ہوگو شاویز،سلام تجھ کو تری ارضِ باحمیت کو

ہوگو شاویز: سلام تجھ کو تری ارضِ باحمیت کو
( 5مارچ چوتھا یوم وفات)
مشتاق علی شان
5مارچ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز کا چوتھا یوم وفات ہے ۔وہ 2013میں 58سال کی عمر میں کینسر کے عارضے کے سبب وفات پا گئے تھے اور انکا کیوبا میں متعدد بار علاج بھی ہوا تھا ۔ ان کی بیماری کے خبروں سے دنیا بھر کے انقلابی، ترقی پسند،عوام دوست ،مزدور دوست اور سامراج مخالف حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی ۔لیکن شاویز کی بے وقت جدائی کی خبر سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا ۔معروف انقلابی طریقوں کے برعکس پارلیمانی ذرائع سے اقتدار میں آنے والے شاویز14سال تک امریکی سامراج اور اسکے مقامی گماشتوں کا ہمت وبہادری سے مقابلہ کر تے رہے ۔انھوں نے اقتدار میں آکر IMF اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت سامراجی اجارہ داروں کو لگام دی اور وینزویلا کی تیل کی صنعت سے ہونے والی آمدنی کو صدیوں سے کچلے ہوئے محنت کش عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کرنے کے اقدامات کیے۔ سامرجی اجارہ داروں بالخصوص امریکی سامراج کے نزدیک ان کا ایک جرم اپنے وطن کے وسائل کا خود مالک ومختار بننا تھا تو دوسری جانب سوشلسٹ کیوبا سمیت دنیا بھر کے سامراج دشمن ممالک سے انکے پرجوش برادرانہ تعلقات تھے ۔ غربت کے خاتمے کے لیے غریبوں کی حکومت کے حامی شاویز اس رجعتی اور ردِ انقلابی دور میں ایک نئے ولولے کی علامت تھے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات وینزویلا سے لیکر کیوبا،ارجنٹائنا،بولیویا، نگاراگوا ،برازیل وغیرہ سے لیکر شمالی کوریا، فلسطین،لیبیا، شام، عراق، ایران وغیرہ تک میں محنت کش عوام اور مظلوم اقوام کوسوگوار کر گئی ۔
ہوگو شاویز بچپن سے جوانی تک
ہوگو شاویز28جولائی1954کو وینزویلا کے ایک قصبے سبانیتا میں پیدا ہوئے۔ غریب کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے انکے والدین اسکول ٹیچر تھے جبکہ شاویز کا بچپن اپنی کسان دادی کے ساتھ گزرا۔یہی وجہ ہے کہ شاویز خود کو کسان بچہ کہا کرتے تھے۔انھوں نے ابتدائی تعلیم جولین پینو نامی اسکول میں حاصل کی اور بعد ازاں باریناس کے ڈینیل فلورینو اوٹیری اسکول میں داخل ہوئے ۔1971میں 17سال کی عمر میں شاویز وینزویلین اکیڈمی آف ملٹری سائنسز میں داخل ہو گئے جہاں سے انھوں نے 1975میں سب لیفٹیننٹ کے عہدے کے ساتھ ملٹری آرٹس اینڈ سائنسز کی ڈگری حاصل کی۔فوجی ملازمت کے کچھ عرصے بعد شاویز کو کراکس میں واقع سائمن بولیور یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کرنے کی اجازت مل گئی۔
ہوگو شاویز کے ذہن پر تین واقعات ہمیشہ نقش رہے جو انکی شخصیت کی تعمیر میں مہمیز ثابت ہوئے۔پہلا واقعہ بچپن میں اپنے دوست جارج کو ’’چائلڈ لیبر‘‘ بنتے دیکھنا تھاجسکے والدین فوت ہو گئے تو وہ بجائے پڑھنے کے مزدوری پر مجبور ہوا۔ دوسرا واقعہ بھی انکے بچپن کے زمانے کا ہے جسے خود شاویز نے یوں بیان کیاکہ’’ میرا چھوٹا بھائی اینسو بہت خوبصورت بچہ تھا ۔ایک دن وہ بیمار ہو گیا ،وہ ایک چبوترے پر لیٹا ہوا تھا۔وہ ہر وقت مسکراتا رہتا تھا لیکن وہ مر گیا !!کوئی ڈاکٹر نہیں تھا جو اس کا علاج کرتا ۔وہ ان بچوں میں سے ایک تھا جنھیں غربت کی بلا نگل گئی۔ تیسرا واقعہ شاویز کی نوجوانی کے زمانے کا تھا جب وہ 21سال کی عمر میں نیا نیا ملٹری اکیڈمی سے فراغت کے بعد اپنے ہی آبائی علاقے میں کمیونسٹ انقلابیوں کی ایک احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔یہاں اس نے فوجیوں کو غریب کسانوں پر گولیاں برساتے دیکھا تو گوریلوں کے ہاتھوں بے شمار فوجیوں کو بھی موت کے گھاٹ اترتے دیکھا۔ ان سوالات نے ہمیشہ شاویز کو بے چین رکھا کہ کون درست ہے؟ تیل کی بے بہا دولت کے مالک سرمایہ دار یا بھوک بیماری کے ہاتھوں مرتے ہوئے مدقوق اور زرد رو بچے؟ غریب کسان،کمیونسٹ گوریلے یا سرکار کے مسلح سپاہی؟ انہی سوالات نے شاویز کو پولٹیکل سائنس جیسا مضمون پڑھنے کی جانب مائل کیا ۔یوں ایک طرف شاویز فوج میں ترقی کی منازل طے کرتے رہے تو دوسری جانب ان پر انقلابی عوام دوست سیاست کے نت نئے در بھی وا ہوتے رہے۔
اب سائمن بولیوار ان کا ہیرو تھا ۔ وہی سائمن بولیوار جس نے انیسویں صدی میں ہسپانوی سامراج کے خلاف وینزویلا ،کولمبیا،بولیویا اور پیرو کی آزادی کا علم بلند کیا تھا۔ جو لاطینی امریکا کی آزادی اور اتحاد کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا۔ہسپانوی سامراج تو لاطینی امریکا سے رخصت ہو گیا لیکن اس کی جگہ امریکی استعمار نے لے لی،جسے لاطینی امریکا کے عوام نے’’یانکی سامراج‘‘ کا نام دیا۔ یوں ’’یانکی سامراج‘‘ ایک نفرت انگیز نام بن گیاکہ لاطینی امریکا سے لیکر ایشیا اور افریکا تک سب اسی موذی کے ڈسے ہوئے ہیں۔محنت کش عوام اور مظلوم اقوام اس سے بجا طور پر نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ دشمن ہے نوعِ انسانی کا، یہ دشمن ہے امن ،آزادی اور مساوات کا یہ دشمن ہے ہر اس قدرکا جو انسانیت کو آگے لیکر جاتی ہے۔ہاں اس لبرل فسطائیت کے گن گاتے ہیں تو وہ جو اس کے ’’خوانِ نعمت‘‘ پر پلتے ہیں یا پھر اسکی لوٹ کھسوٹ میں حصہ دار ہیں۔
شاویز بغاوت سے پارلیمنٹ تک
80کی دہائی میں جبIMFکا سرطان وینزویلا میں پھیلا تو یہاں کے محنت کش عوام کی حالت اور بھی دگرگوں ہو گئی ۔1989میں وینزویلا کے صدر کارلوس آندرے پیریز نے تو IMF،ورلڈ بینک اور نیولبرل ایجنڈوں پر عمل درآمد کے سابقہ ریکارڈ بھی توڑ ڈالے ۔ کارلوس نے سامراجی اجارہ داروں کے مفادات کے پیش نظر غریب عوام پر خرچ کیے جانے والے بجٹ میں کمی کر دی (یہ بجٹ پہلے بھی کوئی اتنا زیادہ نہیں تھا)۔27فروری1989کو عوام اس وقت سڑکوں پر نکل آئے جب تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک میں ٹرانسپورٹ کے کرائے کئی گنا بڑھا دئیے گئے ۔ عوام کے احتجاج کو کچلنے کے لیے کارلوس کے حکم پر فوجی بندوقوں کے دھانے کھل گئے جسکے نتیجے میں سینکڑوں لوگ مار ے گئے۔اس موقع پر شاویز نے جو اُس وقت لیفٹیننٹ تھے سائمن بولیوار کے ان الفاظ کہ’’ لعنت ہے اُس فوج پر جو اپنے ہی عوام پر گولی چلائے‘‘ کی لاج رکھتے ہوئے عوام پر گولی چلانے سے انکار کر دیا ۔یہ ان کی پہلی حکم عدولی تھی جسکے بعد وہ بغاوت کے راستے پر بڑھتے چلے گئے۔وینزویلائی عوام کا احتجاج اور مزاحمت طاقت اور بندوق کے ذریعے کچل دی گئی لیکن شاویز کے سینے میں بغاوت کے شعلے سرد نہ ہوسکے۔
اس موقع پر شاویز اور انکے ساتھی فرانسسکوایریاس کارڈیناس نے کارلوس حکومت کے ظلم وجبر،لوٹ مار ،کرپشن اور معاشی وسماجی بدحالی کے خلاف MBR200(مومنتو بولیورنو ریولشنو200)کے نام سے ایک گروپ قائم کیا ۔یہ گروپ 1994میں ففتھ ری پبلک موومنٹ‘‘ کے قیام پر منتج ہوا ۔1998میں ہوگو شاویز اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے صداراتی انتخابات میں حصہ لیکر کامیاب ہوئے۔آہستہ آہستہ شاویز فوج میں ایسے ساتھی جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے جو اس نظام سے بیزار تھے۔ کارلوس سرکار کے جبر،کرپشن اور سامراجی جی حضوری میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔اس صورتحال کے پیش نظر شاویز اور انکے ساتھیوں نے بغاوت کے ذریعے کارلوس سے نجات حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ 4فروری1992کو 5فوجی یونٹ شاویز کی قیادت میں روانہ ہوئے ۔انکا منصوبہ دارالحکومت کراکس میں واقع صدارتی محل، وزارتِ دفاع اور ملٹری ائیرپورٹ وغیرہ پر قبضے کا تھا۔ لیکن درست منصوبہ بندی نہ ہونے اور کچھ اندرونی خامیوں کے باعث یہ بغاوت ناکام ہو گئی ۔شاویز گرفتار کر لیے گئے لیکن انھیں ٹیلی ویژن پر باقی باغیوں سے کارروائیاں روکنے کے لیے خطاب کا موقع دیا گیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاویز نے T.Vکے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچاتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ ہماری یہ ناکامی عارضی ہے ۔ بدعنوان اور کرپٹ حکومت کے خلاف اس اقدام نے شاویز کو وینزویلا کے عوام کا ہیرو بنا دیا ۔ شاویز کو وینزویلا کی بدنام زمانہ جیل ’’ہارے پرزن‘‘ میں قید کر دیا گیا ۔ ایک سال بعد2مئی1993کو کارلوس پیرز کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا گیا ۔بعد ازاں انتخابات میں رافیل کالڈیرا نئے صدر منتخب ہوئے جنھوں نے 1994میں شاویز کی سزا معاف کرتے ہوئے انھیں رہا کر دیا۔اب شاویز عوام کے درمیان تھے ،انکے زبردست اندازِ خطابت نے عوام کے دل موہ لیے۔صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ محض ایک شعلہ بیان مقرر تھے بلکہ اس لیے کہ ان کی بات میں سچ کی طاقت تھی ۔ اس زمانے میں شاویز نے نہ صرف ملک گیر دوروں میں امریکہ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انھوں نے پڑوسی ممالک کیوبا، ارجنٹائنا، یوروگوئے،چلی اور کولمبیا وغیرہ کے بھی دورے کیے۔ اسی سچ کی طاقت کی بدولت شاویز 6دسمبر1998کو ہونے والے انتخابات میں56%ووٹ لیکر وینزویلا کے صدر منتخب ہوئے اور انھوں نے صدارت کا حلف2فروری1999کو لیا۔
کیا ہوگو شاویز کمیونسٹ تھے؟
کیا ہوگو شاویز کمیونسٹ تھے؟ یہ سوال ہمیشہ مختلف حلقوں میں رہا ہے ۔کچھ لوگوں کے خیال میں وہ سوشلسٹ ( بمعنی سوشل ڈیمو کریٹ) تھے۔جبکہ کچھ حلقے شاویز کو ’’ڈیمو کریٹک سوشلزم‘‘ اور ’’اکیسویں صدی کا سوشلزم‘‘ جیسی اصلاحات کے تناظر میں ایک نئے قسم کا مارکسسٹ قرار دیتے رہے ۔ لیکن شاویز جیسے شخص کو محض سوشل ڈیمو کریٹ قرار دینا انکے ساتھ زیادتی ہے ۔ اپنی ساری زندگی میں ان کے دامن پر ایسا کوئی داغ نہیں رہا جس سے سوشل ڈیمو کریسی سرتاپا آلودہ ہے ۔ شاویز نئے قسم کے مارکسسٹ بھی نہیں تھے اورعا م معنوں میں وہ ایک لینن وادی کمیونسٹ تو بالکل نہیں تھے ۔انکے زیر قیادت 14سال تک بے شک وینزویلا میں تبدیلیوں کا دور رہا جس کے نتیجے میں وہاں کے عوام نے جو کچھ پایا اسکا اس سے قبل وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ شاویز کے کیے گئے سارے اقدامات بنیادی طور پر اصلاحات کے زمرے میں آتے ہیں جس میں بہرحال ان کے معروض کے جبر سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اس نے دیانت داری سے جو ممکن ہو سکا کر دکھایا ۔
رہ گیا ’’ڈیمو کریٹک سوشلزم‘‘ اور ’’اکیسویں صدی کا سوشلزم‘‘ تواپنی جدوجہد سے بھرپور ساری تاریخ میں سوشلزم کے اپنے ساتھ ایسے سابقے یا لاحقے لگانے کی ضرورت نہ کبھی محسوس ہوئی اور نہ آج یہ ضرورت ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سوشلزم محنت کش طبقے کی آمریت کا نام ہے جسے پرولتاری آمریت کہا جا تا ہے۔ اگر سوشلزم پرولتاری آمریت نہیں ہے تو پھر یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ پرولتاری آمریت کا سرمایہ دارانہ جمہوریت سے موازنہ یا تقابل ہی غلط ہے کیونکہ یہ اس جمہوریت سے کہیں آگے کی چیز ہے اور یہ مارکس ازم، لینن ازم کے ان بنیادی ستونوں میں سے ہے جس کے ہٹا دینے سے یہ عمارت ہی دھڑام سے گر جاتی ہے ۔
جہاں تک ’’اکیسویں صدی کے سوشلزم ‘‘کا تعلق ہے تو سوشلزم کو اپنی ساخت اور ماہیت کے اعتبار سے کسی خاص عہد یا صدی سے مخصوص کرنا اس جدلی اصول کی نفی ہے جس کے تحت اشیاء میں جدلی ربط اور جڑت ہوتی ہے اور اس اصول کا اطلاق تاریخی مادیت پر بھی ہوتا ہے۔ اس بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی سائنٹفک سوشلزم کے جنم کی صدی تھی جس کا سوشلزم کے سابقہ یوٹوپیائی تصورات سے ایک جدلی ربط اور جڑت تھی ۔اور سائنٹفک سوشلزم اسی کی ایک کیفیتی شکل ہے جس کا اگلا ناگزیر مرحلہ کمیونزم ہے ۔ اس کے بعد ہمیں پیرس کمیون سے انقلابِ روس اور اسکے بعد تک اس کے اطلاق کا تسلسل ایک جدلی ربط کے ساتھ نظر نہیں آتا ہے جوآج بھی عوامی جمہوریہ کوریااور کیوبا کی پرولتاری آمریتوں کی شکل میں دیکھاجا سکتا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں اصلاحات ان ترمیم پسندانہ اور انحرافات پر مبنی خیالات کو ایک طرح سے جواز فراہم کرتی ہیں ہر انقلاب کو ردِ انقلاب کہنا جن کا وطیرہ ہے اور ہر ردِ انقلاب جن کے نزدیک عین انقلاب ہے۔ یہ انقلابیوں پر کبھی ’’تحکم پسندی‘‘ اور’’ اصلاح پسندی ‘‘کا لیبل چسپاں کرتے ہیں تو کبھی مرحلہ واریت ہدفِ تنقید ٹھہرتی ہے لیکن شاویز کی مرحلہ وار اصلاحات( جسے دنیا بھر کے انقلابی بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں) کو ’’انقلابِ وینزویلا ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔
دراصل شاویز کی نظریاتی اساس اور ساخت کو سمجھنے کے لیے اسکے سیاست میں آنے کے دور کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔1992میں جس وقت شاویز نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آنے کا فیصلہ کیا یہ وہ دور تھا جب دنیا بھر میں سوشلسٹ بلاک کے انہدام کے بعد سوشلزم کے ناکامی کا پروپیگنڈا زوروں پر تھا ۔اس پس منظر میں ناکام فوجی بغاوت سے لیکر پارلیمانی ذرائع سے منتخب ہونے اور پھر اپنی وفات تک شاویز ایک ایسے راہنما کے طور پر نظر آتے ہیں جو سرمایہ داری کی تباہ کاریوں سے نفرت کرتے تھے اور سامراجی تسلط اور اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتے تھے، جن کے فکری دھاروں کا ماخذ سامراج مخالف بولیوارین قوم پرستی اور قدیم مسیحی اشتراکیت سے لیکر ’’لبریشن تھیالوجی‘‘میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ لبریشن تھیا لوجی پورے لاطینی امریکا میں ایک مسیحی انقلابی رحجان ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جنابِ مسیح کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا طریقہ آج یہ ہے کہ ہم محنت کش عوام، مظلوم اقوام ،سوشلسٹ اور سامراج مخالف جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ شاویز کے فکری رحجانات کو سمجھنے کے لیے 2005کے ورلڈ سوشل فورم سے ان کا خطاب بھی اہم ہے جس میں انھوں نے خود کو ایک نئے قسم کا لیڈر(مارکسسٹ نہیں) تسلیم کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ بہت سے پرانے طرز کے لیڈروں سے بھی فیضان حاصل کرتے ہیں۔اس خطاب میں شاویز نے جنابِ مسیح سے لیکر سائمن بولیوار ،چے گویرا، فیدل کاسترو، سان مارٹن، زپاٹا، پانچو ولا ، سینڈینو اورٹوپک امارو وغیرہ سے اپنا فکری رشتہ جوڑا
تھا۔ اسی خطاب میں شاویز نے کہا تھا کہ’’ میں ملٹری اسکول میں داخلے کے زمانے سے ماؤاسٹ رہا ہوں ،میں نے چے گویرا اور سائمن بولیوار کو پڑھا ہے ۔میں انھیں پڑھ کر ’’بولی وارین ماؤ اسٹ‘‘ بن رہا ہوں ،سب کا آمیزہ ۔‘‘یہ آمیزہ بہرحال شاویز کو ایک لینن وادی ،ایک کمیونسٹ بنانے میں ناکام رہا ۔14سال کے عرصے میں ایک لینن اسٹ اشتراکی جماعت کی تعمیر سے لیکر پرولتاری آمریت اور منصوبہ بند معیشت تک کے مراحل طے کیے جا سکتے تھے ۔ان تمام باتوں کے باوجود شاویز کا کیا ہوا کام مایوسیوں کے اس دور میں لائقِ صد تحسین ہے جنھوں نے اپنے حالات، سمجھ اور فہم کے مطابق ’’سوشلزم‘‘ کی جانب پیشرفت کی کوشش کی۔
کیا شاویز قتل کیے گئے ہیں؟
شاویز کی کینسر کی بیماری کے نتیجے میں موت کو انکے سیاسی جانشین نکولس مدورو نے امریکی سامراج کی جانب سے قتل قرار دیا تھا۔انھوں نے امریکہ کے دو ملٹری اتاشیوں کو ملک میں عدم استحکام کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزام میں وینزویلا چھوڑنے کا بھی حکم دیا تھا۔ نکولس مدورو نے امریکا کو صدر شاویز کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعے زہر دیا گیا جس میں دونوں سفیروں نے کردار ادا کیا ۔ امریکا نے اس الزام کو مسترد کیا ہے لیکن دنیا بھر میں یہ خیال تقویت پکڑ تارہا کہ شاویز کی موت میں امریکا ملوث ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف رشیا کے جنرل سیکریٹری کامریڈ گینادی زوگانو ف نے بھی اسے ممکنہ امریکی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے اور آزاد وخود مختار ریاستوں پر مشتمل ایک موثر الائنس کے لیے کوشاں رہنے والے لاطینی امریکا کے چھہ سربراہانِ مملکت بیک وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ہوگو شاویز کے علاوہ کینسر میں مبتلا ہونے والوں میں ارجنٹائنا کی خاتون صدر کرسٹینا فرنانڈز، برازیل کی خاتون صدر دلمارو سیف، پیراگوئے کے صدر فرنانڈو لوگو اور برازیل کے سابق صدر لولہ ڈی سلوا شامل ہیں ۔‘‘
اس خیال کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ امریکا اس سے قبل متعدد بار شاویز کو قتل کرانے کی کوششیں کر چکا ہے اور یہ سلسلہ بش سے لیکر اوبامہ تک جاری رہا ۔منتخب لوگوں کا قتل سرد جنگ کے زمانے سے امریکی سامراج کا حربہ رہا ہے ۔لاطینی امریکا میں ستمبر1973میں چلی کے صدر سلوا دور الاندے کا قتل اس کی ایک بڑی مثال ہے ۔جبکہ فیدل کاسترو پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کی تعداد تو سینکڑوں میں ہے ۔ شاویز کی وفات سےکچھ عرصہ قبل فیدل کاسترو نے شاویز کا محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ تم اپنا خیال نہیں رکھتے ان لوگوں (امریکا) نے نئی ٹیکنا لوجی متعارف کی ہے۔‘‘ یہ نئی ٹیکنا لوجی امریکا کے ’’جینو مک ہتھیار‘‘ ہیں جن کے ذریعے انسانوں کو موذی اور ناقابلِ علاج امراض میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ CIA 2007میں فیڈل کاسترو کے خلاف بھی یہ ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔اس لیے اغلب گمان یہی ہے کہ شاویز کو قتل کیا گیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخری نتیجے میں ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔چے گویرا،سلوادور الاندے، ایملکار کیبرال، پیٹرس لوممبا، میکیا نگوما، سیمورا میشل، نکولائی چاؤشسکو، ڈاکٹر نجیب اللہ ،معمر قذافی اور ہوگو شاویز فنا کے گھاٹ نہیں اتارے جا سکے ہیں ۔سامراج انھیں کیا قتل کرے گا کہ حواس باختہ سرمایہ داری خود قتل ہونے چلی ہے۔
2007میں شاویز نے تیسری بار صدارتی حلف اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اے مادرِ وطن میں حلف اُٹھاتا ہوں کہ اب یا سوشلزم ہو گا یا موت۔‘‘ شاویز کی زندگی میں وینزویلا کی سرزمین پر سوشلزم کا سورج طلوع نہیں ہو سکا مگر جلد یا بدیر وینزویلا کے محنت کش اپنی اشتراکی جماعت تعمیر کرتے ہوئے سرمایہ داری کی جہنمی مشین کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ۔خوں آشام سرمایہ داری کسی تاریخی عمل کے نتیجے میں رفتہ رفتہ فنا نہیں ہو گی بلکہ اس کی موت کا اعلان طبقے کی بندوق کرے گی۔ہوگو شاویز ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔انسانی تاریخ میں 14سال کا عرصہ شاید ایک پل کے برابر بھی نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ شاویز کے یہ14سال انھیں تاریخ میں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں ۔ جب لاطینی امریکا کا ذکر ہو گا سائمن بولیوار، جوزے مارتی، پانچو ویلا، سندینو ، چے گویرا، فیڈرل کاسترو اور سلوادور الاندے سمیت شاویز کو انسانیت سلام پیش کرے گی۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *