بابا وانگا کی مستقبل کے حوالے سے خوفناک پیشگوئیاں

صوفیہ: (ویب ڈیسک)بلغاریہ کی معروف نجومی بابا وانگا، جو 1996 ءمیں 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں تھیں، اپنی حیران کن پیش گوئیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

بابا وانگا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ روحانی صلاحیتوں سے مالا مال تھیں اور ان کی متعدد پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔

بابا وانگا کی حیران کن پیش گوئیاں:

بابا وانگا کی پیش گوئیاں، جنہیں انہوں نے اپنی موت سے قبل بیان کیا تھا، نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور پیش گوئی 11 ستمبر 2001 ء میں نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر حملوں سے متعلق تھی۔

مستقبل کی پیش گوئیاں:

2025ء: بابا وانگا نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال یورپ میں ایک بڑی جنگ ہوگی جس کے نتیجے میں براعظم کی آبادی نمایاں طور پر کم ہوجائے گی، یعنی بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوں گی۔

2028ء: انسان توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ تک پہنچ جائے گا۔

2033ء : قطبین پر جمی برف پگھلنے کی وجہ سے سمندر کی سطح میں نمایاں طور پر اضافہ ہو جائے گا۔

2076ء : دنیا بھر میں کمیونزم کا پھیلاؤ ہوگا۔

2130ء: انسان خلائی مخلوق سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

2170ء: دنیا بھر میں شدید قحط سالی کا سامنا ہوگا۔

3005ء: انسان مریخ پر پہنچ چکا ہوگا، اور اس سال وہاں جنگ ہوگی۔

3797ء: اس برس زمین کی تباہی کا آغاز ہوگا، اور انسان نظام شمسی کے دیگر سیاروں پر آمدورفت کی صلاحیت حاصل کرچکا ہوگا۔

5079ء: بابا وانگا کے مطابق یہ سال کائنات کے خاتمے کا سال ہوگا۔

بابا وانگا کی پیش گوئیوں کا جائزہ:

بابا وانگا کی پیش گوئیاں ایک حیرت انگیز اور متنازع موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ان کی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہوئے، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کچھ واقعات ممکن ہیں، مگر ان پر مکمل یقین کرنا مشکل ہے۔

انسانی مستقبل کی پیش گوئی کرنا ہمیشہ ہی چیلنجنگ رہا ہے اور بابا وانگا کی پیش گوئیاں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔

بابا وانگا کی پیش گوئیاں ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وقت ہی ثابت کرے گا کہ ان میں سے کونسی پیش گوئیاں درست ثابت ہوں گی۔

ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں مزید تحقیق اور تجزیہ جاری ہے، اور یہ پیش گوئیاں ہمیشہ ہی دلچسپی کا موضوع بنی رہیں گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

سنو نیوز

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply