ارتکاز سرمایہ میں ریاست کا کردار/ریاض احمد

حکمران طبقے کا سب سے بڑا جرم ریاستی اداروں کو سرمایہ داروں کے سرمایہ میں بے تحاشا اضافوں کے لیے جبر و تشدد کے  آپریٹس کے طور پر استعمال کرنا ہے۔کووڈ کے بعد تو گوگل اور ایمیزوں مالکان کی نیٹ ورتھ کئی سو بلین ڈالر ہو گئی اور یہ امیر اور غریب کے بڑھتے ہوئے فرق کا عکس ہے۔
سرمائے کا بڑا ارتکاز ریاست کرتی ہے جیسے حالیہ بجٹ میں پہلے سے موجودہ ظالمانہ ٹیکسز کے ساتھ 1کھرب 60 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے گئے اور جی ایس ٹی کا پھیلاؤ ہے جو تنخواہ دار اور غریبوں پر بدترین حملہ ہے مگر اس کا مقصد محض فوجی جرنیلوں یا پارلیمنٹ ارکان کی عیاشی نہیں، اس کا اصل مقصد جو عیاشی کا شور چھپانا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ریاست قرض اتارنے، نجی بجلی کمپنیوں کے کئی سو ارب منافع اور عوام پر فوجی جبر بڑھانے کے لیے اخراجات بڑھا رہی ہے. یوں سرمائے کا بوجھ مزدور طبقہ ادا کر رہا ہے۔

مڈل کلاس پی ٹی آئی یا جماعت اسلامی اس جانب اشارہ بھی نہیں کرنا چاہتے کہ پاکستان کی ورکنگ کلاس سے جو اتنی بھاری قیمت وصول کی جا رہی ہے وہ ریاست کے پھیلاؤ کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔اور یہ بھی کہ نجکاری کر کے مزدوروں کو بے روزگار اور تعلیم، صحت کو مزید مہنگا کیا جائے گا۔

سرمائے کا ارتکاز اس کا جمع ہونا محض مزدور کے استحصال سے ہی نہیں بلکہ نجکاریوں سے سرکاری اداروں کو بطور assetsاثاثوں کو کمتر کرنا ہے تا کہ اوورپروڈکشن سے پیدا بحران میں شرح منافع کو پھر سے بڑھایا جا سکے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کارل مارکس نے سرمائے کے ابتدائی ارتکاز میں جہاں سرمایہ داروں کی جانب سے استحصال سے جمع کیے گئے سرمائے کو مزید سرمایہ کاری میں لگا کر اس میں اضافہ کرنے کے رجحان کی طرف اشارہ کیا تو وہیں اس نے سرمایہ کی تیسری جلد کے آٹھویں باب میں اس کا ایک اور طریقہ  بھی بتایا جس میں “چھین لینا، تاک لگا کر نشانہ بنانا ، تشدد، خون ریزی ، حملہ آوری ، قبضہ گیری ، لوٹ کھسوٹ اور فراڈ کے ذریعے ارتکاز سرمایہ ہوتا ہے۔ وہ اسےDispossession کہتا ہے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply