ریاست کہاں ہے۔۔اسلم اعوان

SHOPPING

جمعرات کے دن جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار شریف فیملی شوگر ملز منتقلی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ”گنا خریداری کے ایک ایک دن کا جائزہ لیں گے اور ملک کی تمام شوگرملیں کماد سرکاری نرخ 180 روپے من کے حساب سے خریدیں گی” تو عین اسی وقت ڈیرہ اسماعیل خان کے سینکڑوں کاشتکار سرکاری نرخوں پہ گنا کی خریداری نہ کرنے کے باعث شوگر ملوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے،اُس دن ایوان زراعت کی اپیل پہ کاشتکاروں کے علاوہ مرکزی انجمن تاجران،سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی قابل ذکر تعداد بھی کاشتکاروں کی احتجاجی ریلی میں شریک ہوئی، بدقسمتی سے اس خطہ کی منتخب قیادت شہریوں کے مسائل اور سماجی دکھوں سے لاتعلق ہو گئی،منتخب لیڈر مشکل کی اس گھڑی میں اگرکسانوں کا ساتھ دیتے تو کاشتکار خوار ہوتے نہ انتظامی اتھارٹی غیر موثر ہوتی،کرشنگ سیزن کو شروع ہوئے ڈیڑھ ماہ بیت گئے،تاحال سی آر بی سی کینال کے کمانڈ ایریا کا دس فیصد کماد کرش نہیں ہو سکا،کماد کی نوے فیصد فصل آج بھی کھیتوں میں سڑ رہی ہے،گنّے کے فصلات کو اگر بروقت ٹھکانے نہ لگایا گیا تو گندم کی کاشت متاثر ہو گی جس سے کسان زیادہ بدحال ہو جائے گا۔روز مرہ زندگی کے معاملات پہ نظر ڈالیں تو معاشرے کی بے ترتیب صورتیں اس بات کی گواہی دیں گی کہ سیاسی قیادت سوسائٹی کو منظم کرنے میں ناکام رہی ہے،یہی آشوب انتظامی اتھارٹی کے اضمحلال اور سماجی ناہمواریوں کا سبب بنا،گزشتہ دو سال سے عوام یہاں پبلک سروس کمشن کے امتحانی مرکز کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے لیکن صوبائی حکومت نے اس جائز مطالبہ کو درخور اعتنا نہ سمجھا،سیاسی قیادت سے مایوسی کے بعد  چند شہریوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ڈیرہ اسماعیل خان میں پبلک سرو کمشن کا امتحانی مرکز قائم کرنے کا حکم حاصل کر لیا،

اے کاش! یہی قابل عمل مطالبہ اگر منتخب صوبائی حکومت خود تسلیم کر لیتی تو سیاسی قیادت پہ عوامی اعتماد بڑھتا اور انتظامی امور میں عدالتی مداخلت کی نوبت نہ آتی،سیاستدانوں کی کم مائیگی کی بدولت عدالتی فعالیت کے ذریعے انتظامی امور نمٹانے کا رجحان بڑھ گیا،اگر ہم سپریم کورٹ سمیت پانچوں ہائی کورٹس کی کاز لسٹ پہ نظر ڈالیں تو زیادہ تر کیسز حکومتی بے عملی اور سرکاری اداروں کے خلاف زیر سماعت ہوں گے،ستم بالائے ستم یہ کہ سرکاری اہلکار عدالتوں میں بھی قومی امانتوں کے تحفظ اور ریاستی استحقاق کے دفاع میں دلچسپی نہیں لیتے،پیشہ ور مقدمہ باز قانونی پیچیدگیوں کی دھند میں سرکاری نمائندوں سے ساز باز کر کے قومی وسائل کو لوٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،یہاں کسی پیشہ ور مقدمہ باز نے ڈیڑھ صدی پرانے پیسکو آفس کا پورا فرنٹ ڈگری کرا کے 34 دکانیں بنا لیں،سول عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک طویل مقدمہ بازی پہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پیسکو حکام سرکاری املاک کا تحفظ نہیں کر سکے،کوئی اتھارٹی اس غفلت پہ ان سے جواب طلبی کر سکتی ہے؟ اگر نوٹس نہ لیا گیا تو سرکاری املاک پہ ہاتھ صاف کرنے والوں کے حوصلے مزید بڑھ جائیں گے۔

اعلی افسران اب صرف اپنی مرعات کے علاوہ کسی انتظامی مسئلہ میں دلچسپی نہیں لیتے، اگر انکی توجہ سوسائٹی کے کربناک مسائل کی طرف دلائی جائے تو وہ یہ کہہ کے آنکھیں میچ لیتے ہیں کہ” Let the sleeping dog sleep ”

ہمارے دفتری کلچر میں ہوشیار سرکاری افسران مدتِ ملازمت کے دوران اگر فرض کی ادائیگی سے جان چھڑا کے مسائل کو ڈمپ کر دیں تو اسے عقل مندی اور مہارت سمجھا جاتا ہے،اسی لئے لاکھوں اہلکاروں اور سینکڑوں دفاتر کے باوجود سماجی زندگی کے ہر شعبہ میں مسائل کے انبار نظر آتے ہیں،ایک طرف سماج کے دکھ بڑھے تو دوسری جانب بتدریج سرکاری افسران کی گریز پاء طبعیت مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت کھوتی گئی۔جس عدلیہ نے آگے بڑھ کے انسانی حقوق کے تحفظ اور انتظامی خرابیوں کو دور کرنے کی خاطر فعالیت کی راہ اپنائی وہ بھی اب تھک چکی،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بلند آہنگ خطبات دراصل جذباتی التجائیں نظر آتی ہیں۔اس وقت ملک کے طول و عرض میں شوگر ملز مالکان اور کاشتکاروں کے درمیان کانٹے کی تول لڑائی لڑی جا رہی  ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان حساس اقتصادی تنازعات کو نمٹانے سے ہچکچا رہی ہیں،خیبر پختون خوا کی صوبائی انتظامیہ کی نیم دلانہ کوششوں کی بدولت کماد کا بحران ہر آن شدت اختیار کرتا گیا،ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک پوری قوت سے کرشنگ سیزن شروع ہوا نہ ریاستی اتھارٹی سرکاری نرخوں کا نفاذ ممکن بنا سکی،کاشتکاروں کی رٹ درخواست پہ پشاور ہائی کورٹ کے سرکٹ بنچ نے ضلعی انتظامیہ اور ملز مالکان کو نوٹس تو جاری کر دیئے لیکن اسکے باوجود شوگر ملز مینجمنٹ نے حکومتی احکامات اور کاشتکاروں کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 150 روپے من سے زیادہ قیمت پہ کماد خریدنے سے صاف انکار کر دیا۔

ضلعی انتظامیہ نے پنجاب کے کاشتکاروں کی طرف سے مقامی شوگرملوں کو سستے داموں گنے کی سپلائی روکنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کی تو ملحقہ ضلع بھکر کے کاشتکاروں نے ڈیرہ دریا خان پل کے اس پار کماد سے لدی ٹرالیاں کھڑی کر کے سات یوم تک بین الصوبائی شاہراہ بلاک کر کے خیبر پختونخوا کا پنجاب سے رابطہ منقطع رکھا،کسی کے کان پہ جوں تک نہ رینگی،ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی کاشتکاروں نے قریشی موڑ پہ چوتھی بار دھرنا دیکر کئی روز تک انڈس ہائی وے بلاک کر کے خیبر تا کراچی جانے والی مسافر گاڑیوں کو روکے رکھااور مضافات سے شہر آنے والوں کے علاوہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ و طالبات کو ذہنی اذیت سے دوچار کیا، ان خانہ سوز ہنگامہ آرائیوں کے باوجود خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت کی کماد کے بحران سے لاتعلقی کئی ناگفتہ بہ کہانیو ں کو جنم دے گئی،جس نے پی ٹی آئی کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، حکمرانی کے نشہ میں سرشار وزیراعلی بوجوہ بپھری ہوئی رائے عامہ کو پائے حقارت سے ٹھکراتے رہے، انہیں دور افتادہ اضلاع میں سماجی اور اقتصادی تنازعات کے باعث شہریوں کیلئے بڑھتے ہوئے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں،کسانوں کے آئے روز کے دھرنوں اورمظاہروں سے امن و عامہ خلل پذیر، تاجر پریشان حال اور چھوٹے کاشتکار معاشی طور پہ تباہ ہونے والے ہیں، لاکھوں ایکڑ اراضی پہ کھڑی اربوں روپے کی فصلیں  اجڑ رہی ہیں،جس سے حکومتی ریونیو کم ہونے کے علاوہ صرف ڈی آئی خان کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ خاندان معاشی مشکلات کے دلدل میں اتر جائیں گے،کرشنگ سیزن میں دانستہ تاخیر کر کے شوگر انڈسٹریز خود بھی کئی نادیدہ مسائل سے دو چار ہوجائے گی،سب سے بڑھ کر یہ کہ ان مسائل کو سلجھانے میں ناکامی نے شہر کی انتظامی اتھارٹی کو بے آبروکر دیا۔

SHOPPING

بلاشبہ یہ سب کچھ اس ذہنی بددیانتی کا وبال تھا جس کا زہر معاشرے اور سسٹم کی رگ رگ میں اترا ہوا ہے،کرپشن نے اعلی افسران کی بصیرت کو کند کر دیا،اگر انہیں اوپر کی کمائی نہ ملے تو ان کا  نظام  انہضام بگڑ جاتا ہے ،ہمارے سرکاری اہلکار،جو اختیارات استعمال کرنے کے آرٹ سے ناواقف اور فرض کی ادائیگی سے گریزاں ہیں،متنازعہ امور کو نمٹانے کی بجائے اپنی کوتاہ بینی سے سیدھے سادے مسائل کو پیچیدہ تر بنا دیتے ہیں۔

SHOPPING

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *