میں مومن وچ مسیتاں/سلیم زمان خان

●فرعون : کسی خاص شخص کا نام نہیں ہے بلکہ شاہان مصر کا لقب تھا۔ جس طرح چین کے بادشاہ کو خاقان اور روس کے بادشاہ کو زار اور روم کے بادشاہ کو قیصر اور ایران کے بادشاہ کو کسریٰ کہتے تھے اسی طرح مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے تھے۔
فرعون اصل میں فارا، اَوْہ تھا، مصری زبان میں فارا محل کو کہتے ہیں اور اَوْہ کے معنی اونچا کے ہیں فارا اوہ کے معنی ہوئے اونچا محل، اس سے شاہ مصر کی ذات مراد ہوتی تھی
لغوی معنی “عظیم محل”کے ہیں اس سے مراد بادشاہ کا محل تھاـ
●ہامان : فرعون کا وزیر خاص تھا  اور   سب سے زیادہ اختیارات رکھتا تھا۔۔ یہ وزیر خزانہ بھی تھا اور ،پبلک ورکس کمیٹی کا سربراہ بھی تھا ۔۔ عمارات کی تعمیر اور نگہداشت اس کی ذمہ داری تھی قرآن کی سورہ غافر میں ہے کہ ” اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لیے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں۔(غافر:36)” ، بائبل کے مطابق یہی ہامان تھا جس نے اسرائی لی بچوں کو قتل عام لڑنے کا منصوبہ فرعون کو دیا تھا ۔۔

●قارون : قارون موسی علیہ السلام کا رشتہ دار تھا۔ یعنی قوم موسی علیہ السلام سے تھا۔۔ کاروباری شخص تھا اور تاجر تھا۔۔ اور بظاہر اس نے موسی علیہ السلام کا دین بھی قبول کر لیا تھا ! نماز پڑھتا تھا تورات پڑھتا لیکن ریاکار اورکمزور عقیدہ کا انسان تھا مکمل ایمان نہيں رکھتا تھا چاہتا تھا کہ لوگ اس سے خوش فہمی رکھیں تاکہ انھیں فریب دے سکے قارون فصلوں کو پیشگی سستاخرید لیتا اور بعد میں انھیں مہنگے داموں پر فروخت کرتا تھا معاملات میں کم تولتا ,دھوکا اور بے انصافی کرتا ,سود کھاتا اور جتنا ہو سکتا تھا لوگوں پر ظلم کیا کرتا ۔اسی قسم کے کاموں سے بہت زیادہ دولت اکٹھی کرلی تھی اور اسے ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا تھا قاروں خدا پرست نہ تھا بلکہ دولت پرست تھا اپنی دولت عش وعشرت میں خرچ کرتا تھا بہت عمدہ محل بنایا اور ان کے در و دیوار کو سونے اور مختلف قسم کے جواہرات سے مزین کیا حتی کہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو سونے اور جواہرات سے مزین کیا قارون کے پاس سینکڑوں غلام اورکنیزیں تھیں۔۔
●سامری: سامری موسی علیہ السلام کی قوم کا جادوگر جس نے قوم کو بچھڑے کی پوجا پر لگا دیا تھا۔۔ دراصل یہ بچھڑا پرستی نہیں تھی یہ سونے اور جواہرات کی پوجا کرتا تھا اور لوگوں کو بھی اس پر راغب کیا۔۔ بنیادی طور پر آج کی اصطلاحوں میں سے اسے سائنسدان کہا جا سکتا ہے جس نے سب سے پہلے باتیں کرنے والا روبوٹ (گائے) کو بنایا ۔

Advertisements
julia rana solicitors

لہذا یہ تمام لوگ چاہے فاتح قوم سے ہوں یا مفتوح ،اپنے دور کی elite club کے ممبر تھے۔ امیر ترین لوگوں تھے۔۔ ان سب کے سماجی حیثیت مختلف تھی۔ یعنی بادشاہ ( head of the state) وزیر ( minister ,prime minister ) ,انجئنیر ، تاجر یعنی بزنس کمیونٹی۔ سائنسدان ، مگر ان میں مشترک ایک بات تھی جس کی وجہ سے ڈبوئے گئے ،زمین میں دھنسائے گئے۔ جسم میں کیڑے پڑے اور لوگوں کو چیخ چیخ کر کہتے رہے ہمیں چھونا نہیں۔۔ وہ یہ کہ یہ حکومت ،سیاست ، ایجادات ،عمارات اپنے مفادات کے لئے بناتے ۔۔ عوام کے لئے نہیں اور سب atheist تھے۔۔ یعنی دہریہ جو خدا کو نہیں مانتے بلکہ خود کو خدا مانتے تھے۔ میری نظر میں ہر وہ شخص atheist یا منکر خدا ہے جو دولت، شہرت ،مال ، عزت اور مفادات کو پوجا کرتا ہے۔۔ اور خدا پرستی کی آڑ میں اپنی شخصیت پرستی کرتا ہے ۔۔ اب چاہے وہ جو بھی ہو۔  خود کو بے نقاب کرتا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا۔۔” اقتدار ،طاقت اور دولت ملنے پر لوگ بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب ہوتے ہیں “۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply