نیوٹن کا اصول “جیسی کرنی ویسی بھرنی ”

پاکستانی حکمران، سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ آجکل ایک ہی بات کا رونا روتے نظر آتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے پاکستان کے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔
بات تو سہی ہے لیکن جناب آپ نیوٹن کے تیسرے قانون سے تو واقف ہوں گے جس کےمطابق
For every action, there is an equal and opposite reaction
مطلب ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے وہ بھی برابری کی بنیاد پر۔۔لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔
ذرا یاد کریں تو صرف سولہ برس پہلے آپ نے اپنی سرزمین بھی انہی افغانوں کے خلاف استعمال کروائی تھی جس کی وجہ سے 10 لاکھ پٹھان مارے گئے تھے ۔
اوہ !! یہ آپ کو کیوں یاد ہو گا لیکن ہمیں تو یاد ہے ذرا ذرا۔۔۔
اب وہی پٹھان جن پر جلال آباد سےبے شمار حملے کروائے گئے اوربار باریہی لوگ زیرِ عتاب آئے وہ بھی کن کے لیے ؟؟
انہی کے لیے جن کے فنڈز پر آپ کو روز ترسا ترساکر مارا جا رہا ہے لیکن ہمیں عقل ہے کہ آتی ہی نہیں ۔۔
اوپر لکھی اس زہر افشانی پر خدا مجھے معاف کرے
میرا تو اس بات پر ایمان ہے کہ امریکہ افغانستان میں دعوت و اصلاح کے ایجنڈے پر تشریف لایا تھا اوراس عظیم امریکی جماعت کی نصرت کے لیے ہی ہم نے سڑکیں فوجیں وانٹیلی جنس ایجنسیاں اور ہوائی اڈے انکی خدمت میں پیش کر دیئے تھے اور ہاں یاد آیا پاکستانی تو ویسے بھی بہت مہمان نواز قوم ہے ۔
پاکستان جس کشت وخون میں لت پت ہے اسکا واحد حل یہ ہے کہ ہم حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کنوئیں میں موجود اصلی کتے کو باہر نکالیں رونے دھونے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔
خدارا آپ اپنے جیٹ طیاروں، بلیک کوبرا ہیلی کاپٹروں کی خوفناک شیلنگ، گولیوں کی تڑتڑاہٹ، فاسفورک بارود سے بھرے میزائیلوں کا رخ بے کس و لاچاردینی حمیت رکھنے والے کچے گھروں کے مالکان سادہ لوح مخلص مسلمانوں سے ہٹا کر اس کتے کی جانب کریں جو آپ کے پاک کنوئیں کو گندہ کیے ہوئے ہے اور جن کا نام لیتےآپ کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔
بہت ہو چکا میرے محترم آپ کو سیدھی راہ پر آنا پڑے گا اگر قبول نہیں تو ڈریں اس وقت سے خدانخوستہ میرے منہ میں خاک لیکن جب یہ آپ کےمنہ بولے دہشت گرد اس مملکت خدا داد و واحد ایٹمی قوت کو چیڑ پھاڑ کر رکھ دیں گےاور ہم اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مٹی کا ڈھیر نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔
اللہ اس ملک پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے اورحکمرانوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔

Avatar
مبشر ایاز
مکینکل انجینر ،بلاگر،صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *