• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسکراہٹوں اور آنسوؤں کو بھی تولا جائے گا۔۔محمد اظہار الحق

مسکراہٹوں اور آنسوؤں کو بھی تولا جائے گا۔۔محمد اظہار الحق

جنرل کمال اکبر صاحب تشریف لائے،ضروری بات جو کرنا تھی ،پھر کہنے لگے”بیٹھوں گا نہیں “ایک مہم درپیش ہے”۔

جنرل صاحب تھری سٹار جرنیل ہیں ۔مسلح افواج کے “سرجن جنرل”رہے۔مگر مزاج میں خالص درویش!ان کی ساری زندگی کا ماحصل دو لفظوں میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا۔”دوسروں کی خدمت”۔

ایک مکمل بے لوث اور بے غرض انسان .جسے ہر  وقت دوسروں کی فکر رہتی ہے۔ان پر ایک طویل مضمون لکھا جاسکتا ہے مگر پھر کبھی اس وقت ایک اور معاملہ زیرِ بحث ہے۔پوچھا جنرل صاحب !کیا مہم درپیش ہے؟کہنے لگے یہ ایک خط فلاں سرکاری محکمے نے  غلطی سے میرے گھرکے ایڈریس پر بھیج دیا ہے۔ یہ ایک انٹر ویولٰیٹرہے،اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ انٹرویو میں کامیاب ہوجائے۔ دوسری صورت میں اگریہ کال لیٹر نہ ملا تو اس کا بہت نقصان ہوگا۔

عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے مشورہ دیا کہ ڈرائیور کو خط دیجئے ،وہ جاکر امیدوار کے گھر دے آئے۔اس پر انہوں نے بتایا کہ لفافے کے اوپر تو امیدوار کے بجائے ان کا (یعنی جنرل صاحب)کا ایڈریس ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ اندر،کال لیٹر پر،جو ایڈریس ہے ،وہ نامکمل ہے۔ہاؤس نمبر ہے مگر محلہ نہیں درج۔ یا شاید انہوں نے بتایا کہ محلہ ہے مگر ہاؤس نمبر ندارد۔جنرل صاحب ایک چھوٹی سی گاڑی خود چلاتے تھے جو انہیں راجہ بازار جیسے گنجان بازاروں میں بھی لے جاتی تھی اور اندرون شہر کی گلیوں میں بھی۔وہ اسے چلاتے چلے گئے،میں انہیں دیکھتا رہا کہ کتنے پاکستانی ہوں گے جو یہ” دردِ سر” مول لیتے ہیں ۔ہم میں سے اکثریت کا رویہ یہ ہے کہ ایسا”غیر متعلق”خط آیا تو پھاڑ کر پھینک دیا۔زیادہ سے زیادہ  کارنامہ سرانجام دیا بھی تو یہ کہ فون نمبر موجود ہے تو فون کردیا کہ آکر خط لے جائیں ساتھ ہی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کہ خط لینے کے لیے اگلا کئی چکر لگاتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ صاحب گھر پر نہیں ،کل آئیں،ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ گھرکے ہر فرد کو معلوم ہو  خط فلاں جگہ پڑا ہے اور فلاں شخص آئے  تو اسے دینا ہوگا۔

جنرل صاحب دو دن گاڑی چلاتے رہے۔جہاں جانا پڑا گئے،آخر سراغ لگا کر رہے اور امید وار بچی کو وقت پر کال لیٹر پہنچا دیا۔تصور کیجئے !ان کی اس دو تین دن کی دوڑ دھوپ کے دوررس اثرات۔کیا خبر اس لڑکی کے گھر کے کیا حالات  تھے؟ہوسکتا ہے والد وفات پا چکا ہو یا بیمار ہو اور کمانے کے قابل نہ ہو۔ ہو سکتا ہے لڑکی بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہو،اگر اس کو اس کال لیٹر کی وجہ سے ملازمت مل گئی تو اس کی،اس کے بہن بھائیوں کی پوری زندگی کا رخ بدل گیا ہوگا۔ ایک چھوٹی سی نیکی،ایک ذرا سی تکلیف،دو تین دن کی دوڑ دھوپ اور اس کا اثر کتنے انسانوں کی زندگیوں پر۔بلکہ ایک پوری نسل پر۔ پھر اس کے بعد آنے والی نسل پر۔ پھر اس کے بعد۔۔۔ بظاہر ایک حقیر سی خدمت،ایک چھوٹی سی نیکی کا اتنا زیادہ اثر۔سوال یہ ہے کہ یہ اثر کیسے ماپا جائے؟خط پہنچانے کے لیے مشقت،بھاگ دوڑ کرنے والے کا صلہ کیسے طے ہوگا؟غور کرنے پر ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسی لیے تو  داور حشر نے بدلے کا دن مقرر کیا ہے اور ایسی میزان کا بندوبست کیا ہے جس میں مسکراہٹوں اور مسرتوں کا وزن کیا جاسکے گا اور کرب و غم کا بھی۔۔

؎ تلیں گے کس ترازو میں یہ آنسو اور آہیں

اسی خاطر تو میں روزِ جزا کو مانتا ہوں ۔

ایسی ہی نیکی ایک نوجوان نے کی ۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ کتنا بڑا کارنامہ سر انجام دے رہا ہے ۔ایک ٹھٹھرتی ،نیم روشن شام کووہ ٹرین سے اتر کر  ہر روز کے معمول کے مطابق گھر کی طرف جا رہا تھا ۔اسے سامنے سڑک پر پڑا ایک بٹوہ نظر آیا ۔بھورے رنگ کے چمڑے سے بنا بٹوہ ،پرانا،کونے اس کے مُڑے تُڑے تھے ۔ہاں،کناروں پر ایک سرخ رنگ کی سلائی چاروں طرف دکھائی دے رہی تھی ۔اس نے بٹوہ اٹھا لیا ۔بٹوے میں ایک ایک ڈالر کے تین بوسیدہ نوٹ تھے اور کچھ بھی نہ تھا۔کوئی وزیٹنگ کارڈ نہ تھا جس پر کوئی فون نمبر یا کسی دفتر یا کسی گھر کا ایڈریس ہوتا ۔کوئی کریڈٹ کارڈ ،کوئی ڈرائیونگ لائسنس ،کچھ بھی نہ تھا ۔ایک لفافہ ٖضرور پڑا تھا ۔اتنا پرانا اور بوسیدہ کہ مکتوب الیہ کا ایڈریس مٹ چکا تھا ۔لکھنے والے کا ایڈریس پڑھا جا سکتا تھا ،وہ بھی بہت مشکل سے ۔لفافے  کے اندر ایک خط تھا ۔اس پر ساٹھ سال پہلے کی تاریخ تھی ۔اس خستہ پرانے خط پر تین سطریں لکھی تھیں۔ “ ڈئیر جان میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میری ماں نے سختی سے تمہیں  ملنے سے منع کر دیا ہے ۔میں نہیں ملوں گی ۔ہاں !ہمیشہ   تم سے محبت کرتی رہوں گی تمہاری حنا ۔”

ساٹھ سالہ پرانےخط نے نوجوان کو رات بھر نہ سونے دیا ۔صبح اٹھ کر اس نے ٹیلی فون کے محکمے سے رابطہ کیا کہ اس ایڈریس کا کوئی ٹیلی فون نمبر مل سکتا ہے؟کئی دن کے بعد اسے ایک ٹیلی فون آپریٹر نے فون   کیا اور بتایا کہ ہاں ،اس ایڈریس پرفون لگا ہے،نمبر بھی ہے مگر ہم گھر والوں سے پوچھے بغیرنمبر نہیں دے سکتے۔نوجوان نے تجویز پیش کی  کہ  آپ  ان لوگوں سے پوچھ لیجیے کہ کیا وہ بات کرنا پسند کریں گے۔بہرطور ،اس کی وہاں رہنے والی ایک عورت سے بات ہوئی۔اس نے بتایا کہ جس خاندن سے اس نے یہ گھر چند برس پہلے خریدا تھا،ان کی ایک بیٹی کا نام حنا تھا۔مگر یہ تیس برس پرانی بات تھی،گھر  خریدنے والی اس خاتون نےاس کے علاوہ صرف ایک اطلاع مہیا کی ۔کچھ سال پہلے حنا نے اپنی ماں کو ایک نرسنگ ہوم میں داخل کرایا تھا جہاں عمر رسیدہ لوگوں کی  دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ دوسرے دن نوجوان نے  شہر کے نرسنگ ہوم چھاننے شروع کردئیے۔وہ ہر نرسنگ ہوم جاتا،دفتر  والوں سے پوچھتا کیا یہاں حنا نام کی عورت کی ماں داخل ہے؟کلرک کاغذات دیکھتی اور نہیں میں جواب دیتی۔آخری نرسنگ ہوم کی وارڈن نے بتایا کہ ہاں ،حنا کی ماں یہاں داخل تھی۔مگر اس کا انتقال ہوچکا ہےاور یہ کہ حنا خود اب  ایک “ریٹائرمنٹ ہوم”میں زندگی بسر کررہی ہے۔

نوجوان نے جسم میں اور جسم کی رگوں میں ایک عجیب سی لرزش محسوس کی۔کیا  یہ  ساری مشقت یہ ساری دوڑ دھوپ کسی نتیجہ خیز انجام کا راستہ دکھائے گی؟

نوجوان نے ریٹائرمنٹ ہوم تلاش کیا۔اسے فون پر بتایا گیا کہ ہاں حنا نام کی ایک ضعیفہ یہاں رہ رہی ہے۔ اس کی عمر 76 برس ہے۔”کیا میں اس سے  ملنے آ سکتا ہوں ؟”اس نے پوچھا،ہاں !منیجر نے تذبذب سے جواب دیا۔

ریٹائرمنٹ ہوم پہنچا تو اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ حنا ٹیلی ویژن روم میں ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔نرس نے اسے بتایا کہ یہ نوجوان آپ کو  ملنے آیا ہے۔چاندی جیسے سفید بالوں والی یہ عمر رسیدہ خاتون اب بھی خوبصورت تھی۔ بہت خوبصورت! یہ اور بات کہ خوبصورتی جھریوں سے یوں چھن چھن کر آرہی تھی جسیے سورج کی کرنیں پتلے پردے سے چھن کر آتی  ہیں ۔ نوجوان نے بتایا کہ اسے ایک بٹوہ  ملا ہے جس میں حنا کے ہاتھ کا لکھا ہوا ساٹھ سالہ پرانا خط موجود ہے۔ساتھ ہی اس نے لفافہ آگے بڑھا  دیا۔خاتون لفافے کو دیکھتی رہی۔ چند ثانیوں کے لیے نوجوان کو یوں لگا جیسے اب یہ بے ہوش ہوکر گر پڑے گی۔ پھراس کے منہ سے بے اختیار نکلے”جان گولڈ سٹین ایک شاندار شخص تھا ۔مجھے اس سے محبت تھی۔بہت محبت، جو آج بھی اسی طرح ہے”۔

حنا کی عمر سولہ سال تھی جب اسے جان گولڈ سٹین سے محبت ہوئی۔وہ روایات سے وابستگی کا زمانہ تھا۔ماں باپ کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا رواج مغرب میں بھی نہ تھا۔ ماں نے کہا سولہ برس کی عمر شادی کے لیے موزوں نہیں ہے۔تم آئندہ اس سے نہیں ملو گی۔۔۔ حنا نے گولڈ سٹین  کو خط لکھ کر بتا دیا مگر کسی اور سے اس نےشادی نہ کی۔کوئی اسے  گولڈ سٹین جیسا نظر ہی نہ آیا۔

تمہیں اگر کہیں گولڈ سٹین ملے تو اسے بتانا کہ میں اب بھی اسی کے بارے میں سوچتی ہوں ۔”اس نے نوجوان سے کہا۔

حنا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نوجوان نے اجازت لی اور گھر کی طرف چلا۔ اسے ایک ادھورا اطمینان تھاکہ کچھ نہیں تو آدھا کام تو ہوگیا۔ وہ گیٹ سے نکلنے لگا تو گارڈ نے دوستانہ انداز میں پوچھا کہ خاتون کو تلاش کرنے کا مقصد پورا ہوگیا؟ اس نے بٹوہ نکال کر گارڈ کو دکھایا کہ یار یہ بٹوہ ہے جس سے تلاش شروع ہوئی۔بٹوے کامالک تو نہیں ملا مگر اس کی محبوبہ سے ملاقات ہوگئی۔

گارڈ نے بٹوہ دیکھا تو جیسے اپنے آپ سے کہا۔”اف خدایا!مسٹر گولڈ  سٹین نے بٹوہ پھر گم کردیا ۔ساتھ ہی اس نے نوجوان کو بتایا کہ یہ بٹوہ وہ کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس کے کناروں پر سرخ دھاگے کی سلائی ہے۔یہ گولڈ سٹین کا ہے جو اکثر و بیشتر اس کو کھو دیتے ہیں ۔تقدیر کے کھیل نرالے ہیں ۔گولڈ سٹین اسی ریٹائرمنٹ ہوم کی نویں منزل پر رہ رہا تھا۔ جس کی تیسری منزل پر حنا رہ رہی  تھی۔ گارڈ نوجوان کو گولڈ سٹین کے پاس لے گیا جو لائبریری میں بیٹھا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس سے پوچھا “سر آپ کا بٹوہ کہاں ہے”؟

گولڈ سٹین نے پتلون کی پچھلی جیب پر ہاتھ لگایا اور کہا ،” جیب میں تو نہیں ہے”۔ نوجوان نے اسے بٹوہ دیا اور بتایا کہ بٹوے کے  مالک کو تلاش کرنے کی خاطر اسے حنا کا خط پڑھنا پڑا۔

کولڈ سٹین پر اس  کے بعد کیا گزری اور جب وہ اپنے ہی  ریٹائرمنٹ ہوم کی تیسری منزل پر حنا کو ساٹھ سال بعد ملا تو حنا کی کیا کیفیت تھی۔ یہ جذبات اور  آنسوؤں کی ایک طویل کہانی ہے۔بٹوے کے  مالک کی تلاش کا پھل اس نوجوان کو دنیا میں یہ ملا کہ چند ہفتوں بعد جب 75 سالہ حنا اور 79 سالہ گولڈ سٹین کی شادی ہوئی تو تقریب کا مہمان خصوصی تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *