• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ایگزیکٹ کے سیاں بھئے کوتوال،بول کو ڈر کا ہے کا۔۔سید عارف مصطفٰی

ایگزیکٹ کے سیاں بھئے کوتوال،بول کو ڈر کا ہے کا۔۔سید عارف مصطفٰی

SHOPPING

 ایک بار پھر ایک اہم تحقیقی رپورٹ کی بدولت بدیسی فضاؤں میں پاکستان کا نام گونجا ہے ۔ لیکن یہ حوالہ کسی انسانی خدمت کا نہیں اور نہ ہی کوئی فخر کا مقام ہے بلکہ اب کے بھی یہ مشہوری بہت گھناؤنا پن سموئے ہوئے ہے اور 21 کروڑ پاکستانیوں کا سر شرم سے جھکانے لیے کافی ہے- لیکن کیا کیا جائے اس افسوسناک تحقیقاتی رپورٹ کا کہ جسے بے شرمیاں چھپانے والے ایدھی کے جھولے میں ڈال کے دبے پاؤں فرار بھی نہیں ہوا جاسکتا-

میں بات کررہا ہوں پاکستان کے مبینہ آئی ٹی ادارے ایگزیکٹ سے متعلق اس افسوسناک رپورٹ کی کہ جسے نشریاتی دنیا کے نہایت قابل بھروسہ ادارے بی بی سی کے چینل فور نے مرتب کیا ہے اور اس کے پروگرام فائل آن فور کی تحقیقی رپورٹ نے بھی بڑی تھرتھلی مچادی ہے کہ  جس میں اس پاکستانی ادارے کے گندے کپڑے عالمی چوک پہ دھوئے گئے ہیں ۔ اس سے 2 برس قبل یہی کام نیویارک ٹائمز بھی کرچکا ہے اور اس میں ڈیکلین والش کے انکشافات نے ہر طرف بڑی ہلچل مچادی تھی اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ بول کے اساسی ادارے ایگزیکٹ کے بارے میں بتایا تھا کہ اس نے ۱۹۵ ممالک کے پونے دو لاکھ افراد کو ساڑھے تین سو سے زائد جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کے نام پہ جعلی ڈگریاں فروخت کی ہیں اور ان شکار بننے والوں میں دو تہائی سے زائد تعداد امریکیوں کی ہے کہ جنہیں جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کے نام سے یہ ڈگریاں بیچی گئی تھیں-

مزید برآں یہ کہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد مریکا میں ایسی کھلبلی مچی کہ امریکی حکوت کو یہ معاملہ عدالت میں‌لے جانا پڑا اورپھر یہ جرم نہ صرف امریکی عدالت میں ثابت بھی ہوگیا بلکہ وہاں اس کے نائب صدر عمیر حامد کو اس کے اعتراف جرم کے بعد تیرہ ماہ قید کی سزا بھی سنادی گئی اور وہاں اس جعلسازی سے کمائے گئے ۵۳ لاکھ ڈالرز کو بھی بحق سرکار ضبط کرلیا گیا ۔ اب کے ڈھائی تین برس بعد برطانیہ میں جو تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں بھی تقریباً ‌وہی الزامات لگائے گئے ہیں جو کہ اس سے قبل ڈیکلین والش نے نیویارک ٹائمز میں لگائے تھے بس نیا پن یہ ہے کہ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں بیچی جانے والی 5 ہزار ڈگریوں میں ‌سے کئی وہاں کے شعبہء دفاع و ہوابازی اور شعبہء صحت کو بھی فروخت کی گئی ہیں جس سے اتنے اہم اور حساس شعبوں میں‌ بھی متعدد نااہل افراد کو ملازمت مل گئی ہے اور اس سے ان شعبوں ‌کی کارکردگی پہ بڑے سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں-

اس رپورٹ کا منظر عام پہ آنا تھا کہ کئی اہم عالمی اخبارات بشمول چند اہم بھارتی اخبارات، اسے لے اڑے اور اسے خوب نمایاں طور پہ شائع کرکے پاکستان کے لیے شدید تضحیک اور توہین آمیز تبصروں‌ کا باعث بنے کیونکہ بہتیرے برطانوی شہری نہ صرف اس فراڈ کا شکار ہوئے بلکہ وہ اپنے لاکھوں پاؤنڈز کی رقوم سے بھی محروم کردیے گئے ساتھ ہی یہ ستم ظریفی بھی کی گئی کہ ان ڈگریوں کے دیے  جانے کے بعد ایگزیکٹ کی جانب سے بہتیروں کو فون کرکے ان کے اس راز کو کھولنے کی دھمکی دے کر دھمکیاں‌ دے کے شدید ہراساں‌ کیا گیا اور یوں‌ بلیک میل کے ذریعے بہت رقوم بٹوری گئیں‌ – ڈیکلین والش نے اپنی ایک ٹویٹ میں‌اس امر پہ بڑی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ 3 برس قبل سب کچا چٹھہ کھل جانے کے باوجود جعلی ڈگریوں‌کی فروخت کا یہ گندا کام آخر کیسے جاری رہا

SHOPPING

اس نئے اسکینڈل کے سامنے آنے پہ بڑی حیرت کا اظہار کیا تھا کہ 3 برس پہلے اس بابت سب کچھ سامنے آجانے کے بعد بھی یہ کیس کیسے ممکن ہوا؟۔۔ اور آخر کیسے برطانیہ میں بھی لوگوں‌کو لوٹنے کا عمل جاری  رہ سکا ؟۔۔ لیکن سچ پوچھا جائے تو بیچارے ڈیکلین کا یہ اظہار حیرت قطعی بیجا ہے کیونکہ ہم شاید بحیثیت قوم کسی طرح کی بھی کڑواہٹ کو پی جانے کے ماہر  ہوچلے ہیں‌ اور کسی بھی طرح کے کام کو کرنے کے لیے  اپنے ضمیر سے مشورہ کرنے کو اب ہم آؤٹ آف ڈیٹ سمجھنے لگے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا یہ ادارہ یعنی ایگزیکٹ پاکستان میں کبھی کا فنا نہ کردیا جاتا ۔۔۔ بلکہ الٹا ہوا یہ ہے کہ اس ادارے نے پہلے اپنا ایک چینل بول کھولا تھا اور اب تو اس میں ایک اور چینل پاک کا بھی اضافہ ہوچکا ہے اور وہاں سے پاکستانی عوام کو بڑی دھوم دھام سے مسلسل یہ درس مل رہا ہے کہ اصل طاقت کا مرکز نہ تو آئین ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ بلکہ ۔۔۔ ؟؟

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایگزیکٹ کے سیاں بھئے کوتوال،بول کو ڈر کا ہے کا۔۔سید عارف مصطفٰی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *