کتاب۔۔صفحہء ہستی کا باب

گھر کا ماحول خاصا ادبی تھااور جب ہوش سنبھالا تو درسی کتب کے علاوہ پہلا تعارف "عمران سیریز "سے ہوا۔والد محترم کو شوق تھا سو ان کے کمرے میں رسالے اکثر میز پر رکھے نظر آتے۔چھوٹی بُوا کو بھی شوق تو بہت تھا لیکن دادی حضور کی لگائی پابندی کی وجہ سے وہ چُھپ کر عمران سیریز کی دنیا کی سیر کرتیں۔ابّا بتاتے ہیں اس وقت ایک رسالے کا کرایہ دوآنے ہوا کرتا تھا۔
باؤ جی (ہمارے دادا ابو) کو یہ جاسوسی رسالے پسند نہ تھے اس لیئے ابّا،بڑے ابّا،چاچو اور بُوا سب رات کے وقت اپنے کمرے میں پڑھتے یا دوپہر کے وقت جب سارا گھرسو رہا ہوتا تو جس کا داؤ لگتا اور گھر پرموجود ہوتا تو چھت پر بنی پرچھتی کے نیچے بیٹھ کر رسالے سے لطف اندوز ہوتا۔جنون ایسا تھا کہ گرمی کا ہوش نہ رہتا،پسینے سے تر بتر لیکن سر پر ایک ہی دُھن کہ کہانی ختم کرکے ہی اٹھنا۔
انہی دنوں ہمارے باؤ جی کی ورکشاپ (جسے اب اباّ جی دیکھتے ہیں) کا اپنا میگزین شائع ہوتا تھاجس کی ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ وغیرہ بڑے ابّا کرتے تھے جو کہ وکالت کے پیشے سے منسلک تھے۔یہ میگزین اگرچہ مختلف قسم کی مشینری اور پُرزوں کے بارے معلومات پر مبنی تھا لیکن بہرحال یہ ضرور ثابت ہوا کہ لکھنے اور ایڈیٹنگ کے جراثیم ہماری پیدائش کے فوری بعد ہی ہم میں منتقل ہونا شروع ہو گئے تھے اور یہ لتّ ہمیں وراثت میں ملی (الحمدللہ)۔۔بڑوں کی پیروی کرتے ہوئے ہم نے بھی سخت دوپہروں میں تو کبھی سرد راتوں میں نیند کی قربانی دے کر اشتیاق احمد کی روح کو ثواب پہنچایا۔
زندگی کچھ اور آگے بڑھی تو آنگن میں "پھول"کِھل اُٹھے،جن کی مہک نے "نونہال "کو نہال کر دیا۔شام کے وقت ٹمٹماتے "جگنو " نے راہیں روشن کر دیں لیکن "دنیا" ابھی بھی بہت محدود تھی۔۔وقت کا دھارا بہتا ہمیں بھی ساتھ لیتا گیا ایک وقت آیا جب "کِرن "پھوٹی اور "پاکیزہ " خیالات نے جنم لیا کئی موڑ آئے گزرے سانس کا سفر تیزی تو کبھی آہستگی سے جاری رہا۔۔۔جذبات نے کروٹ لی تو آنکھوں میں بسے "ریزہ ریزہ خواب "یکجا ہو کر تعبیرکی "تلاش"میں چل نکلے۔
گردِ سفر سے اَٹی پلکیں "اَن کہی "کا بوجھ نہ سہار پائیں تو "حیرت کدہ" میں گُم ہو کر رہ گئیں۔۔یہ "گڑیا گھر "تھا شاید اور تاحدِّ نگاہ دکھائی دے رہے "روغنی پُتلے"اتنے ہجوم میں اپنا آپ "اندلس کا اجنبی "محسوس ہوا۔۔۔۔ اپنے ہی جیسے چہرے لیکن سب انجانے!!
کوئی نہ ملا کہ جسے "فسانہء عجائب سناتے کہ "رات"بسر ہوتی۔۔مزید بران صبح کی "بزم آرائیاں "بھی ماند پڑتی چلی گئیں۔تعلق "قید"بن کر رہ گیامعلوم پڑا کہ محبت کی کوئی بھی صورت ہو "آگ کا دریا "ہی ثابت ہوتی ہے۔"الکھ نگری"کا جادو ٹوٹنا تھا کہ "چراغ تلے اندھیرا" چھا گیاوقت کی "باگ "پر جانے کس کا پاؤں آیا"کھٹیا وٹیا"سب "خاک و خون "میں نہا گیا لیکن کسی کو خبر نہ ہو پائی"نشیب"فراز میں گُم ہو گئے"نسخہ ہائے وفا "جس شیلف پر رکھا تھا وہیں پڑا رہ گیا لیکن دل نے عقل کی پکارپر "لبیک" کہنا تھا اور نہ کہاپر "زاویہ "ضرور بدل گیا۔۔۔
دن رات کی فریاد نے "پیرِ کامل " کو متوجہ کیا کِیا کہ "پیار کا پہلا شہر"پھرسے آباد ہو گیا لیکن اس بار آئنے میں "عکس"ابدیت کا
تھا"جس تَن لگیا عشق کمال "کی دُھن تھی کہ سب آوازیں دب کر رہ گئیں "واپسی "کا سفر اگرچہ ہمیشہ تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن یہاں راحتیں تھیں "پیلا اداس چاند"اپنی زردیاں گنوا کر خوش تھا۔۔ دُھندلکے چَھٹ گئے تھے۔"پیارنگ کالا"کا نعرہ لگانے والے پیچھے رہ گئے تھے "بے رنگ" پیا کے سحر میں گُم میرا سفر کہکشاؤں پر تھا۔۔اورہاتھ میں کتاب۔۔کتاب کہ جو صفحہ ہستی کا باب ٹھہری۔۔کتاب جو "پِیا "کے نام انتساب ٹھہری!!!!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *