سماج میں فکری جمود۔۔نصیر اللہ خان

ہمارے سماج میں فکری جمود نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ زبان کی تالہ بندی ہنوز جاری ہے ۔ عقل، سوچ، اور فکر سب کچھ ماؤف  ہوچکا ہے۔ ان حالات میں گرانی کے عذاب نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ کوئی بول نہیں سکتا۔ کوئی بولے گا بھی تو نہیں۔کوئی لب کشائی نہیں کرے گا۔ سچ بولنا  سوچنا اور سمجھنا یہاں حرام ہے۔ یہاں عقل کا استعمال جرم قرار پاتا ہے۔ یہاں مقابلے اور مسابقت کی فضا سیاست کی حد تک محدود ہے۔ سائنس دنیائی فن ہے۔ اس کا آخرت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہاں پر جینا ایسا ہے کہ جیسے کوئی مردے قبر میں زندگی گزارتے ہوں۔ یہاں پر بغیر سوچے سمجھے تابعداری کی جاتی ہے۔عقل کوشیطان کے مماثل قرار دیا جاتا ہے۔ دین داری اوراجر و ثواب کی باتیں البتہ ٹھیک لگتی ہیں۔ خود ہی معروف کی تشہیر اور منکرات کو منع کرتے رہیں۔ ریاست کاکام خود اپنے ہاتھ سے کریں۔ قانون کو بازیچۂ اطفال سمجھ کر اس کی خلاف ورزی کو فخر گردانا جاتا ہے۔ علم اور معلومات صرف اس لئے حاصل کریں کہ اس سے دوسروں کو زِچ کرنے کا ہنر میسر ہاتھ آ جائے۔ ریاست فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ اوردوسرے ادارے کون سی بلاؤں کا نام ہیں؟ کرپشن کرو، ملاوٹ، خیانت  کرو، جھوٹ بولو، ریاکاری کرو، ظلم اور جبر کرو، چالاکی، دھوکا اور فریب اپنا عقیدہ بناؤ، امانت، دیانت، سچائی، صفائی، دلیل، مکالمہ، استقلال، حوصلہ، وفا، کفایت شعاری، مصلحت اور حکمت، سائنس، آرٹ، شعر و شاعری، موسیقی، قانون اورانصاف، شجاعت اور بہادری اورنیکی وغیرہ جیسی’’ بے کار‘‘ کی باتیں صرف کتابوں میں ملتی ہیں۔

حقیقت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں بے ایمانی، خود ستائشی، سستی شہرت، رشوت اور اقربا پروری ہی سب کچھ قرار پاتا ہے۔ ان کاموں کی وجہ سے کوئی بھی ’’انسان نما‘‘ تو بن سکتاہے، لیکن صحیح معنون میں انسان بالکل نہیں۔ علمیت، سائنس، فلسفہ، آرٹ اور انسانیت کوئی چیز یہاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ۔ تعلیم حاصل کرو اور پیسے بٹورو، چاپلوسی کرکے اپنا کام نکالو، پشتو مقولہ کے مصداق ’’گدھے کو بھی باپ بناؤ اور اپنا کام نکالو۔‘‘ مروجہ کامیابی یہی تو ہے۔ کسی دوسرے کی جائز ضروریات سے البتہ فائدہ اٹھانا نظامِ سرمایہ داری یا بیوپار ہی توہے۔ فریب کاری کے ذریعے اقتدار حاصل کرو اور پھر دروغ گوئی کرکے اپنے اقتدار کو دوام بخشو۔ ان حیوانوں کی خود غرضی اور منافقت ہی اصل سرمایۂ زندگی ہے۔ پیسہ ہی سب کچھ ہے ، رشتے ناتے کچھ بھی نہیں۔ عوام جائیں بھاڑ میں۔ بڑے چھوٹے کوئی معانی نہیں رکھتے۔ بدمعاشی اور گیدڑ بھبکی سے کام چلاؤ۔ اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ۔ کیوں اپنا ذہن بے کار کی نظریات میں صرف کر رہے ہو؟

پیسہ، بنگلہ، گاڑی، کاروبار اور نوکر چاکر ہوں گے، تو سب کچھ ہوگا۔ ان بے مقصد نظریات اور لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو۔ بھائی آپ کا اپنا ہی فائدہ ہوگا۔ جتنی یہ قوم جاہل اور بے وقوف ہوگی، اتنی ہی اس پر حکمرانی آسان تر ہوگی۔ ان کو لسانی اور مختلف عصبیتوں میں تقسیم کئے رکھو۔ تعلیم اور صحت کی بات ہی نہ کرو۔ زبان کی تالا بندی حتی الامکان صحیح ہے۔ کسی کو کچھ کہو گے، تو وہ مفت میں منھ کو لگے گا۔ مسندِ اقتدار کی ہوس ہی سے اپنے مسائل حل ہوتے ہیں۔ کسی کو چھوٹا خیال کرو اور کسی کو بڑا خیال کرکے چغل خوری سے کام لو۔ یہاں پر ہٹلر کی بات صحیح لگتی ہے۔ پے در پے جھوٹ ہی سے جھوٹی بات سچی لگنے لگتی ہے۔ کسی بھی کالے دھن اور لوٹ مارکو صاف کرنا ہو، تو پارلیمنٹ میں ایکٹ پاس کرواکے سب کچھ صاف اور شفاف بن سکتا ہے۔ یہ ہے آج کے دور کی سیاست اور کاروبارِ ریاست۔

قانون نام کا مکڑی کا جالا صرف غربا کے لئے بنایا گیا ہے، جس میں کمزور تو پھنس جاتا ہے اور طاقتور نکل جاتا ہے۔ آج کل انصاف کا تصور کتنا ارزاں بن چکا ہے۔ دوسروں کے منہ  سے نوالہ چھینا جائے اور اپنی ضرورت کو ترجیح دی جائے۔ یہ دراصل میکاولی نظریات ہیں۔ مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا دراصل بادشاہوں کا ہی شیوہ ہے، جبکہ بادشاہ کو مذہبی نہیں دنیا دار ہونا چاہیے۔ بالفاظِ دیگر دھوکا، فریب اور ملمع کاری ہی اصل سیاست ہے۔ ذات کا فائدہ اور آنے والے الیکشن میں مخالف کو زِچ کرنے کاطریقہ سوچنا چاہیے۔ کس طرح ووٹ ملے گا؟ اس پر سوچنا چاہیے۔ مذہب کو اس حد تک مانا جائے کہ جب اس سے اپنا کام با آسانی ہوتا ہو، تواس کو استعمال کرو۔ ترقی اور اصلاح پسندی جائے بھاڑ میں۔

بیوروکریسی کو حکمرانوں کے تلوے چاٹنے کا ہنر جاننا چاہیے۔ چاپلوسی کرکے اعلیٰ ترقی کے ا ہداف حاصل کرنا ہی سب کچھ ہے۔ایک عذاب ہے، جو ارضِ وطن پر مسلط ہے۔ ہر طرف عملاً مایوسی کا دور دورہ ہے۔ ماحول خراب، علاج ناقص، تعلیم سطحی، انصاف عنقا، امن وامان ندارد، تحفظِ جان ومال عملاً مفقود، بے عزتی اور بے توقیری روزانہ کامعمول، گرانی اور بے روزگاری کا عفریت، کاروبارِ زندگی مفلوج، ریاستی گدا گری بامِ عروج پر، کرپشن، منی لانڈرنگ کو قانونی تحفظ، اقربا پروری اور فیورٹ ازم جائز، زرد صحافت، قانون اور انصاف شرفا کے لیے ہے۔ غریب اس در پر ٹھوکریں کھائے۔ نسلی اور لسانی منافرت، دہشت گردی، بم دھماکے، خود کش، انسانی و غیر انسانی اسمگلنگ، قدرتی ماحول میں دخل اندازیاں، کالا دھن، بھتا خوری اور بد معاشیاں کی جاتی ہیں اور اب تو ایکسٹرا جوڈیشل ٹارگٹ کلنگ کرکے بے گناہ انسانوں سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ کیا صرف قراردادِ مذمت سے کام چل سکتا ہے؟ بے حسی اور وہ بھی اس حد تک کہ شمع جلا کر کسی کو یاد کیا جائے۔ بچیوں اور بچوں سے زیادتی کرکے انہیں گندگی کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔کیا نومولود وں سے زیادتیاں کافی نہیں تھیں؟ کیا یہ سب ہوش کے ناخن لینے کے لئے کافی نہیں ہے؟ ہماری سمت کیوں متعین نہیں ہے؟ کوئی واضح قانون سازی اس کا حل نہیں ہے۔ کیا اب بھی کوئی برداشت کرسکتا ہے؟ کیا انسانیت ختم ہوگئی ہے؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اور کوئی ایشو چاہئے؟ کیا حکمرانوں کو اپنی اقتدار کی ہوس کے لئے بچوں پر یوں سرِبازار سیاست چمکانی چاہئے ؟

قارئین، اس صورتحال کا ایک ہی حل میری نظر میں یہ ہے کہ تمام بنیادی قوانین پر نظرِثانی کی جائے۔ اس میں ترامیم کی جائیں۔ زمین کی از سر نو منصفانہ تقسیم کرکے ملکیت میں ایک خاص حد تک قانون میں تبدیلی کی جائے۔ طبقاتی نظامِِ تعلیم ختم کرکے مفت علاج معالجہ فراہم کیا جائے۔ روزگار اور چھت فراہم کی جائے۔ عوام کو احترام دیا جائے۔ یہ سب صرف میں نہیں کہتا بلکہ ایک عام فرد بھی اس سے خبردار ہے۔ میں سمجھتا ہوں اصلاح کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
بصورتِ دیگر ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق حکمرانوں کو ایک خونی انقلاب کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار رہنا چاہیے۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *