کیا ہونا چاہیے؟-محمد عامر حسینی

سیاست کے میدان میں “کیا ہونا چاہیے ؟ ” کا سوال بدترین حالات خاص طور پر اس وقت زیر بحث آتا ہے جب عالمی سرمایہ داری نظام “کساد بازاری کا شکار ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ریاستوں میں برسراقتدار حکومتیں چاہے وہ روایتی لبرل ڈیموکریٹک جماعتوں کی ہوں یا عرف عام میں کنزویٹو ری پبلکن سیاسی جماعتوں کی ہوں یا فوجی حکومتیں ہوں ان کے نزدیک اس کا جواب بڑے پیمانے پر کٹوتیاں جسے وہAusterityکا نام دیتی ہیں، ہوا کرتی ہیں ۔ اس کی سب سے بدترین شکل ریاست کی جانب سے سرکاری شعبے میں قائم انٹرپرائز، سروسز سیکٹر اور سوشل سروسز سیکٹر کی نجکاری اور اس کے لیے ڈاؤن سائزنگ مطلب بڑے پیمانے پر سرکاری شعبے میں مستقل، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویج ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنا ، ان کی بنیادی تنخواہوں ، بونس اور دیگر الاؤنس کا خاتمہ ، ان کی ترقیوں کو روکنا ، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی کٹوتیاں، ان کی مخصوص معیاد مقرر کرنا ہوا کرتا ہے۔

اس سارے عمل کی مزاحمت کو روکنے کے لئے ریاست کی سویلین اور فوجی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کا پھیلاؤ، ان میں کے فنڈز میں بے تحاشا اضافہ ہوا کرتا ہے۔ اس دوران ریاستیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر چھوٹے بڑے آپریشنز شروع کرتی ہیں جن کا مقصد سامراجی سرمایہ داروں اور عالمی مالیاتی اداروں اور ان کے گماشتہ مقامی سرمایہ داروں کی جانب سے وسائل کی لوٹ مار مار ، قبضہ گیری کے خلاف کھڑی ہونے والی تحریکوں کو کچلنا ، شہریوں آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے جبر اور خوف کی فضا قائم کرنا ہوتا ہے۔ حکمران طبقہ اور ریاستی اسٹبلشمنٹ ان سب اقدامات کو ہی “کیا ہونا چاہیے؟ ” کا جواب قرار دیتا ہے ۔ اس ساری پریکٹس کا مطلب سرمایہ کے ارتکاز کو ہر صورت برقرار رکھنا ہوتا ہے ۔

برسراقتدار لبرل ڈیموکریٹک اور کنزرویٹو سیاسی جماعتوں کی قیادت کی عوام دشمن پالیسیوں کے وکلاء صفائی کے طور پر موجود موقع  پرست سیاسی کارکن ، دانشور، صحافی ، تجزیہ نگار بھی اسی جواب کو “ناگزیر” قرار دیتے ہیں ۔

دوسری جانب اس بدترین معاشی بحران سے جنم لینے والے مسائل فرقہ پرستی، نسلی منافرت کی علمبردار سیاسی جماعتیں اور گروہ اور فسطائی رجحانات سے مغلوب سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت عوامی بے چینی ، اور ریاستوں کے کئی علاقوں میں ابھرنے والی عوامی احتجاجی تحریکوں میں عوام کی بڑے پیمانے پر شمولیت میں اپنی جماعتوں کے سائز بڑھانے اور ریاستی کنٹرول میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے کئی ایک تیز اور ریڈیکل مطالبات کے ساتھ سامنے آتے ہیں وہ اسے زیادہ سے زیادہ حکمران طبقات اور ریاستی اسٹبلشمنٹ کی عیاشیوں کا نام دے کر “کاسمیٹک تبدیلی ” /لیپا پوتی کی سیاست کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور وہ کبھی بھول کر بھی بدترین معاشی اور ریاستی بحران کی اصل جڑ ” ارتکازسرمایہ” کی انتہائی ظالمانہ اور بربریت پر مبنی Dispossession policyکے خاتمے کی بات نہیں کرتے ۔

لبرل ڈیموکریٹک پارٹیوں کے رہنماء اور کارکن ، دانشور جو اپنے آپ کو عوامی جمہوری سیاست کا علمبردار کہتے ہیں وہ اپنی جماعتوں کی عوام دشمن اور سرمایہ دار دوست ظالمانہ سیاست کا دفاع کرتے ہیں اور عملی طور پر کسی بھی عوام دوست جمہوری متبادل کو ناممکن خیال کرتے ہیں اور عوام دوست جمہوری متبادل کی جدوجہد کو ممکن قرار دینے والے سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کو ہی نہیں بلکہ محنت کش طبقات کو بھی جدوجہد کرنے سے روکنے کے لیے “فاشزم ” کے چھا جانے اور غلبے سے ڈراتے ہیں۔ دراصل وہ استحصال اور جبر کے علمبردار سرمایہ داروں کے خوف کو ” عوام کے خوف” کا روپ دے کر جدوجہد سے روکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔

ان میں سب سے خطرناک وہ دانشور ہوتے ہیں جو دائیں بازو کے فاشسٹوں اور کنزویٹو اور لبرل ڈیموکریٹک منحرف سیاست کی بظاہر مذمت کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ /عوامی جمہوری محاذ میں کھڑی طاقتوں کو بھی رد کر رہے ہوتے ہیں ۔ ایک طرح سے یہ بھی “بے عملی ” کو ہی متبادل قرار دے رہے ہوتے ہیں ۔
سب سے بڑی ناقابل تردید صداقت یہ ہے کہ بد، بدتر اور بدترین صورتحال ہے ۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کٹوتی اور جنگ کی صورتحالAusterity and war mongering situation
کا متبادل کیا ہے ؟

سوال یہ ہے کہ کٹوتیوں، بدترین نجکاریوں ، کروڑوں لوگوں کی بے روزگاری ، غربت ، بھوک ، عالمی اجارہ داریوں کے آگے سرنگوں ہوکر جو فاشزم ، جنگوں ، لاکھوں لوگوں کی بے دخلی، قتل عام اور براہ راست فاشزم ، نسل پرستی، مذھبی فسطائیت کے جو متبادل ہیں ان کے خلاف کیا نہ لڑا جائے ؟ کیا اس کے خلاف اس وقت جو عوامی مزاحمتی متبادل سامنے آئے ہیں ان میں شریک نہ ہوجائے؟ جیسے اس وقت عالمی سرمایہ دار طاقتوں کی سرپرستی میں چلنے والی نسل کشی اور قبضہ گیری کے خلاف ابھرنے والی فلسطین یک جہتی جدوجہد ہے ،کیا ہم اس کا حصہ نہ بنیں ؟ ہمارے ہاں جو کشمیریوں نے کامیاب مزاحمتی تحریک کی تعمیر کی ہے ، کیا اس میں شامل نہ ہوا جائے؟ اس وقت کٹوتیوں اور مہنگائی و غربت کے خلاف عوام میں جو مزاحمت اور احتجاج پنپ رہا ہے اس کو ایک بڑی حقوق کی تحریک میں بدلنے کی کوشش نہ کی جائے؟ یورپ میں اس وقت جو براہ راست فاشزم کے خلاف عوامی ابھار ہے جس کا ایک اظہار فرانس میں پاپولر فرنٹ ہے کا حصہ نہ بنا جائے ؟

Advertisements
julia rana solicitors london

دیکھا یہ گیا ہے کہ جہاں پر بایاں بازو منظم نہیں تھا وہاں پر ابھرنے والی سماجی مزاحمتی تحریکوں کی قیادت بدترین جبر کی حامی سیاسی قیادتوں نے سنبھال لی جن میں کٹوتیوں کے لیپا پوتی مخالف سوشل ڈیموکریٹ بھی جیتے اور انتخابات میں بھی نسل پرست جماعتوں کی نشستیں زیادہ ہوئیں ۔ جہاں بایاں بازو منظم تھا اور ان تحریکوں میں شامل تھا وہاں لیفٹ پاپولزم کے حامی جیتے جیسے فرانس میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج سے واضح ہوا ۔ لبرل ڈیموکریٹک ہوں یا پاپولر لیفٹ فرنٹ ہوں ہمارے پاس ان کی بدکاریوں پر شدید تنقید اور اس کے متبادل فاشزم کی عملی مخالفت کرنے کے سوا کوئی اور راستا نہیں ہے اور یہی لیفٹ کو منظم کرتے ہوئے آج کی بائیں بازو کی جدوجہد کا راستا بھی ہے اس کے سوا کوئی اور راستا نہیں ہے ۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply