پچھلی نسل کا نوحہ/سیّد بدر سعید

پیسے کی اس دوڑ میں ہم نے ایک عہد کھو دیا ہے۔ ہم اپنے ہاتھوں اپنا کلچر گنوا بیٹھے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ہمیں احساس تک نہیں ہے۔
ہمارے بچوں کو شاید کبھی اندازہ نہ ہو سکے کہ مٹکے اور صراحی کے ٹھنڈے پانی کی تاثیر کیا ہوتی تھی ، مٹی کے پیالے سے بجھنے والی پیاس سے کس قسم کی تسکین ملتی تھی ۔ آپ کو برف سے لے کر ہر قسم کے الیکٹرک کولر سے ٹھنڈے پانی کو پی کر بھی ویسا فرحت بخش احساس نہیں ہوتا۔
ہماری اگلی نسل کو مرچوں کی چٹنی سے کھائی گئی روٹی کا مزہ معلوم نہ ہو سکے گا۔

انہیں اب شاید کبھی وہ نائی نظر نہیں آئے گا جو شادی بیاہ پر دیگ پکانے آتا تھا اور اس کی ڈانٹ اور رعب ایسا ہوتا تھا جیسے اپنی بیٹی کی شادی ہو۔ اب سوسائٹی کلچر میں پلنے والے بچوں کو علم نہیں ہو گا کہ کس طرح تنبو قناتیں لگائی جاتی تھیں اور مہمانوں سے پہلے کھانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اب شادیوں پر رات بھر چائے کی دیگ کے پاس بیٹھ کر قصے کہانیاں سناتے ہوئے سامان کی حفاظت نہیں کی جاتی، اب مہمان آنے پر ہمسائیوں کی بیٹھک خالی نہیں ہوتی۔

اب شاید ہمارے بچوں کو کبھی اندازہ نہیں ہوگا کہ گھر میں پسند کا سالن نہ پکے تو کس حد تک اپنا حق جتاتے ہوئے ہمسائی خالہ کے کچن میں جا کر روٹی کھائی جاتی تھی۔
اب گلی کی نکڑ پر پڑے ”منجے”‘ ویران ہوئے جاتے ہیں۔ اب چھتوں پر چڑھ کر پورے محلے سے گفتگو نہیں ہوتی، اب لڑائی ہو تو میرے ساتھ محلہ لڑنے نہیں جاتا۔ اب افطاری پر پکوڑوں کی پلیٹیں گھر سے باہر سفر نہیں کرتیں، اب کریانہ سٹور پر ادھار نہیں چلتا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غلطی کرنے پر محلے میں ایسا کوئی بزرگ نہیں بچا جو میرے بچے کو ٹوک دے یا مجھے آ کر اطلاع کرے۔

اب استاد کی مار باعث برکت نہیں سمجھی جاتی، اب مل کر گلیاں نہیں سجائی جاتیں، اب کسی کو لفٹ دینے سے ڈر لگتا ہے، اب پڑوسی کی گواہی دینے کا حوصلہ نہیں رہا، اب رات کے کھانے پر گھر میں سب کا اکٹھا ہونا ممکن نہیں رہا، اب والدین اپنے شہر، تعلیم دوسرے شہر جبکہ ملازمت بیرون ملک پسند کی جاتی ہے ۔
اب ہم انتہائی حد تک سوشل ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی تنہائی سے لپٹے رہتے ہیں، اب ہم زیادہ کماتے ہیں لیکن احساس سے محروم ہیں، اب ہم برانڈز پہنتے ہیں لیکن ہمیں ہاتھ سے بنی گئی سویٹرز کی محبت نہیں ملتی۔

ہمارے بچے نانی دادیوں کی کہانیوں سے محروم ہو چکے ہیں، ہماری اگلی نسل کو گلی ڈنڈا، شٹاپو اور ککلی جیسے کھیل میسر نہیں آئیں گے اور پھر ان کی دوستیاں بھی جان قربان کرنے کی بجائے جمع تفریق کے ساتھ چلیں گی۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہم نے ایک عہد کھو دیا ہے صاحب کیونکہ ہم سکون بیچ کر دولت کمانے لگے تھے اور ہم نے محبت کھو کر دولت کما لی ہے ۔

Facebook Comments

سيد بدر سعید
سب ایڈیٹر/فیچر رائیٹر: نوائے وقت گروپ ، سکرپٹ رائیٹر ، جوائنٹ سیکرٹری: پنجاب یونین آف جرنلسٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply