گڈانی کے بدنصیب مزدور

گڈانی میں جل کر کوئلہ ہوئے بدنصیب انسان مجھے بھی بھولے ہوئے تھے کہ اس دوران محمد فیصل خان کی درد سے لبریز کال موصول ہوئی جو شاید وہیں سے رپورٹنگ کر رہا تھا;

” یار فیض بھائی اس پہ لکھو، یہ میڈیا تو عمران خان اور نواز شریف میں لگا ہوا ہے انہیں کوئی احساس ہی نہیں کہ کتنا بڑا سانحہ ہوچکا ” ۔

میں نے اسکی کال سنی اور سوچنے لگا کہ؛

میڈیا کو کیوں احساس ہونے لگا ؟

سرکار کو کیا پڑی ہے ؟

اپوزیشن کا کب سے یہ مسئلہ قرار پایا ؟

اہل مذہب کے تو دکھ ہی اور ہیں انہیں کیا پڑی عامیوں کے جھنجھٹ میں الجھنے کی ؟

سول سوسائٹی یا این جی او مافیا کو اس دھندے سے کیا لینا دینا ،کون سے انہیں پیسے ملیں گے اس ایشو کو اچھالنے کے؟

پھر ایسے میں کیڑے مکوڑے مافق انسانوں کے زندہ جلنے کا ہم کیوں سوگ منائیں ؟

آتش و آہن کے زخیرے سے رزق نکالنے والوں سے بھلا ہمیں کیا غرض ؟

ٹی وی کی ترجیحات دیکھوں تو ایک غریب میلے گندے مزدور اور کالک لگے چہرے والے غلام انسان سے میرا کیا واسطہ ؟

دیکھ بھائی فیصل !

یہ بیس کروڑ کی آبادی ہے اور دس بیس تو یونہی مرجاتے ہیں کسی بس کے نیچے کام کرتے کرتے ، کسی سرمایہ دار کی کثیر المنزلہ عمارت بناتے بناتے ، شیشوں کی بنی لمبی بلڈنگ کی کھڑکیاں لٹک کر دھوتے دھوتے ۔

بھیا فیصل !

یہ مقدر ہے انکا، انکے مرنے اور کوریج نہ ہونے پہ دکھی ہونے کا بالکل بھی نہیں ۔

برادر فیصل !

دیکھ، دکھ وہ ہوتا ہے جس سے یوسف رضا گیلانی یا سلمان تاثیر کی فیملی گزرتی ہے ۔ یہ مزدور کب سے انسانوں کی فہرست میں شمار ہونے لگے ؟

اور ہاں فیصل خان ۔

اب مجھے دنیا کے سب سے بڑے انسان کی یہ بات سنا کر جذباتی کرنے کی کوشش تو قطعی نہیں کرنا کہ ” مزدوری کرنے والا اللہ کا دوست ہوتا ہےیا پھر یہ کہ “پسینہ خشک ہونے سے قبل اجرت دو ” ۔۔

سن جانی !

اب یہ تحقیق کرکے میرا دماغ مت پی کہ فلاں مزدور کے گھر میں یہ مسئلہ تھا،

فلاں کو یہ پریشانی تھی,

اس مزدور کے گھر میں شادی تھی،

اسکے علاج کا چکر تھا،

وہ والا اکلوتا تھا ۔

یہ والے پرابلمز ہر دوسرے گھر کے ہیں ، اور یہ انگاروں کی طرح سوختہ لاشے خود ہی اس حالت کے ذمہ وار ہیں ۔ ہمیں کیوں ٹینشن دے رہا تُو ؟؟
اٹھارہ نہیں، اٹھارہ ہزار مزدور بھی زندہ جل مریں تو بھی ہمیں ، ہماری سرکار ، اھل سیاست و صحافت سول سوسائٹی اور مذھبی لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے؟

فیصل بھائی؛

رزق خاک ہوئے، اللہ کے دوستوں کے سود و زیاں کا کیا سوچنا کیسے سوچنا اور کیوں سوچنا ؟ اللہ کے باغی دے ہی کیا سکتے ہیں ان جھلسے اجسام کو ؟؟
سو مناسب یہی ہوگا کہ ہم اپنی زندگیوں میں مگن رہیں عیاشی کریں اور مزدوروں کیساتھ جو ہوا ، مقدر کا لکھا مان کر انکے نصیب کو سارا دوش دے ڈالیں ۔

یہی صحافت ہے ، یہی عدالت ہے ، یہی سیاست ہے !!!

Avatar
فیض اللہ خان
ایک عملی صحافی جو صحافت کو عبادت سمجھ کر کرتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *