مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 3 ۔ لالہ صحرائی

پروٹوکول

جزو اول : ابتدائیہ درسِ مثنوی رومیؒ

تحریر : لالہ صحرائی

دوستان ما و شما، سلامت باشید و سلام مسنون

مثنوی شریف کا آغاز کرنے سے پہلے کچھ ضروری باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں

۔

جمالیاتی ذوق ایک شرف ھے جو کسی انسان کو دیگر انسانوں سے ممتاز کرتا ھے، فطرت کے حسن سے عشق کرنے والا انسان، انسان دوست اور جہاں دوست ہوتا ھے، ایسا بندہ انسانیت کا حقیقی ترجمان بھی ھوتا ھے

رات کے کسی پہر رواں پانی میں اترتا ہوا چاند کا عکس، پھول کی پتیوں پر بارش کے قطرے، قوس قزح کا منظر، گھاس پر شبنم کی تہہ، صبح کاذب کا سَحر، انگڑائی لیکر بیدار ہوتی زندگی، پرندوں کی چہک میں گم جنگل، حسرت، آسودگی، درد و الم کے درمیان جیتی بستیاں اور شام کا غروب ہوتا سورج ایک جمالیاتی ذوق کا مشتاق رہتا ھے جو ان چیزوں کو پہچانے، محسوس کرے اور بیان کرے

کائنات میں پھیلی قدرت کی فیاضیوں پر داد نظارہ دینا انسان پر عین فرض ھے مگر کم لوگ ہیں جو غور کرتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں، ان گنے چنے لوگوں میں بھی جان کیٹس، شیلے اور موزارٹ کی طرح زیادہ تر قدرت کے حسن کو مرکز نگاہ رکھتے ہیں اور بہت تھوڑے ایسے ہیں جو حافظ، سعدی، اور جامی کی طرح صاحب قدرت کو مرکز نگاہ رکھتے ہیں ایسے لوگ بلاشبہ صاحب نظر اور صاحب دل کہلانے کے حقدار ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہست قرآن در زبان پہلوی:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

صاحب قدرت کو مرکز نگاہ رکھنے والا رومی جیسا صاحب قلب و نظر جب دین کی طرف دیکھتا ھے تو اسے کائنات کا حسن بھی کلام دین کے آگے ہیچ نظر آنے لگتا ھے، کلام الہی کی رعنائی اور چاشنی کو جب صاحب دل بیان کرتا ھے تو معنویت کے عجب چشمے رواں ہونے لگتے ہیں

مثنوی شریف ایک ایسا ہی وجد آفرین کلام ہے، یہ علم و حکمت کا ایک منفرد سمندر ہے، ندرتِ خیال کی ایک سحر خیز وادی ہے، تخلیقی ادب کا کوہ گراں ہے، اشارات، تشبیحات اور استعاروں کا وسیع و عریض جہاں ہے، آفاقی حقائق کا موجزن چشمہ، باطنی علوم کی آبشار اور لطافت کی سلسبیل ہے

مثنوی شریف دین نہیں بلکہ دین کی ایسی تشریح ھے جو ایک صاحب قلب و نظر نے کی ھے، یہ فارسی زبان میں دینی عشق و معرفت کی سحر انگیز تشریح ھے اسی لئے اس کلام کو ”ہست قرآن در زبان پہلوی ” کہا جاتا ھے، یہ تشریح ایک ایسی شمع فروزاں ہے جس کی لو پر اہل دل پتنگوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں، بیش بہا لوگوں نے اپنے گریباں چاک کئے، قیمتی اور منقش قبائیں اتار کے پھینک دیں، سونے کے نوالے اپنے اوپر حرام کر دیئے اور مولانا روم کے گرد رقص کناں ہو رہے، ایک زندہ اور آفاقی کلام کی یہی خاصیت ہے کہ وہ ہر دور میں زندہ رہتا ہے، وجد کا یہ سلسلہ آج بھی رکا نہیں، مثنوی کا وجد آج بھی ویسا ہی طاری ہوتا ہے جیسا ان کے سامنے ہوتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وجد اور تواجد:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وجد ایک ایسی قبا ھے جو انسان کا اپنے اوپر سے اپنا اختیار چھین لیتی ھے، یہ قبا لاکھ کوشش کے باوجود انسان خود نہیں اوڑھ سکتا، یہ بیٹھے بٹھائے انسان کو ایک اڑتی ھوئی چادر کی طرح آکے نہیں ڈھانپتا بلکہ یہ من کے چشمے میں کوئی کنکر گرنے سے وِرل۔پوول (whirlpool ) کی طرح اندر سے اٹھتا ھے، اس کی مقدار متوازن ہو تو بندہ جھوم کے رہ جاتا ھے اور اگر یہ من کے اوپر حاوی ہو جائے تو بندہ محو رقص ہو جاتا ھے

جیسے صحرا میں خراماں خراماں چلتی ہوا پہلے سرسرانے لگتی ھے پھر اس میں ایک ادائے بے نیازی داخل ہوتی ھے پھر اس کا وجود خود اس کے اپنے بس سے نکل کر ایک مرغولے کی شکل اختیار کر لیتا ھے اور وہ سیدھی سادھی سرسراتی ہوا دیکھتے ہی دیکھتے ایک بگولے کی شکل اختیار کر لیتی ھے اور دھول مٹی اڑاتی ہوئی ہر خس و خاشاک کو اپنے ہونے کا ثبوت دیتی چلی جاتی ھے

ایسا دریا میں بھی ہوتا ھے، خراماں خراماں چلتا ہوا پانی کسی سحر انگیز منظر کے زیر اثر تو کبھی سمندر سے ملاپ کی خوشی میں آپے سے باہر ہو جاتا ھے لیکن اپنے آپ کو کناروں کے وجود میں محصور دیکھ کر گرداب بننے لگتا ھے اور پھر وارفتگی میں گھومتا گھومتا بلآخر جوار بھاٹے میں ڈھل جاتا ھے

ایسا انسان کے اندر بھی ہوتا ھے، آپ کسی بچے کو مسلسل بلا کے نام سے ڈراتے رہیں، اس کے ذہن میں بلا کی ایک شکل اور اس کا خوف تشکیل کرتے چلے جائیں حتٰی کہ ڈر اور خوف اس کی فطرت میں رچ بس جائے تو پھر اسے تنہا بیٹھا دیکھ کر کسی ڈراؤنی شکل کا ماسک لگا کے اسے ڈرائیں تو وہ اس کا ایسا بھیانک اثر لے گا کہ اٹھ کر بھاگ کھڑا ھوگا

اگر اسی واردات کو آپ اچھے پیرائے میں انجام دے لیں تو یہی صورتحال انسان میں وجد پیدا کر دیتی ھے، کسی چیز کا خوشنما حلیہ انسان کے سامنے بیان کریں، پھر اس حلیئے سے اسے مانوس کرتے چلے جائیں، جب وہ ہم آہنگ ہو جائے تو اس کے حصول کو ممکن بتاتے چلے جائیں، اس کا شوق بڑھاتے چلے جائیں اور جب وہ اس چیز کے شوق میں وارفتگی کے عالم تک پہنچ جائے تو اس کے مقصود کی اس کے سامنے تجسیم کر دیں، اپنے مقصود کو اچانک اپنے قریب پا کر انسان کا من جھومنے لگتا ھے، ہوائے دہر کی طرح کوئی مرغولہ یا دریا کی طرح کوئی گرداب اس کے من سے اٹھتا ھے اور حصول قرب کے ان لمحات میں اسے جھومنے پر مجبور کر دیتا ھے، جب یہ کیفیت انسان کے اندر سما نہ سکے تو وجد بن کر اس کے وجود پر چھا جاتی ھے

مثنوی شریف انسان کے ساتھ مؤخرالذکر صورت پیدا کرتی ھے، اسے شریعت کی طرف راغب کرتی ھے اور خدا سے مانوس کرتی چلی جاتی ھے، بندے کے مزاج کو شریعت سے ہم آہنگ کرتی چلی جاتی ھے، عمل کی طرف مائل کرتی ھے، انسان کے من سے مٹی جھاڑ جھاڑ کر وہ حصہ دریافت کر لیتی ھے جہاں کنکر پھینکنے سے گرداب بنتا ھے، پھر کسی نہ کسی موقع پہ بندہ آہستہ آہستہ جھومنا شروع کرتا ھے،  ہوائے دہر کی طرح کوئی مرغولہ یا آب جو کی طرح کوئی گرداب اس کے من سے اٹھتا ھے اور وجد بن کر بندے کے وجود پر چھا جاتا ھے

دنیا میں ہر چیز کی ایک نقل بھی ہوتی ھے، وجد کی نقل ” تواجد ” ہے، صاحب وجد ”واجد” کہلاتا ہے تو صاحب تواجد ”متواجد” کہلاتا ہے

واجد کسی من پسند حقیقت کے آشکار ہونے پر بلا اختیار روح کی سرشاری کا مظہر بن کر محو رقص ہوتا ھے لیکن متواجد محض ذاتی نمود کے لئے پاکھنڈ کرتا ہے، اپنے مفادات کی غرض سے وجد کی طرز کا ڈھونگ رچا کر بیٹھتا ہے، بظاہر دونوں کے فعل میں مماثلت ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ان کے درمیان “کہاں رام رام اور کہاں ٹیں ٹیں” کے مصداق زمین و آسمان جیسا بُعد پایا جاتا ہے

دین و دنیا کے معاملے میں واجد اور متواجد ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں، لیکن کرگس کا جہاں اور ھے شاھیں کا جہاں اور، واجد حضرات مظاھر قدرت سے متاثر ہو کر صاحب قدرت کے شیدائی ہوتے ہیں اور متواجد حضرات مظاہر قدرت کو لے کر صرف اپنے مفادات کے گرد گھومتے ہیں، وجد جتنا اچھا فعل ہے تواجد اتنا ہی از کار رفتہ فعل ہے

تصوف میں ایک سحر بیانی ہوتی ہے جسے دوسری قسط میں اور متواجد تصوف کے مضمرات تیسری قسط میں پیش کر رھا ھوں جس میں جعلی تصوف پر مولانا رومی کے تنقیدی ارشادات اور ان کی وصیت بھی شامل ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مثنوی شریف کا اعجاز:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مولانا رومی نے پچیس سال کے عرصے میں 70،000 اشعار کہے ہیں جن میں سے 26،666 اشعار مثنوی شریف میں ہیں اور باقی سب دیوان شمس تبریز میں ہیں، مثنوی میں چھ دفاتر  ہیں جو تین جلدوں میں تقریباً ساڑھے تیرہ سو صفحات پر مشتمل ہیں

رومی صاحب نے اس کلام میں مختلف اسباق کو زیر بحث لایا ہے جن میں فلسفیانہ اور صوفیانہ رنگ میں محبت کو ایسی روحانی تازگی اور دِلی تڑپ کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ منافقت، کھوکھلے پن اور بناوٹ کا قلع قمع کر دیتے ہیں

انہوں نے مذہب سے خوف کے رنگ کو نہ صرف اڑا کے رکھ دیا ہے بلکہ خوف کے ہاتھوں لگے زخموں کو محبت کے تریاق سے مندمل بھی کیا ہے، انسان کی دینی، دنیاوی اور اخروی الجھنوں کو دور کر کے انسانی ذھن کی نشو و نما کو بڑے احسن اور ٹیکٹ فل انداز سے ہینڈل کیا ہے، رومی صاحب انسان کو گردن سے نہیں بلکہ دل سے پکڑتے ہیں اور یہ کام صرف مسلمان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی بلکہ یہ لطف و کرم وہ ہر انسان کے ساتھ کرتے ہیں

رومی صاحب کو بلا تخصیص رنگ و نسل اور مذہب ہر کوئی اپنی سوچوں کا ترجمان، دور رس مفکر اور اپنا شاعر سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ رومی صاحب صرف تصوف کے آستانوں پر ہی نہیں بلکہ یورپ کے چرچوں، صنم خانوں اور ادبی حلقوں میں بھی برابر سنے جاتے ہیں، پچھلے پندرہ سالوں میں مولانا روم امریکہ کے موسٹ فیورٹ شاعر کے طور پر جانے گئے ہیں، مولانا کے کلام کو ترجمہ کر کے نہ صرف گایا گیا ہے بلکہ اس کلام کے عکس میں پینٹنگز، شاعری، ادب حتیٰ کہ رقص کو بھی ری شیپ کیا گیا ہے

شاہ رام شیوا کے مطابق رومی صاحب میں بارہ خوبیاں ہیں، عام آدمی سے ہمکلام ہوتے ہیں، ملٹی لیول یعنی تہہ دار گفتگو کرتے ہیں، سب کےلئے یگانگت کی بات کرتے ہیں، دوستانہ گفتگو کرتے ہیں، شخصیت بلڈنگ یا پرسونل پروسس کو مہمیز دیتے ہیں، ان کے کلام کا ہر بار ایک نیا معنی کھلتا ہے، محبت کا عنصر بہت نمایاں ہے، ایک محبوب شخصیت کے طور پر ملتے ہیں،تہذیبوں کے درمیاں پل کا کام کرتے ہیں، شاعری کو ناپسند کرنے والے لوگ بھی رومی کو نظر انداز نہیں کر پاتے، انسان اپنی کایا پلٹتا ہوا محسوس کرتا ہے، رومی بہت اعلیٰ روحانی رہنما ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درس مثنوی کے اغراض و مقاصد:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مسلم دنیا میں ماضی کی بہت اعلیٰ ہستیوں نے مثنوی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا جن میں مولانا نذیر عرشی صاحب اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب علیہم الرحمۃ قابل ذکر ہیں جنہوں نے مفتاح العلوم 17 جلدوں میں اور 24 جلدوں پر کلید مثنوی کے نام سے مثنوی کی نہایت ضخیم شرحیں لکھی ہیں، ان تشریحات میں فارسی کے الفاظ، تراکیب، معانی اور دیگر عوامل کو نہایت جزئیات کے ساتھ بیان کیا گیا ھے، ان کے بعد کئی اور لوگوں نے بھی چیدہ چیدہ کام کیا لیکن ان دو کے بعد کوئی قابل ذکر نام ہے تو وہ مولانا قاضی سجاد صاحب کا ہے جنہوں نے مثنوی کا منظوم ترجمہ کیا

متذکرہ بالا تینوں کتابیں پڑھنے کے لائق ہیں لیکن ان سے اکتساب فیض جرعہ جرعہ کشید کرنا پڑتا ہے کیونکہ فارسی کلام کا لفظی ترجمہ پھر مشکل ترکیبوں، استعاروں، تشبیحات اور اشارات کی تشریح پڑھنے سے کہانی کے مرکزی خیال تک پہنچنے میں وہ تسلسل قائم نہیں رہتا جو ایک نثری مضمون میں قائم رہتا ہے، وقت کی کمی اور فارسی سے دوری کی بنا پر آج کے دور میں اتنی باریک بینی سے مطالعہ کرنے والے لوگ نظر نہیں آتے اور فی زمانہ ایسی کوئی منفرد نثری تحریر بھی موجود نہیں جو پڑھنے والوں کو ایک تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرنے کی سہولت دے

یہ درس مثنوی دین نہیں اور دین اسلام پر اسے کوئی فوقیت بھی حاصل نہیں البتہ یہ کتاب بندے کو خدائے تعالٰی اور شریعت مطہرہ کی طرف بلانے والی بہترین آواز ھے اسی لئے اس کتاب کو “ہست قرآن در زبان پہلوی” کہا جاتا ھے یعنی ”فارسی زبان میں دعوت دین کا خلاصہ ” ، جس کا مقصد بُھولے بھٹکے لوگوں کو ربِ کریم سے جوڑنا ہے، دینی معاملات کی جو تشریحات و تعبیرات مولانا رومی علیہ رحمۃ نے فقیرانہ حکمت سے پیش کی ہیں انہیں عوام میں افادہء عام کےلئے پیش کرنا اور دعوت عمل دینا میرا اولین مقصد ہے

مثنوی شریف کو پیش کرنے کا دوسرا مقصد ادبی ہے جو علمی و ادبی رجحانات رکھنے والوں کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہوگا، اب تک مولانا روم کے حوالے سے لوگ اکا دکا شعر یا منتخب اقوال کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، حالانکہ علمی دنیا کے اندر مستعمل اشارات، تشبیحات، استعارات، فلسفہ، حکایات اور کہانیوں کا ایک بہت بڑا حصہ مثنوی سے ماخوذ و مشتق ہے، جن لوگوں کو نہیں پتا کہ اس مثنوی میں کیا ہے ان کےلئے یہ مرحلہ ایک سربستہ راز کھولنے کے مترادف ھوگا

مثنوی شریف کو پیش کرنے کا تیسرا مقصد اس کلام کی نثر نگاری کرنا مقصود ہے تاکہ اسے ایک نثری کتاب کی طرح کوئی تسلسل کے ساتھ پڑھنا چاہے تو الفاظ ومعانی اور تشریحات کے جھنجھٹ میں الجھے بغیر باآسانی پڑھ سکے

مندرجہ بالا تین مقاصد کے علاوہ اس پیشکش کا اور کوئی مطمع نظر نہیں، یہ پروجیکٹ تصوف سمیت کسی بھی نظریئے یا طبقے کی پروجیکشن کےلئے نہیں ھے نہ اس پر کسی کی انویسٹمنٹ ھے، یہ میرا ذاتی شوق ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت متذکرہ بالا تین مقاصد کے پیش نظر اختیار کیا گیا ہے

درس مثنوی شریف کے اس نثری بیان میں ہر مضمون کے اندر موجود تعلیمات و خیالات، حقائق، فلسفہ، تطبیق، اشارات، تشبیحات، استعارے، محاورات، مقالات، اقوال اور ارشادات سب مولانا رومی علیہ رحمۃ کے سمجھے جائیں، میں نے اپنی طرف سے اس میں نہ کچھ ڈالا ھے اور نہ کچھ نکالا ھے بلکہ مثنوی شریف کے مضامین کو اپنے انداز بیاں اور نثر میں ڈھالتے وقت اس بات کی پوری کوشش کی ھے کہ نثری مفہوم اصل مضمون کے بالکل قریب رھے اور میرے خیالات اس میں شامل نہ ہوں تاہم جہاں کہیں وضاحت کی ضرورت محسوس ھوئی وھاں اپنے خیالات کو میں نے بریکٹس، حاشیے یا فٹ نوٹ میں پیش کیا ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انـتســـــاب :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

درس مثنوی شریف پیش کرنے کی یہ سعادت میں اپنے اور اپنے قارئین کے والدین اور اساتذہ کے نام کرتا ہوں جن کی مہربانیوں اور عنایتوں سے ہم لوگ پروان چڑھتے ہیں اور مثبت رویوں کے امین بنتے ہیں، اللہ کریم ہمارے والدین اور اساتذہ کو ان نیکیوں کا اجر بخشے اور ان پر رحم فرمائے جیسے انہوں نے ہمارے اوپر مہربانیاں کیں۔

جب میں کام کاج کے لئے گھر بدر ہوا تو اوائل عمر کا زمانہ تھا، اباجان نے جاتے وقت ایک نصیحت کی تھی کہ بیٹا اب تم میری دسترس سے دور جا رہے ہو، میں اب تمھارے اوپر نظر نہیں رکھ سکتا، اس لئے اپنی محفل کا خود خیال رکھنا، انسان جس محفل میں بیٹھتا ہے اسی کے رنگ میں آگے بڑھتا ہے، اگر کسی محفل میں لطیفہ گوئی ہو رہی ہو تو سب کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں سے بڑھ کر لطیفہ سنایا جائے، یہ انسانی فطرت ہے کہ بندہ اپنے آپ کو مسابقت میں رکھ کر دوسروں سے بازی لے جانے کی کوشش کیا کرتا ہے، بس اگر تم نے اچھی محفل اختیار کی تو بلاشبہ اچھی منزل کی طرف بڑھو گے

یہ اللہ تعالٰی کی خاص مہربانی رہی ہے کہ ہمیشہ اچھی محفل کا ساتھ ملتا رہا اور پروفیشنل اسکل کے ساتھ ساتھ ادبی تحریر میں بھی ایک خاص حد تک جانے کی کوشش لگی رہی جس کی وجہ سے آج یہ مقام آیا ھے کہ درس مثنوی پیش کرنے کی ہمت کر رہا ہوں

اللہ تعالٰی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمارے اوپر اور ہمارے والدین پر رحمت فرمائے آمین

ﺭَّﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ

ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻓﺮﻣﺎ جس طرح ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻻ، ﺁﻣﯿﻦ ثم آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مثنوی شریف کے اشکالات:

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ کے حوالے سے قاضی سجاد صاحبؒ نے لکھا ہے کہ مثنوی میں بعض جگہ پر ایسی احادیث بیان ہوئی ہیں جو احادیث کی کتب میں موجود نہیں اور صحابہ اکرام علیہم الرضوان کے متعلق بعض ایسے واقعات بھی ہیں جو سیرت صحابہؓ میں کہیں نہیں ملتے، ایسی باتیں صوفیا کے خواب یا الہام کی بنا پر ہوتی ہیں اور وہ انہیں سچ سمجھتے ہیں تاہم عوام الناس کو ان پر عمل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے کیونکہ وہ عام آدمی کے لئے شرعی حجت کی حیثیت نہیں رکھتے

قاضی صاحب نے جہاں یہ گفتگو کی وہاں انہوں نے اس بات کی کوئی صراحت نہیں کی کہ وہ احادیث اور واقعات کون کون سے ہیں لہذا میں بھی ان مقامات کو شناخت نہیں کرسکتا لیکن ایک کوشش ضرور کروں گا کہ جہاں جہاں احادیث و واقعات بیان ہوئے ہیں ان مقامات پر قاضی صاحب اور کلید مثنوی کا حاشیہ چیک کر لوں اگر تھانوی صاحبؒ اور قاضی صاحب نے ان مقامات پر کوئی نشاندہی کر رکھی ہوئی تو ضرور واضع کر دوں گا ورنہ معذرت خواہ ہوں

میں اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود اہل علم حضرات خصوصاً قاری حنیف ڈار صاحب اور احمد شاہ جمالی صاحب سے گزارش کروں گا کہ ان تشریحات پر نظر رکھیں تاکہ جہاں کہیں کوئی قابل تصحیح بات نظر آئے تو اسے ہائی لائیٹ کیا جا سکے

آپ کےلئے یہ بات بہت حیرت کا باعث ہوگی کہ مثنوی میں ڈارون کی تھیوری سے مماثل مضمون بھی موجود ھے اور بعض ایسے معاملات بھی ہیں جو بظاہر شریعت سے متصادم ہیں، یہی وجہ ھے کہ ان بعض معاملات کی مجھے اپنے علم و یقین کی بنیاد پر توجیحات کرنی پڑیں گی، اگر میرے لئے ممکن ہوا تو ان کی توجیح کر دوں گا یا پھر ان مقامات پر قارئین کو خبردار کرکے اس حصے کو اسکیپ escape  کروں گا کیونکہ شریعت بہرحال اقوال سے افضل ھے

تصوف میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو شریعت سے متصادم ہیں اور لوگ انہیں بزرگوں کا کہا ہوا سمجھ کر بعینہ اختیار کر لیتے ہیں، جب ان معاملات پر اہل شرع کی طرف سے اعتراض اٹھایا جاتا ہے تو ان کے پاس کوئی خاص توجیح نہیں ہوتی جس کی بنا پر ایک جھگڑا کھڑا ہو جاتا ہے، ان باتوں کا وہ مطلب ہوتا نہیں جو لوگ لیتے ہیں اس لئے ایسے معاملات کو ایک طرف رکھ دینا چاہیئے، ایسا ایک مظاہرہ میں قسط نمبر 9 میں کر کے دکھاؤں جو صریحاً خلاف شرع گفتگو ہے لیکن اصل میں اس کا مفہوم کچھ اور ہے بلکہ بہت دلفریب ہے ایک قسط نمبر 61 میں بھی ھوگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشگی اعــتذار :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آج کے معاشرے میں مذہبی تعصبات اور شدت پسندی کی وجہ سے لوگ دین سے دور ہوتے چلے جا رھے ہیں اور الحاد بڑھتا جا رہا ھے، ان حالات میں اگر کوئی راہ الی اللہ میں وعظ و تلقین پیش کرتا ھے تو اسے حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کی ضرورت ھے تاکہ نیکی کی آوز بلند رھے

لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ متعصب رویوں کے باعث موجودہ دور میں نیکی کا کام کرنے والوں کو بعض اوقات ایسی مشکلات پیش آتی ہیں کہ وہ بیچارے نیکی برباد اور گناہ لازم کی کیفیت سے دو چار ہو جاتے ہیں، انسان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے، الفاظ کی کم و بیش ادائیگی یا تعبیر کی غلطی سے نادانستہ کسی جگہ کوئی بات خلاف ادب یا خلاف دین بھی نظر آ سکتی ھے جو قابل اصلاح تو ہونی چاہئے قابل مواخذہ نہیں، ایسے سہو پر کفر کے فتوے کی بجائے اصلاحی توجہ ہونی چاہئے

ان حالات کے پیش نظر میں واضح طور پر بیان کرتا ہوں کہ میں سوفیصد غیر متعصب مسلمان ہوں، اپنے دین کے ساتھ ساتھ اصحاب و رفقاء رسولﷺ، اہلبیت اطہار، معتبر اسلامی شخصیات، مقتدر علماء و فقہاء اور اولیاء اکرام کا مؤدب و عقیدتمند ہوں اور اپنے دین و ایمان کو ہر چیز پر مقدم جانتا ہوں لہذا ان مقالات میں کوئی املا کی غلطی، کوئی مفہوم کی غلطی، یا کسی بھی اور طرح کی غلطی جو کسی دینی قدر یا کسی مقتدر ہستی کے ادب و لحاظ سے متصادم نظر آئے تو اسے ہرگز ہرگز میری طرف سے شعوری کوشش نہ سمجھا جائے، بلکہ ایسی بات سو فیصد سہو کے زمرے میں سمجھی جائے، اہل علم کی طرف سے ایسی کسی بھی غلطی کی نشاندہی موصول ہونے پر فوراً درست کر دی جائے گی کہ علمی دیانت اور علمی اصلاح کا یہی طریقہ کار معتبر ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تصوف میں ایک سحر بیانی ہوتی ہے جسے دوسری قسط میں اور متواجد تصوف کے مضمرات نویں قسط میں پیش کر رھا ھوں جس میں جعلی تصوف پر مولانا رومی کے تنقیدی ارشادات اور ان کی وصیت بھی شامل ھے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *