• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مذہب اور جھوٹی معاشرتی عزت کی آڑ میں بچوں سے جنسی زیادتی کا مقدمہ۔۔عبیداللہ چوہدری

مذہب اور جھوٹی معاشرتی عزت کی آڑ میں بچوں سے جنسی زیادتی کا مقدمہ۔۔عبیداللہ چوہدری

SHOPPING

 مشاہدہ بتاتا ہے کہ مذہبی لوگ عموماً  دماغ کے ہلکے (پس ماندہ) اور انتہائی “ترسے” ہوئے ہوتے ہیں۔ اکثر بچپن میں اپنے استاد یا مولوی صاحب کے” کام” آ چکے ہوتے ہیں، تو وہ اس “کام” کو جاری رکھنے میں بھی کوئی قباحت یا عار محسوس نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک فیصد مولوی طبقہ متقی بھی ہو اور وہ بھی ایسے واقعات پر خون کے آنسو روتے ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے سانحات پر ان میں سے کوئی بولتا ہوا نظر کیوں نہیں آتا؟

قصور کے سانحہ پر ابھی مُلا اور ان کے ترجمان خاموش ہیں۔ جلد وہ بے حیائی اور اسلام سے دوری کو جنسی بے راہ روی کی وجوہات میں شامل کر لیں گے۔ امریکہ اور یورپ کے اعداد و شمار بھی نکال لیں گے۔ یہ جرم نیویارک میں ہو لندن یا پھر لاہور اور قصور میں۔ اس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مغربی معاشرہ جہاں اعدادوشمار بڑے مستند ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے جیسے ملک کا موازنہ بنتا ہی نہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں 95 فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ قصور میں گزشتہ 2 سال میں 11 لڑکیاں جان سے گئیں بس ان کا ہی ڈیٹا موجود ہے۔ کتنی اور لڑکیوں سے جزوی یا مکمل زیادتی ہوئی اس کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ شاید ہمارے تمام اندازوں سے بھی زیادہ۔ لڑکوں کی تعداد کا تو کوئی شمار ہی نہیں  اور اگر پاکستان کے اعداد وشمار لے لیے جائیں تو ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔

SHOPPING

1996 میں ایک  گروپ نے چائلڈ لیبر سروے کے دوران داتا صاحب لاہور سے چند بے گھر بچوں کا انٹرویو کیا۔ تقریباً  تمام بچوں نے چوکیدار سے لے کر بازار  والوں کا  ذکر کیا کہ وہ ان سے بد فعلی کرتے ہیں۔ وہ بچے اب اپنئ روح پر لگے زخموں کو منشیات کی مرہم لگاتے تھے۔ پاکستان میں کل کتنے دینی مدارس ہوں گے؟ دینی مدارس کا اپنا کہنا ہے کہ ان کہ تعداد کئی ہزاروں میں ہے۔ اور ان میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں۔ تقریباً  ہر مدرسے میں ہاسٹل بھی ہوتا ہے۔ اب دینی مدرسوں کے ان محفوظ ٹھکانوں میں اگر کوئی “محفوظ” رہ جائے تو اسے ایک بڑا معجزہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ہے ہمارے معاشرے کا تلخ ترین سچ۔ جس پر پردہ ڈالنے پر ریاست، مُلا اور نام نہاد دانشور   دن رات کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ جب تک اس تلخ حقیقت کا سامنا نہ  کریں گے بہتری کی توقع صرف اور صرف خواہش ہی ہو گی۔ بچوں کو اس سے متعلق آگاہی دینے کے علاوہ سب سے پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

SHOPPING

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *