کبھی کبھی بچے بھی بہت کچھ سکھا دیتے ہیں/راحیل احمد

کل میرے بڑے بیٹے یوسف کا سپورٹس ڈے تھا، میری رات کی ڈیوٹی تھی لیکن بیگم صاحبہ نے حکم دیا ہوا تھا کہ چونکہ وہ خود دن میں ڈاکٹری کر رہی ہیں  اس لئے یوسف کے سپورٹس ڈے میں مَیں حاضری لگاؤں، تاکہ برخوردار کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ بس ملکہ رانی کا حکم سر آنکھوں پہ  رکھتے ہوۓ میں نیند کی حالت میں اس گراؤنڈ میں پہنچ گیا جہاں یوسف اور اس کے سکول کے بچے مختلف کھیلوں میں مصروف تھے۔ جولائی کی تیز دھوپ تھی۔

ورنہ یہ تیز دھوپ تو چبُھتی ہمیں بھی ہے
ہم چُپ کھڑے ہُوئے ہیں کہ تُو سائباں میں ہے

یہ سوچتے ہوۓ میں نے یوسف یوسف کہنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ اس کی امی کے لئے وڈیوز بھی بناتا رہا کہ وہ اپنی بریک میں اسے دیکھ لے۔ اس دوران کام سے ایک email آ گئی، جسے پڑھ کر دل پریشان ہو گیا۔ email میں لکھا تھا کہ میرا ایک ریسرچ پیپر ریجیکٹ ہو گیا ہے ،جو لوگ ریسرچ کرتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ آج کل ایک ریسرچ پیپر کو پانچ مختلف جگہ پر بھیجنے کے بعد ہی کہیں وہ پیپر accept ہوتا ہے۔ خیر ای میل پڑھ کر غم ہوا اور کچھ ریسرچ ساتھیوں کو میسج بھی کر دیا اور فون بھی لگا لئے۔

یوسف کے دو گھنٹے کا سپورٹس ڈے جب اختتام پذیر ہوا تو اس کو جھپی ڈال دی اور کہہ دیا شاباش بیٹا بہت اچھی پرفا رمنس تھی میری جان کی۔ یہ کہہ کر گھر آ کر سو گیا۔ فیملی میں سے کسی کو نہیں بتایا کہ فراز نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ کچھ مرد بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کرتے۔

شام کو جب ہمارے چشم چراغ گھر آۓ تو ڈاکٹر صاحبہ نے شکوہ کر دیا: یوسف کہہ رہا تھا ابو سپورٹس ڈے پر تو آۓ لیکن اپنے فون پر کام کرتے رہے۔ مجھے encourage بہت کم کیا۔

میں سوچنے پر مجبور ہو گیا، یوسف نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔یہ ایک المیہ ہے آج کل کے ماں باپ کا۔۔ multi-tasking کے چکر میں بچوں کے ساتھ گزارنے والا کوالٹی وقت بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ میں اپنے ریسرچ پیپر کا کام اور فون کالز بعد میں بھی تو کر سکتا تھا۔ وہ وقت میرے بیٹے کا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors

اور دس سال کی بات ہے یہیں چھ سال کا بچہ سولہ کا ہو جاۓ گا اور پھر خود exams میں مصروف ہو گا۔ میں اگر کوئی بہت توپ چیز بھی بن جاؤں لیکن میرے بچے میرے ساتھ وقت گزارنا پسند ہی نہ  کریں تو میرے سے بڑا ناکام آدمی کوئی نہیں ہو گا۔ بچوں کا بچپن enjoy کرنا چاہیے۔ یہ وقت بہت جلدی نکل جاۓ گا۔ بس آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply