دل کی باتیں دل ہی جانے

دل کی باتیں دل ہی جانے
فریدہ نثار احمد انصاری
نہیں۔۔یہ نہیں ہوسکتا۔۔ایک معمولی ڈانسر ہمارے گھر کی بہو، ہمارے گھر کی لکشمی، ہماری آنے والی نسل کی ماں نہیں بن سکتی۔ کس نے کہا تھا اپنا دل وہاں لگانے جہاں کے راستے مسدود ہوں ۔ہم سے پہلے پوچھا تھا کیا؟
رمیش ،ماں ۔۔دل بھی کیا کبھی پوچھ کر لگایا جاتا ہے؟ یہ تو کسی پر ایسا آتا ہے کہ وقت تھم جاتا ہے۔پتہ بھی نہیں چلتا۔اور دل ہے کہ یہ جا وہ جا۔اس پر تو موسموں کا رنگ بھی نہیں چڑھتا۔اس کا تو اپنا ہی شام کا سرمئ رنگ ہوتا ہے کہ ذرا سا میل آئے تو دل پر سیاہ چادر چھا جاتی ہے اور جہاں وصال یار ہو تو لگتا ہے موسم بہار کی نکھری نکھری دھوپ۔ماں دل کی باتیں دل والے ہی جانتے ہیں.

کرن نے رسالے سے نگاہیں ہٹائیں اور اپنی ماں کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی جو اس کے بھیا کو غرا کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں۔ میز پر سجے سجائے بہترین پکوان کھاتے کھاتے وہ بڑ بڑا رہی تھیں۔نہیں نا۔۔یہ نہیں ہو سکتا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔میں کیسے اسے قبول کروں؟ اس کی آرتی اتاروں؟ اسے پوجا میں بٹھاؤں۔نہیں اور میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔تم نہیں جانتے نیل کنٹھ کا پھول پیڑ کی اونچائی پر اگتا ہے پر زمین پر گر جانے کے کارن پوجا کی تھالی میں نہیں چڑھایا جاتا۔
کرن سوچتی رہی کہ ماں سے ساس بننے تک کا سفر کتنا مختلف ہوتا ہے۔زمانہ کتنا ہی ترقی پذیر کیوں نہ ہو جائے یہ روایات جہاں سے چلی تھیں آج بھی وہیں پر قائم دائم۔وقت کی تیز رفتاری اسے چھو کر بھی نہیں گزری۔۔ اکیسویں صدی کی ایلیٹ طبقے کی ماڈرن، اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت۔۔جس نے پچھلے ماہ ہی حقوق نسواں پر کلب میں ایک لمبی چوڑی تقریر کی تھی۔جس نے کچھ دنوں پہلے “سموہ واوہ “کروا کر نوجوان نسلوں کو جہیز نہ لینے کی ترغیب دی تھی ۔۔۔وہی جو کہ اپنی بیٹی یعنی مجھے تو ہر طرح کی ڈانس کلاسز میں ڈانس کی تربیت کے لئے بھیجتی ہیں۔پھر وہ کلاسیکل ہو یا انگریزی۔۔موسیقی کی تعلیم مجھ پر لازم قرار دی گئی۔۔حالاں کہ میرا دل وہاں جانے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ روز شام میں ماسٹرجی ریاض کے لئے آجاتے ہیں۔۔جب گھر میں میں گھنگھرو پہن کر رقص کروں تو کوئی قباحت نہیں اور اگر بھابی بن کر جو دوشیزہ اس گھر کو مہکائے اس پر اعتراض کیسا؟
یعنی اپنا خون، خون، دوسرے کا پانی؟؟ بھیا نے کتنا سمجھایا کہ سنیتا نے مجبوری اور گھر والوں کو دو وقت کی روٹی کے لئے یہ پیشہ اپنایا تھا اور وہ بھی اس وقت جب اسے کوئی ملازمت نہیں ملی تھی۔۔اس کی ماں کی بیماری بڑھ چکی تھی۔ پر غریب طبقے کی اس ضرورت کو ہم جیسے امیر کاروں میں گھومنے والے کیا سمجھ پائیں گے کہ یہ بھی دنیا کا وہ آئینہ ہے کہ جس میں کم لوگ ہی اپنا چہرہ دیکھتے ہیں اور بہت کم ہی ہیں جو اسے سمجھ کر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
اور آخر ماں کے آنسوؤں کے آگے محبت نے گھٹنے ٹیک دئیے۔۔ماں کو نہ ماننا تھا وہ نہ مانی ۔۔ایک عورت کا دل ہی دوسری عورت کے دل پر قابض ہوا۔۔سنیتا کو جب اس کا پتہ چلا تو اس غریب نے ہی اپنے قدم پیچھے ہٹا لئے۔وہ دنیا کی پرپیچ راہوں سے واقف تھی۔۔اس چھوٹی سی عمر میں اعلیٰ لوگوں کے اقدار جان چکی تھی۔۔سن گلاسیز چہرے پر سجائے یہ چہرے چاہے خود کی آنکھوں کو لوگوں سے چھپا چھپا کر رکھیں کہ مبادا کوئی آنکھوں کے راستے دل پر غاصبانہ حملہ نہ کردے۔۔اسے پتہ تھا کہ گر اس نے پیر نہیں سمیٹے تو رمیش کی ماں کے بینک اکاؤنٹ کے منہ پل بھر میں کھل جائیں گے اور اس کی ماں، اس کے بھائی بہن اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔اس نے راہ وفا میں رمیش کے ساتھ ہم رکاب ہونے سے انکار، دل پر پتہ نہیں کتنے سِل، کتنے پتھر رکھ کر کیا اور کہا کہ۔ محبت، قربانی چاہتی ہے۔دل چاہتی ہے ۔۔تب ہی تو اس کا نام محبت ہے۔۔جو، مل جائے وہ محبت کیسی؟؟ دیکھو لیلی ٰمجنوں، شریں فرہاد،رومیو جیولیٹ سبھی نے محبت کو کھویا ۔۔اپنے دل کو قربان کیا۔۔تب ہی محبت کی کتاب میں آج تک امر ہوئے۔
گر یہ مل جاتے تو، کیا انھیں ہمارے دل اس طرح یاد کرتے؟؟ نہیں نا۔۔جو نہ ملے وہی پریت نرالی۔۔جو مل جائے وہ پھیلے ڈالی ڈالی۔دیکھو ابھی بھی میرے گھر کو ، میری ماں کو میرے پریوار والوں کو میری ضرورت ہے۔۔مجھے دل کے راستے دماغ کی بھول بھلیوں کو سلجھانا ہے۔۔پتہ نہیں اس گتھی کو سلجھنے میں وقت بھی لگ جائے۔۔اس لئے بہتر ہے کہ
اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر توڑنا اچھا
چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
بس یہ کہا اور سگنل پر رکی بس میں اپنے آنسو سمیت دوڑ پڑی کہ یہاں اس موڑ پر بھی غریب کے دل امیروں کے دل سے بڑے ہی ہوتے ہیں جو بازی ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔
محبت کے سفینے یوں بہت کم پار ہوتے ہیں
کبھی یہ آنکھ میں تیریں کبھی یہ دل ڈوبتے ہیں

Avatar
فریدہ انصاری
قلم کار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *