پھٹیچر رشتے کروانے والی مائی

عمران خان اور رشتے کروانے والی مائی

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہےہمارے محلے میں ایک رشتے کروانے والی مائی رہا کرتی تھی اب تو خیر وفات پا گئی ہیں لیکن جب حیات تھیں تب ہمارے محلے سمیت پورے علاقے میں کسی کی جرات نہیں ہوا کرتی تھی کہ ان کی مرضی کے بغیر اپنے بچوں کا رشتہ کہیں کر سکے کیونکہ ان کامخصوص طریقہ واردات تھا اور وہ یہ کہ جب بھی انہیں بھنک پڑتی کہ فلاں گھر کا لڑکا/لڑکی جوان ہے تو وہ فوراً کسی نا کسی کا رشتہ لے کر ان کے گھر پہنچ جایا کرتیں اور پھر تب تک والدین کی جان نا چھوڑتی جب تک کہ وہ اس کے ذریعے اپنے بچوں کا رشتہ نا کر دیتے نتیجتاً وہ کمیشن کی مد میں بھاری مال پانی وصول کر لیا کرتیں۔ ان کا سارا گھر اسی کمائی پر چلتا تھا۔
کبھی کبھاراگرایساہوتا کہ والدین اس کی مرضی کےبغیرکہیں رشتہ کرنے لگتے تو پہلےوہ متعلقہ والدین کو مذکورہ رشتے کی ہولناکیوں سے آگاہ کرتیں۔۔بات نا بنتی تو پھر ٹیڑھی انگلیاں استعمال کرنے مذکورہ رشتے والے گھر پہنچ جایا کرتیں اور تعلق داری کا رعب جتا کر ایسے ایسے انکشافات کرتیں کہ وہ لوگ فوراً ہی اس رشتے سے توبہ تائب ہو جاتے۔۔
اگر کچھ ڈھیٹ قسم کے لوگ اس کی باتوں کو خاطر میں نا لا کر رشتہ کر لیتے تو وہ سارا سارا دن بڑبڑاتی پھرتیں کہ یہ تو تھے ہی بے کار اور نکمے لوگ۔ ۔ ۔انہیں اور کوئی پوچھتا نہیں تھا وغیرہ وغیرہ
عمران خان صاحب نے آج جب پاکستان میں آ کر فائنل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر اور ریلوُ کٹے جیسے الفاظ سے نوازا تو جی میں آئی کہ خاں صاحب کا حال بھی رشتے کروانے والی مائی جیسا ہو گیا ہے۔ پہلے تو انہوں نے پی۔ایس۔ایل کے میچز کو پاکستان میں کروانے کو نیک شگون قرار دیا پھر جب لاہور میں فائنل کا اعلان کیا گیا تو اسے پاگل پن قرار دے دیا۔
خان صاحب پاکستان کے ایک بڑے سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے سابقہ کرکٹر بھی ہیں اس لیے ان کے اس بیان کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا اور اس بنیاد پر کئی غیرملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے کلی انکار کرتے ہوئے دبئی سے ہی گھر کی فلائیٹ پکڑ لی صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ لاہور میں فائنل کا انعقاد ہی خطرے میں پڑتا نظر آنے لگا مگر کرکٹ بورڈ، حکومت اور سکیورٹی اداروں کی سرتوڑ محنتوں اور کاوشوں کی وجہ سے کئی غیرملکی کھلاڑی پاکستان آنے پر رضامند ہو گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور میں ہونے والے فائنل کے اختتام تک بیرونی دنیا تو کیا تمام پاکستانی بھی شش و پنج کا شکار تھے اور دعاگو تھے کہ یہ میچ بخیریت انجام پذیر ہواورمیچ کے اختتام پر پورے ملک میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔
میں اس بحث میں جائے بغیرکہ پی۔ایس۔ایل کے فائنل کو پاکستان میں کروانے سے بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ہو گی یا نہیں۔ ۔ ۔ صرف اتنا کہوں گا کہ بحیثیت پاکستانی ہمیں اپنے اُن غیر ملکی مہمانوں کا شکرگزار ہونا چاہیے جو اس وقت پاکستان آئے جب ان کے ساتھی کرکٹر بےبنیاد پروپیگنڈے کو سنجیدہ لے گئے اور پاکستان میں آ کر کھیلنے کی بجائے واپس گھرلوٹنےکو ترجیح دی۔
ہماری نظر میں یہ دنیا کے عظیم ترین کرکٹر ہیں جنہوں نے ہمیں عزت بخشی۔ہمیں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوناچاہیےبجائے اس کے کہ ہم انہیں پھٹیچر اور ریلُو کٹے جیسے بےہودہ الفاظ سے نوازیں۔
ملک میں میچ کروانے کو پاگل پن قرار دینااوربعد میں شرکاء کو ایسے الفاظ سے نوازنا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے کے مترادف ہے۔
خان صاحب قومی سطح کے لیڈر ہیں انہیں چاہیے کہ وہ رشتے کروانے والی مائی جیسی ذہنیت سے باہر نکلیں بصورتِ دیگر وہ وقت دور نہیں جب ان کی سیاست اپنی موت آپ مر جائے گی اور اس کے لیےنون لیگ سمیت کسی مخالف پارٹی کے پیروکاروں کو بھی کچھ کرنا نہیں پڑے گا۔

Avatar
ندیم رزاق کھوہارا
اردو زبان، سائنس، فطرت، احساس، کہانی بس یہی میری دنیا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *