سردیوں میں گیس کی فراہمی، ایک چیلنج

تقریباً آٹھ سال کے بعد پاکستان خصوصاً صوبہ پنجاب ميں گيس کی لوڈ شيڈنگ کا سلسلہ ختم ہوگيا ہے۔ اب سی اين جی اسٹيشنز کو پورا ہفتہ گيس ملتی تو ہے تو صنعتی شعبے کے لئے بھی سوئی ناردرن نے کوئی لوڈ شيڈنگ کا شيڈول جاری نہيں کيا۔ پہلی مرتبہ موسم گرما میں تمام شعبوں کو گیس تسلسل سے ملی۔ یہ کوئی ن لیگ کی حکومت کا کرشمہ نہیں۔ ایسا صرف مائع قدرتی گيس يا ايل اين جی کی درآمد کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اس وقت ہر روز 50 کروڑ مکعب فٹ ايل اين جي سوئي ناردرن کے سسٹم ميں آ رہی ہے۔ جس کے بعد اب بجلی کے پاور پلانٹس کو بھی فرنيس آئل اور ڈيزل کی بجائے گيس کی فراہمی شروع ہوگئی ہے۔ کھاد کے کارخانے بھي دوبارہ يوريا اور ديگر کھاديں 24 گھنٹے پيدا کر رہے ہيں۔

پاکستان ميں گيس کے بحران کي بنياد فوجی حکمران جنرل پرويز مشرف کے دور ميں رکھي گئي۔ جب کاروں اور ديگر گاڑيوں کو ماحولياتي آلودگي کے خاتمے کے نام پر پيٹرول سے گيس پر منتقل کيا گيا۔ صنعتوں کو بھي خود بجلي پيدا کرنے کي ترغيب دي گئي اور ٹيکسٹائل اور ديگر ملوں نے اپنے کيپٹو پاور پلانٹس قائم کرليے۔ ايک وقت آيا کہ پاکستان سي اين جي سے چلنے والي گاڑيوں کي تعداد ميں پہلے نمبر پر آگيا۔ گيس کا بے دريغ استعمال صرف اس مفروضے کي بنياد پر فروغ ديا گيا کہ پاکستان ميں گيس کے لامحدود وسائل ہيں۔ گيس کي قلت کا اندازہ سال 2005 کے بعد ہي ہونا شروع ہوگيا تھا۔ مگر اس مشرف دور کي توانائي پاليسي کا خميازہ 2008 انتخابات کے بعد اقتدار ميں آنے والي پيپلزپارٹي کو بھگتنا پڑا۔ اب قلت کا ھدف پنجاب کي صنعتيں اور ديگر شعبے تھے۔ پنجاب ميں گيس کي پيداوار تو صرف پانچ في صد تھي مگر ملک کي کل گيس کا 60 في صد سے زائد حصہ اسي صوبے ميں خرچ ہوتا تھا۔ رہي سہي کسر اٹھارھويں ترميم نے کردي جس کے تحت گيس پيدا کرنے والا صوبہ اپني ضروريات پوري کرنے کے بعد ہي دوسرے صوبے کو گيس فراہم کرسکتا تھا۔ يوں سندھ، خيبر پختون خوا اور بلوچستان ميں تو توانائي بحران کا اتنا اثر نہيں پڑا جتنا پنجاب کو برداشت کرنا پڑا۔ اب سرديوں ميں نہ سي اين جي سيکٹر کو گيس دستياب تھي اور نہ ہي صنعتوں کو۔ دسمبر کا آغاز ہوتے ہي گھروں ميں بھي گيس کا پريشر کم ہونا شروع ہوجاتا تھا۔ رہي سہي کسر پاور پلانٹس کو گيس اور فرنيس آئل نہ ملنے کي وجہ سے بجلي کي لوڈ شيڈنگ بڑھنے سے ہوئي۔ يوں اگر قاف ليگ کي حکومت کا خاتمہ لال مسجد کے واقعے کي وجہ سے ہوا تو پيپلزپارٹي کي حکومت تواںائي بحران کي وجہ سے گئي۔ جب فيکٹرياں بند ہوں اور صبح کو بچے اور مرد ناشتہ کيے بغير سکولوں اور کام پر جائيں تو عوام کيسے خوش ہوسکتي ہے۔ 2013 کے انتخابات ميں مسلم ليگ ن نے جيت گيس اور بجلي کا بحران حل کرنے کے نعرے سے لي۔جہاں ملک ميں گيس کي پيداوار کو چار ارب مکعب فٹ کي موجودہ سطح سے بڑھانے کي کوشش کي گئي وہيں ايران۔ پاکستان پائپ لائن اور ترکمانستان۔ افغانستان۔ پاکستان۔ انڈيا ) تاپي ( کا سنگ بنياد رکھنے کي تقاريب اور معاہدے کيے گئے۔ پائپ لائنز بچھائے بغير ان معاہدوں کا کوئي فائدہ نہيں ہونے والا تھا۔ اس کے بعد اب قدرتي مائع گيس درآمد کرنے کے علاوہ کوئي چارہ نہيں رہا تھا۔ مارچ 2015 ميں ايل اين جي کي پہلي شپمنٹ پاکستان آئي۔ اور پہلے ايل اين جي اور بعد ميں ٹيکسٹائل کے شعبے ميں درآمدي گيس فراہم کي گئي۔ ليکن طويل المدت معاہدے کے بغير ايل اين جي کي درآمد ميں کوئي تسلسل نہ آسکا۔ قطر سے مسلسل درآمد کے لئے فروري ميں وزيراعظم نواز شريف کے دورہ قطر کے موقع پر پاکستان اور قطر کے درميان گيس کي درآمد کے 15 سالہ معاہدے پر دستخط ہوئے۔ جس کے تحت پاکستان اگلے16سالوں ميں 16 ارب ڈالرز درآمد کرے گا۔ گيس کي قيمت پيٹروليم کي قيمت کا 13 في صد مقرر کي گئي ہے۔ ايل اين جي کي درآمد سے پاکستان کي ضروريات کا 20 في صد پورا ہو رہا ہے۔پاکستان ميں گيس کي روزانہ قلت 2 سے 4 ارب مکعب فٹ کے درميان رہتي ہے۔ 2032 تک گيس کي قلت پر قابو پانے کے لئے قطر سے فراہمي جاري رہے گي۔ ايل اين جي صرف پاکستان ہي درآمد نہيں کر رہا۔ اس سے پہلے چين ، کوريا، جاپان، بھارت، تھائي لينڈ، انڈونيشيا، يورپين يونين اور برازيل بھي اپني توانائي کي ضروريات پوري کرنے کے لئے درآمد کر رہےوزارت پيٹروليم و قدرتي وسائل کے مطابق گيس کي قلت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ تھرمل بجلي کے شعبے ميں فرنيس آئل کے درآمدي بل ميں 60 کروڑ ڈالرز سالانہ کمي آنے کي توقع ہے۔

ليکن ماہرين توانائي کے مطابق مائع قدرتي گيس کي درآمد بحران کا مستقل حل نہيں۔ کل کلاں بين الاقوامي منڈي ميں خام تيل کي قيمت ميں غير معمولي اضافہ ہوگيا تو درآمدي گيس کي قيمت بھي لامحالہ بڑھ جائے گي۔ اس کا حل گيس کي مقامي پيداوار بڑھانے اور پائپ لائن کے ذريعے غير ملکي گيس درآمد کرنے سے ہي ہوگا۔ايران پر عالمي پابندياں ختم ہونے کے بعد ايک دہائي سے زائد عرصے سے لٹکے ہوئے ايران۔پاکستان گيس پائپ لائن منصوبہ شروع ہونے کے امکانات پيدا ہوگئے ہيں۔منصوبے کي کاميابي کے بعد ايران سے روزانہ ايک ارب مکعب فٹ گيس درآمد ہوسکے گي۔ تاپي منصوبے کي تکميل کے بعد پاکستان کو 60 کروڑ مکعب فٹ گيس ملے گي۔ ۔ گرمیوں میں گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے بعد اب حکومت کو سردیوں میں گیس کی فراہمی ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ سردیوں کی آمد سے دو ماہ پہلے ہی وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل نے وعید سنا دی ہے۔ کہ دسمبر اور جنوری میں گھروں کو رات کے وقت گیس دستیاب نہیں ہوگی۔ اور سی این جی اسٹیشنز بھی مسلسل گیس حاصل نہیں کرسکیں گے۔ سردیوں میں گیس کے متوقع بحران کی وجہ سے ضروری ہو گیا ہے کہ کاہلي کا شکار ہوئے بغير گيس کي درآمد کے منصوبوں پر کام تيز کيا جائے۔ وگرنہ آنے والے پندرہ سالوں ميں معاملات مزيد بگڑ سکتے ہيں۔ کيونکہ گيس کي مقامي پيداوار 2030 تک موجودہ سطح 4 ارب مکعب فٹ سے کم ہو کر ڈيڑھ ارب مکعب فٹ تک گر جائے گي۔ اور رسد اور طلب کے درميان فرق 7 ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

Avatar
محمد لقمان
محمد لقمان کا تعلق لاہور۔ پاکستان سے ہے۔ وہ پچھلے 25سال سے صحافت سے منسلک ہیں۔ پرنٹ جرنلزم کے علاوہ الیکٹرونک میڈیا کا بھی تجربہ ہے۔ بلاگر کے طور پر معیشت ، سیاست ، زراعت ، توانائی اور موسمی تغیر پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *