• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بھارتی شہریوں کی القاعدہ میں بھرتیاں تشویشناک ہیں،دفترخارجہ

بھارتی شہریوں کی القاعدہ میں بھرتیاں تشویشناک ہیں،دفترخارجہ

اسلام آباد:ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارتی شہریوں کی القاعدہ میں بھرتیاں تشویشناک ہیں۔

جمعے کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

رواں برس اب تک بھارت کی جانب سے 100سے زائد   مرتبہ فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، بھارت کے یہ عزائم خطے میں امن کیلئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں پاکستان کیلیے باعث تشویش ہیں، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پاکستانی جوانوں کی شہادت پر چند روز قبل بھی طلب کیا گیا تھا، ورکنگ باؤنڈری کے سانحہ پر بھی طلب کیا گیا جب کہ امریکی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلزکے دورے کے دوران بھی بھارتی جارحیت کا معاملہ اٹھایا گیا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ افغانستان میں پاکستانی پروفیشنلزکو اغواء اور انھیں جاسوسی پر مجبورکیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے، ہم پاکستانیوں کے اغواء اور پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کے استعمال کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید  کہا کہ کالعدم تنظیم داعش کی بھارت میں پیش قدمی اس بات کی عکاس ہے کہ دہشتگردی کی جڑیں نہیں ہوتیں، پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے اور امریکی انتظامیہ و اعلیٰ حکام سے ملاقاتوںکا مقصد بھی مشترکہ اہداف کی تلاش ہے، ملاقاتوں میں تسلسل کا مطلب ہے کہ ابھی تک ہدف حاصل نہیں کر سکے۔

چینی شہریوں کے اے ٹی ایم اسکیم میں ملوث ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ چینی شہریوں کے اے ٹی ایم فراڈ معاملے کی تحقیقات جاری ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چند ناخوشگوار واقعات کی بنیاد پر دیگر چینی شہریوں پر پابندی لگا دی جائے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ضرب عضب اور رد الفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو120 ارب ڈالرسے زائد اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر سے مذاکرات کیلئے طالبان وفد کی پاکستان آمد سے متعلق معلومات نہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت کسی قسم کا تعاون معطل نہیں ہوا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *