہمیت کے حوالے سے ایک جامع اور مدلّل مضمون ہے جس سے تنقید کے اس نظریے اور طریقۂ کار کے بارے میں معلومات ملتی ہیں اور جہاں کچھ سوالوں کے جواب ملتے ہیں وہیں کچھ جوابی سوال کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ میری نظر میں یہ تنقید کی ایسی شاخ ہے جو بغیر کسی عنوان کے تنقیدی عمل کا حصہ ہمیشہ تھی اور رہے گی۔ اسے قاری کی نسبت سے ایک عنوان تو دیا گیا ہے مگر کیا واقعی یہ ایک مکمل اور خود مختار تنقیدی نظریہ یا عمل ہے؟ میرے خیال میں تنقید کا یہ طریقۂ کار جس پر اس کتاب میں بات کی گئی ہے، وہ مبتدی اور استاد دونوں کسی نہ کسی سطح اور موقع پر استعمال کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ کیوںکہ جو طریقہ یہاں بیان کیا گیا ہے، وہ کسی اجنبی یا کم آشنا زبان، بلکہ اپنی ہی زبان میں لکھے کسی پیچیدہ جملے یا شعر کی تفہیم کے لیے بھی اکثر اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ عمل کسی حد تک ماہر آثارِ قدیمہ کے تجزیے سے مماثل ہے۔ ’’ردکتیو اید ابسردم‘‘ کا جو حوالہ کتاب میں مثالوں کے ساتھ دیا گیا ہے، اور ابتدائی مثالوں میں بھی کم و بیش وہی تکنیک نظر آتی ہے، تو آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو ہم اکثر اسی طرح چھوٹی چھوٹی چیزوں کا تجزیہ کرتے دیکھتے ہیں جو دریافت، بازیافت اورتحقیق کے ذریعے سیکھنے کا ایک فطری عمل ہے اور اس سے چیزوں کی ’’اصل ماہیت‘‘ کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ البتہ اس طریقے سے مشاہدہ کرنے والا زیرِغور شے کو عموماً اپنی معلومات میں پہلے سے موجود کوئی چیز ثابت کرنے کے بجائے اس کی اصلیت جاننے کی کوشش کرتا ہے جو قابلِ غور ہے۔ لہٰذا ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی اصطلاح قدیم نہ سہی مگر جو تکنیک یہاں بیان کی گئی ہے، وہ اجنبی نہیں ہے۔ اسے کب اور کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے اس کا جواب تو ستیہ پال صاحب نے دیا ہے مگر ہم اسے آج کے ادب پر لاگو کر سکتے ہیں اور کیسے؟ اگر کلاسیک یا آج کے کسی ادب پارے پر تنقید کی بات ہو تو میں اس تکنیک کو عملی تنقید کا صرف ابتدائی قدم ہی سمجھوں گا جس سے بات شروع تو ہوتی ہے، اس پر ختم نہیں ہوتی۔
’’قاری اساس تنقید‘‘ کے تحت شعر کی تفہیم کا طریقۂ کار تقریباً ویسا ہی ہے جیسا ہمیں اسکول میں (پاکستان میں) شعر کی تشریح کے لیے سکھایا جاتا تھا کہ پہلے مشکل الفاظ کے معنی لکھو، پھر شعر کا لغوی مطلب اور پھر اس کی تشریح۔ ستیہ پال صاحب نے بھی اپنے مضمون میں یہی بتایا ہے کہ یہ تدریس کا ایک آزمودہ طریقہ ہے جو ’’لیب پریکٹس‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ سو میری نظر میں یہ عمل کسی مدرّس اور مبتدی کے لیے تدریسی تکنیک کا طریقہ اور کہنہ مشق کے لیے کسی پیچیدہ تنقید کا ابتدائی مرحلہ تو ہو سکتا ہے مگر مکمل تنقید کے لیے اس پر اکتفا کرنا کافی نہیں۔ غور کریں تو غالب کے شارحین نے بھی یہ کام کیا ہے اور اکثر اساتذہ کے کلام کے ساتھ مدرسوں میں اور مدرسوں کے باہر یہ سلوک ہوتا ہی رہتا ہے۔
مجھے یہاں ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی تین صورتیں نظر آئی ہیں۔ ایک یہ کہ مستقبل کا قاری آج کی تحریر پڑھے اور دیکھے کہ اس کے ’’مزید‘‘ اور نئے معنی اُس وقت کے لحاظ سے کیا ہو سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ قاری اس کا کوئی مفہوم سمجھ لے یا تراش لے اور ہم اسے ہی صحیح مان لیں۔ تیسرا یہ کہ ہم مستقبل کے قاری کو ذہن میں رکھ کر آج کسی شعر کی تفہیم کریں۔
اوّل الذکر معاملہ بہت عام ہے، الہامی کتابوں اور اساتذہ کے کلام کو ہمیشہ سائنس کی نئی دریافتوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا رہا ہے اور تحریروں میں آفاقیت اور نئے مفاہیم ڈھونڈے جاتے رہے ہیں، تو یہ کام ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا جبھی بعض مصرعے، اشعار یا عبارتیں ضرب المثل بن کر ایسے استعمال ہوتی رہتی ہیں جس کا مصنف نے شاید سوچا بھی نہ ہو۔
دوسری صورت، کہ قاری کچھ مفہوم نکال لے اور ہم اسے تسلیم کر لیں۔ ہمارے سامنے کوئی عبارت ہو جو زمانی اعتبار سے اجنبی یا متروک زبان میں ہو اور عام فہم زبان سے کوسوں دور ہو تو ایسے میں پختہ کار قاری اور نقاد کے لیے ’’قاری اساس تنقید‘‘ اہم آلہ ضرور ثابت ہوسکتی ہے بالکل کسی آثارِ قدیمہ کے مشاہدے کی طرح مگر اس مشاہدے کے بعد سوال وہی ہوگا کہ آخر یہ عبارت اصل میں کیا ہے، کب لکھی، کس نے لکھی، کیوں لکھی وغیرہ کیونکہ یہ تحقیق انسانی فطرت ہے۔ مثلاً غار کی دیوار پر بنی جانوروں اور تیروں کی تصاویر پر مشتمل عبارت دیکھ کر اس کا مطلب صرف یہ اخذ کرلیں کہ غار کے رہنے والے جانوروں کا شکار اور تیربازی کرتے تھے اور بس۔۔۔۔۔۔! بات مکمل نہیں ہوتی۔ ذوق کی تسکین کے لیے غار دیکھنے والا جو چاہے کہے مگر وہ حرفِ آخر نہیں، ماہرِ آثارِ قدیمہ تو اس عبارت کا اصل مفہوم تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔ سو ادب میں بھی ہم قاری پر بات ختم نہیں کر سکتے کہ وہ جو بھی سمجھ لے وہی صحیح ہو۔ ہمیں تو بہرحال عقدہ کھولنا ہوگا، ڈی کوڈ کرنا ہوگا۔ محض ترجمے کی بنیاد پر قاری کو کچھ ماننے سے ماضی میں کون روک سکا ہے جو آئندہ روک سکے گا، یہ نئی بات نہں، ہاں اگر ہم اس تنقید کی رُو سے ’’ہر قاری‘‘ کی رائے کو صحیح مان لیں تو نئی بات ہوگی۔ میں ستیہ پال صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ ’’یہ کام قاری سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا کہ متن کے لسانی اور ہیئتی نظام کو کھنگال کر ’’آج‘‘ کے سیاق و سباق میں اس کے معنی تلاش کرے‘‘ کیونکہ اس سے فلسفے کے نئے رخ اور فکر کے نئے در وا ہوسکتے ہیں۔ گویا معنی میں اضافہ کرنا کلید ہے، لیکن شعر کی موجودہ ہیئت اور معنویت کو نئی زبان کی بنیاد پر رد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جو پچھلے معنی کو رد کیے بغیر یہ اضافہ کرے گا اسے گھوم پھر کر مصنف تک جانے کی کوشش بھی کرنا پڑے گی۔ نتیجہ یہ کہ اس صورت میں اساس بالآخر قاری کے بجائے مصنف اور تحریر کا رشتہ ہی ٹھہرے گا۔ ورنہ آج کا انگریزی میڈیم طالب علم ’’زلف کی اسیری‘‘ کی معنویت بالوں میں ڈھونڈتا رہے، ’’آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری‘‘ کو یہ کہ کر رد کر دے کہ یہ کائنات شیشے سے نہیں بنی یا ’’خواہاں تھے نخلِ گلشنِ زہرا جو آب کے‘‘ کو وہ یوں سمجھ لے کہ ’’کوئی باغِ زہرا تھا جہاں پیڑ سوکھ رہے تھے اور شاعر خشک سالی یا قحط کی تصویر کشی کر رہا ہے‘‘ تو اس خود مختار قاری کے کہنے سے جو تفہیم ہوئی وہ شعر کے معنی میں اضافہ نہیں کر رہی بلکہ اسے پیچھے کی طرف لے جا رہی ہے۔ معنویت اسے تب ہی ملے گی اگر وہ متن کی اصل زبان اور پس منظر تک پہنچنے کی کوشش کرے اور پھر اسے ’’اپنے آج‘‘ سے جوڑے۔ پرانے متن اور نئے قاری کے درمیان ’’مصالحت‘‘ قاری کا ذاتی فیصلہ ہے اور اُسی کا اختیار ہے، کون پیشگوئی کر سکتا ہے کہ کس زمانے کا کون سا قاری کیا سمجھے گا؟ اور پھر کیا دانستہ مصالحت، مکمل اور مستند تنقید ہوسکتی ہے؟ اگر ہم پیشگوئی نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ کہ رہے ہیں کہ قاری کل جو بھی سمجھے گا، اس زمانے میں اسے ہی صحیح ماننا پڑے گا تو اسے ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ تو اس زمانے کے قاری اور نقاد ہی کریں گے، ہم تو ماضی ہو چکے ہوں گے، ہمارا اس قاری پر کیا اختیار!
تیسری صورت، اگر ہم مستقبل کے قاری کو ذہن میں رکھ کر شعر کی تفہیم کریں۔ اس کا مطلب ہوگا کہ ہم یہ نہ دیکھیں کہ ہم نے کلام میں کیا پایا بلکہ یہ دیکھیں کہ اس سے مستقبل میں کون، کیا کچھ سمجھے گا۔ اب یہ پیشگوئی تو لامحدود امکان رکھتی ہے اور اس کے لیے ہمیں تحریر میں لایعنیت بھی ڈھونڈنا اور ماننا پڑے گی۔ شاید یہ مستقبل کے قاری کو ذہن میں رکھ کر تنقید کا نتیجہ ہی ہے کہ بعض نظموں میں شعر سے زیادہ شاعر پر تنقید کی گئی ہے جیسے حصہ اوّل کی نظم ۱۶، جبکہ شعر میں محض مبالغے اور تعلّی سے حسن پیدا کیا گیا ہے۔ اسی طرح کسی ایک رخ پہ غالب کے معانی کی صرف نفی تو کی گئی ہے جیسے نظم نمبر تین میں، مگر اسے کھنگال کر نئے معانی نہیں ڈھونڈے گئے۔ اسی طرح صفحہ۴۷ پر میدان چھوڑنے کے مطلب کے بارے میں بھی قاری کی یک رخی کو رقم کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ستیہ پال صاحب اگر ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی مثال نہ دے رہے ہوتے تو اس کی تفہیم کچھ اور کرتے لہٰذا یہ مثالیں میرے خیال کو اور پختہ کرتی ہے کہ اگر ہم مستقبل کے کسی ایسے قاری کو ذہن میں رکھ کر تنقید کر رہے ہیں جو الفاظ کے ظاہری معنی کی بنیاد پر رائے دے رہا ہے تو اس کوشش میں حجت تو شروع ہوتی ہے مگر بات مکمل ہوئے بغیر ختم ہوجاتی ہے۔ بعض جگہ مجھے لگا کہ قاری کے بجائے ’’غالب اساس تنقید‘‘ کی گئی ہے جیسے نظم ۱۱ اور ۱۲ کی آخری سطریں یا نظم ۱۷ کو دیکھیے۔ یہ نادانستہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ایک غالب شناس کے لیے تنقید کرتے وقت غالب کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے۔ ان مثالوں میں، جہاں متن سے باہر بھی شعر کی تفہیم کی گئی ہے، قاری کے بجائے ایک کہنہ مشق نقاد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے یہ دانستہ ہو، جس کا مقصد ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی مثال کے ساتھ ساتھ قاری کی تربیت کرنا بھی ہو اور ان جگہوں پر محض قاری اساس تنقید پر اکتفا نہیں کیا گیا ہو۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مصنف اپنی تحریر کی ’’شرح یا تفسیر کی ملکیت‘‘ کا دعوی نہیں کرسکتا تو یہ مانا جا سکتا ہے مگر یہ ماننا مشکل ہے کہ قاری جو سمجھ لے وہی متن کے معانی کی درستی کا پیمانہ ہو۔ قاری کو آج کے سیاق و سباق میں متن کا خالق تسلیم کر لیا جائے تو یہ مصنف کے ساتھ زیادتی ہے یعنی ’’دکھ بھریں بی فاختہ اور کوے میوے کھائیں‘‘۔ مطلب یہ کہ قاری کی بازیافت کو اس کی تخلیق کیوں مانیں یا اس کے غلط کہے کو تسلیم کرنے کے بجائے قاری کی تربیت پہ زور کیوں نہ دیں؟ یہ بات کہ ’’جب قاری کے سامنے اصل مطلب جاننے کا کوئی اور ذریعہ ہی نہیں ہے تو وہ کیا کرے‘‘، تو ایسے میں تو بحث ویسے ہی ختم ہوجاتی ہے۔
اب کتاب میں ایک سوال کیا گیا ہے کہ ’’کیا یہ تھیوری ہماری تہذیبی اساس کو بگاڑ سکتی ہے؟‘‘۔ تو ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی حیثیت میری نظر میں تھیوری سے زیادہ تنقیدی عمل میں بقدرِ ضرورت استعمال ہونے والی تکنیک کی ہے جسے عملاً روا رکھا ہی جاتا ہے، چاہے ہم تھیوری کی حیثیت سے اسے مانیں یا نہ مانیں۔ جہاں تک ان تضمینوں کا تعلق ہے تو غالب کی شرحیں بہت لکھی گئی ہیں جن سے اتفاق بھی کیا جاتا ہے اور اختلاف بھی۔ غالب کے حق میں بھی لکھا جاتا ہے اور مخالفت میں بھی۔ ستیہ پال صاحب نے یہ تنقید یا شرح نثر کے بجائے منظوم لیکچر کی صورت میں لکھی ہے۔ اب کسی کو اچھی لگے یا بری، بامقصد لگے یا نہ لگے ، اس کا طریقہ کار جیسا بھی لگے، اس تجربے پر ناراض ہونے کے بجائے اس تحریر پر تنقید کرلیجیے، اگر یہ بھی گوارا نہیں تو آپ اسے نظرانداز کر دیجیے مگر لکھنے والے کا ہاتھ نہ روکیں، اس سے ادب کو فائدہ نہیں ہوتا، ہاں آنے والوں کے لئے نئی راہیں کھلنے کا امکان ضرور کم ہوسکتا ہے لہذا ایسے امکانات رہنے دیجیے۔
faisal_azeem@hotmail.com

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *