دنگ کردینے والی ‘غیر قانونی’ تصاویر

روس سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر ودیم ماہورا اور وتالی رسکلوین کو اس وقت بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی تھی جب انہوں نے گیزہ میں اہرام مصر کی غیر قانونی تصاویر کو شائع کیا تھا۔

برسوں سے یہ دونوں فوٹوگرافر خوفناک کردینے والی بلندیوں پر چڑھ کر دنیا کی بلند ترین اور معروف عمارات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے آرہے ہیں اور یہ تصاویر ان کی ویب سائٹ آن دی روفس میں شائع ہوتی ہیں۔

یہ تصاویر سانسیں روک دینے والی ہیں اور ان معروف مقامات کے ان پہلوﺅں کو دکھاتی ہیں جو عام طور پر دیکھنا ممکن نہیں، چونکہ انہیں اپنے کام پر تنازعات کا سامنا رہتا ہے، اسی لیے وہ دیگر افراد کو اپنے نقش قدم پر نہ چلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

چین کی بلند ترین عمارت سے لے کر ایفل ٹاور تک، یہاں ان کی چند دنگ کردینے والی تصاویر آپ کو بھی چونکا دیں گی۔

ان روسی فوٹوگرافر کو بنیادی طور پر شہرت مصر کے عظیم ہرم کی غیر قانونی تصاویر سے ملی تھی۔

اوپر والی تصویر کے لیے وہ چار گھنٹے تک گارڈز سے چھپے رہے اور وہ جگہ سیاحوں کے لیے بند ہونے پر ایک قریبی ہرم پر چڑھے، اگر وہ پکڑے جاتے تو انہیں ایک سے تین سال قید کی سزا ہوسکتی تھی۔

یہ دونوں برسوں سے اس طرح مختلف مقامات کی چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں، جیسے نیچے موجود تصویر جرمن شہر کلون کی ہے جہاں وہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کلون کیتھیڈرل کی یہ تصویر لینے میں کامیاب رہے۔

ہجوم سے بچنے کے لیے وہ شام کو اس مقام پر آئے اور اسٹیل کے پولز کی مدد سے اوپر جا پہنچے۔

یہ دونوں چین کی بلند ترین عمارت شنگھائی ٹاور کی تصویر لینے کے لیے 2130 فٹ بلندی پر چڑھے، جہاں تین لفٹیں لوگوں کو بلند ترین مقام پر لے جانے کے لیے ہیں، مگر فوٹوگرافرز نے تعمیراتی کرین کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔

ان کے اس اسٹنٹ پر بیس گھنٹے لگے کیونکہ وہ ٹاور میں رات کو داخل ہوئے، دن کے وقفے میں کرین تک پہنچے اور اتنی روشنی ہونے کا انتظار کرتے رہے جس کی مدد سے اس کے برابر میں موجود جن ماﺅ ٹاور اور شنگھائی ورلڈ فنانشنل سینٹر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرسکیں۔

یہاں تک کہ وہ بل بورڈز پر چڑھ کر شنگھائی کی بندرگاہ کی تصویر لینے میں بھی کامیاب رہے۔

اسی طرح اسپین کے شہر بارسلونا کے مشہور گرجا گھر انتونی گوڈز بھی ان کے کیمرے سے محفوظ نہیں رہ سکا، جہاں سے وہ اس عمارت اور شہر کی یہ زبردست تصویر لینے میں کامیاب رہے۔

اس مقصد کے لیے وہ دونوں ایک قریبی کرین پر چڑھے اور عمارت سے 50 میٹر مزید اوپر تک چلے گئے، وہاں انہوں نے اس عمارت کی ایسے زاویے سے تصویر لی، جو آج تک کسی نے نہیں دیکھی تھی۔

قریبی چھتوں پر چڑھ کر وہ ایفل ٹاور کا وہ نظارہ لینے میں کامیاب رہے جس تک پیرس میں بہت کم سیاحوں کو ہی رسائی حاصل ہوتی ہے۔

ایفل ٹاور کی سب سے اوپری منزل تک جانا تو عام سیاحتی سرگرمی ہے، مگر ان مہم جوﺅں نے ایک قدم آگے جاکر دل دہلا دینے والی بلندی پر یہ تصویر کھینچی۔

سیاح پیرس کے کیتھڈرل نوٹرے ڈیم کی چار سو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاسکتے ہیں، مگر ان فوٹوگرافرز نے اس سے آگے بڑھ کر سوچا۔

اسی طرح جب وہ چیک ریبپلک کے دارالحکومت پراگ کے سینٹ ویٹوز کیتھڈرل کے اوپر پہنچے، تو انہیں پریشان پولیس اہلکار نے پکڑ لیا مگر پھر جانے بھی دیا۔

جاپانی شہر اوساکا کے Akashi Kaikyo برج، جس کے پھاٹکوں کی بلندی 978 فٹ بلند ہے، یہ پل سیاحوں کے لیے کھلا ہے مگر یہ فوٹوگرافر رات تک انتظار کرتے رہے تاکہ اوپر پہنچ سکے اور وہاں تاروں پر لٹک کر یہ تصویر لی۔

سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ایک چھت پر انہوں نے شہر کے سٹی ہال کی تصویر لی، جہاں ہر سال نوبیل انعام کے لیے ظہرانے کا انعقاد ہوتا ہے۔

پولینڈ کی سب سے بڑی عمارت پیلس آف کلچر اینڈ سائنس، سینماﺅں، میوزیمز، لائبریاں، تھیٹرز اور کنسرٹ ہالز کا امتزاج ہے، یہ دونوں ایک قریبی زیرتعمیر عمارت میں داخل ہوئے اور گارڈز سے چھپ کر چھت پر جاپہنچے۔

پنگ آن فنانشنل سینٹر، کو برج الخلیفہ کے بعد دوسرا بلند ترین ٹاور قرار دیا جاتا ہے، یہاں ان فوٹوگرافرز نے چینی نئے سال کے موقع پر اسٹنٹ کا فیصلہ کیا اور 2165 فٹ بلندی تک جاپہنچے۔

چونکہ وہ خود کو بہت زیادہ خطرے میں ڈالتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں دیگر کو اس طرح کی سرگرمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، یہ تصویر جنوبی کوریا کے لوٹی ٹاور کی ہے۔

 

 

Save

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *