ہماری قوموں اور قبائل کی حقیقت۔۔طلحہ شہادت

  قوم یا قبیلے کا تعلق حسب اور نسب کے ساتھ ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں جب علم الانساب کے ماہرین موجود ہوا کرتے تھے تب یہ معاملہ نہایت سادہ تھا۔ لیکن وہ بھی صرف عربوں کے یہاں پائے جاتے تھے۔ آریائی، دراوڑی، چینی اور ترک نسلوں میں ایسا کوئی انتظام نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے نسب کو دیومالائی کرداروں سے منسوب کیے رکھتے تھے۔ آج کی دنیا میں نسل انسانی کے آغاز کے متعلق دو نظریات بہت طاقتور ہیں۔

1: آفاتی نظریہ تخلیق آدم علیہ سلام

2: ڈارونی نظریہ ارتقاء انسان

لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ آج کل کے دور میں ہم جن گروہوں کو ذات برادری قوم یا قبیلہ سمجھتے ہیں ان میں سے کسی کے بھی جینز (DNA) 100 فیصد خالص نہیں ہیں۔ مطلب یہ کہ ہر موجودہ قوم و قبیلہ سابقہ اقوام و قبائل کے باہم گھل مل جانے  اور افزائش نسل کے نتیجے میں بنا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایک گروہ ایسا نہیں جو قوم ہونے کا دعوی کرکے خود کو باقیوں سے الگ کرلے اور اس کو چند سو سال سے پیچھے کی اپنی تاریخ کے سوا کچھ معلوم ہو۔

قدیم علم الانساب تو تقریباً  ختم ہو چکا ہے لیکن جدید علوم کے ماہرین نے ایک علم متعارف کروایا ہے جس کو فائلوجنیٹکس (Phylo genetics) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت قوموں اور قبیلوں کے ڈی این اے لے کر ان کے آپسی رشتے کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ اور مزیدار بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک بھی قوم ایسی نہیں ملی جس کے ڈی این اے میں کسی دوسری قوم کے ڈی این اے کی آمیزش نہ ہو۔ ایک اور پر لطف بات یہ کہ جب گورے انگریزوں کو پتہ چلا کہ ان کے ڈی این اے کا کچھ حصہ کالے افریقیوں کا ہے تو ان کے سینے پر صحیح سانپ لوٹے اور اپنی ہی سائنس کو کوسنے لگے۔

قوم کے بارے میں ہمارے نظریات چاہے کچھ بھی ہوں۔ ہم چاہے رنگ کو، نسل کو، زبان کو یا مکان (ملک و صوبہ) کو قوم بنا لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری انسانیت ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہے (محقققین کو Y کروموسوم EVE حواء کا ثبوت مل چکا ہے)۔ سب سے ناقص اور کمزور بنیاد زبان یا علاقے کی بنیاد پر خود کو دوسروں سے الگ کرنا ہے۔ ہاں اگر مذہب کی بنیاد پر کوئی خود کو دوسروں سے الگ کرے تو وہ اس طرح مانا جائے گا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس خوبی سے کسی صورت انکار ممکن نہیں کہ وہ نہایت شاندار وکیل تھے۔ جب ان سے انگریز گورنمنٹ نے استفسار کیا کہ وہ کس بنیاد پر ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستان کے غیر مسلموں سے الگ قوم قرار دیتے ہیں؟ (واضح رہے کہ اس وقت کے چند بڑے بڑے مسلمان علماء بھی آسام و بنگال سے لے کر فاٹا و بلوچستان تک سب ہندوستانیوں کو ایک ہی قوم مانتے تھے) تو انہوں نے تین بنیادی دلائل سامنے رکھے۔

1: مسلمان اور ہندو آپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے۔

2: مسلمانوں کے ہیرو ہندوؤں کے ولن ہیں اور ہندوؤں کے ہیرو مسلمانوں کے ولن۔

3: ہندو جس کو پوجتے ہیں مسلمان اس کو کھاتے ہیں اور ہندو جس کو متبرک جانتے ہیں (گئو موتر) اس کو مسلمان حرام سمجھتے ہیں۔لہذا یہ کبھی آپس میں جمہوریت کے تحت اکٹھے رہیں گے تو فساد اور خون خرابہ ہوگا (جو بھارت میں آج بھی ہوتا ہے)۔

آج پاکستان میں جس جس بنیاد پر قوم بنا کر خود کو دوسروں سے الگ کیا جارہا ہے اس میں سے کوئی بھی اس پیمانے کی ایک شرط پہ بھی پورا نہیں اترتا۔ اور آخری بات یہ کہ کوئی بھی صوبائی یا لسانی گروہ اگر خود کو  الگ قوم کہتا ہے تو میں جدید تحقیقات اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر شرطیہ دعوی کرتا ہوں کہ اس گروہ کے لوگوں میں کم از کم 50 فیصد افراد ایسے ضرور ہوں گے جن کا ڈی این اے آپس میں بہت زیاد مختلف ہوگا (ویسے تو تمام انسانوں کا DNA تقریباً  %99 سے زیادہ ایک جیسا ہے)۔ اور ان میں سے 100 فیصد ایسے ہوں گے جن میں کسی دوسری نسل کے جینز کی آمیزش ہوگی۔

Avatar
طلحہ شہادت
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بائیوٹیکنالوجی کا طالبعلم ہوں۔ سماجیات، اخلاقیات، سیاسیات، اقتصادیات، روحانیات اور برطانوی سامراج کی باقیات سے گہری دلچسپی رکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *