درد جب حد سے گزرتا ہے/ڈاکٹر راحیل احمد

فروری 2016 کی ایک لمبی رات تھیڈ۔اکٹر بنے ابھی دو سال بھی نہیں ہوۓ تھے- میں نے anaesthesia کی ٹریننگ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا اور ٹریننگ مل بھی چکی تھی- گھر سے چالیس منٹ دور ایک ہسپتال میں ہاؤس جاب کر رہا تھا- کام ختم کر کے گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ ابو جان کا فون آ گیا- یار راحیل تیری امی کو سینے میں درد ہو رہا تھا- ایمبولینس والے گھر آۓ اور ای سی جی کرنے کے بعد امی کو ہسپتال لے کر جا رہے ہیں-

میرے پاؤں سے زمین نکل گئی- ابو آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟

امی نے منع کر دیا تھا کہ راحیل کام پر ہے،اسے پریشان نہیں کرنا۔ جب فارغ ہو جاۓ تو پھر بتا دیں گے۔

اس رات میں جس طرح کام والے ہسپتال سے دوسرے ہسپتال پہنچا وہ مجھے ہی یاد ہے۔آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں بہنے لگے۔ AnE پہنچ کر دیکھا جو آگے گورا ڈاکٹر بیٹھا تھا میں اس کے ساتھ چند ماہ پہلے کام کر چکا تھا۔ میری امی کہاں پر ہیں؟ میں نے پوچھا۔ کہنے لگا وہ وہاں پر۔۔

امی شدید درد میں تھیں،مورفین لینے کے باوجود درد قابو نہیں ہو رہی تھی۔انتہا کا پسینہ نکل رہا تھا۔دل تیز دھڑک رہا تھا۔ چہرہ پیلا، متلی پریشان کئے ہوئی تھی۔

امی کیا ہوا آپ کو؟ بیٹے پہلے سینے میں جلن ہو رہی تھی۔اب بہت بڑھ گئی ہے۔تم نے کھانا کھا لیا ہے؟

اوہ میرے خدایا۔۔

یعنی ماں جی کو خود دل کا دورہ پڑا ہوا تھا لیکن مجھ سے سوال کیا کر رہی تھی۔۔ گورا ڈاکٹر امی کا ایک نیا ecg ہاتھ میں پکڑ کر دوڑتا ہوا میرے پاس آیا۔ راحیل امی کو stemi ہو رہا ہے۔ ہم نیلی بتی والی ایمبولینس میں ان کو سیدھا دوسرے ہسپتال منتقل کر رہے ہیں جہاں ان کو stents ڈالے جائیں  گے۔

ہم بھائی اور ابو بھی اسی ایمبولینس کے پیچھے دوسرے ہسپتال پہنچ گئے۔ ہمیں فیملی روم میں بیٹھا دیا گیا۔angioplasty آدھا گھنٹہ جاری رہی۔ابو اداس تھے، یار پہلے ہی اتنی مصیبتیں ہیں اب ایک اور آ گئی ہے۔ ابو نے اور بھی بہت کچھ کہا  لیکن یقین جانے میرے کان میں کچھ نہیں گیا۔ اس آدھے گھنٹے میں میرے پورے تراہ نکلے ہوۓ تھے۔درود شریف پڑھ رہا تھا، اللہ کو اس کے رسول ص کے واسطے دے رہا تھا اور دھاڑیں  مار کر رو رہا تھا کہ اللہ میری ماں کو بچا لے۔

پھر کارڈیولوجسٹ فیملی روم میں آیا۔ہم نے دو stent ڈال دیے ہیں۔آپ کی امی اب ٹھیک ہیں۔ ہم سب کی جان میں جان آئی۔

کارڈیولوجسٹ نے پوچھا سنا ہے تم خود بھی ڈاکٹر ہو اور anaesthetia کی ٹریننگ شروع کرنے والے ہو؟

میں نے کہا جی لیکن اب سوچ رہا ہوں کارڈیولوجی کر لوں۔آپ میرے ہیرو ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اور ایسا ہی ہوا-۔anaesthesia کی ٹریننگ شروع کی۔دو مہینے بعد شادی بھی کر لی- لیکن کریئر میں خوشی نہیں مل رہی تھی۔ دل میں خیال آ رہا تھا کہ امی کو دل کا مسئلہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔مجھے کارڈیولوجی ہی کرنی چاہیے۔ بس پھر ارادہ کر لیا۔ anaesthesiaکی ٹریننگ سے resign کر دیا۔پہلے general medicine کی اور پھر 2019 میں کارڈیولوجی میں specialisation شروع کی۔ اگر PhD کا پنگا نہ لیتا تو اس مہینے consultant cardiologist بن جاتا۔خیر ابھی تین سال باقی ہیں۔ سیکھنا بہت کچھ ہے۔ لیکن جب بھی تھک جاتا ہوں تو فروری 2016 کی وہ رات یاد کر لیتا ہوں۔ساری تھکان دور ہو جاتی ہے۔ ارادے پھر سے پختہ ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply