بھیڑ چال کا شکار سوشل میڈیا/جاوید ایاز خان

آجکل جس سے بھی پوچھو کیا کر رہے ہو؟ جواب ملتا ہے آن لائن بزنس یا آن لائن ٹریڈ کرتا ہوں اگر پوچھیں یار کوئی مشورہ دو کیا کیا جائے؟ تو جواب ملتا ہے اپنا یو ٹیوب چینل بنا لو یا فارن ٹریڈنگ کر لو سمجھو پیسہ ہی پیسہ ہے کام بھی بڑا آسان ہے معاشرے میں یہ دوڑ بڑھتی جارہی ہےاور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اور سنی سنائی باتوں سے متاثر ہو کر لوگ اس جانب بڑھ رہے ہیں۔

پچھلے دنوں ایک دوست پریشان تھے کہ پرائیوٹ میڈیکل کالجوں نے فیس بڑھا دی ہے جو اب تیس لاکھ سالانہ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے لیکن بچی کی خواہش ہے کہ ڈاکٹر بنے تو اپنی جائداد بیچنا چاہتا ہوں میں نے کہا جب میرٹ نہیں بنا تو ڈاکٹر ضرور بنانا ہے کہیں دوسرے شعبہ میں داخل کرا لو تو بولے بھائی پورے خاندان نے اپنے بچے ڈاکٹر بنالیے ہیں ہم پیچھے کیوں رہیں؟ تعلیم کے لیے روس اور چائینہ جانے کا سلسلہ چلا تو دیکھا دیکھی بے شمار بچے ان ممالک کو دوڑے اور بیشتر کے ماں باپ بڑی مشکل سے ان کی فیس ادا کر پاتے ہیں اور ان سے جدائی کا دکھ علیحدہ سے برداشت کرتے ہیں غرض ہماری قوم جس جانب چل پڑتی ہے باقی سب کا رخ بھی ادھر ہو جاتا ہے۔ کاروبار کا بھی یہی حال ہے گندم کے سیزن میں ہر آدمی گندم اسٹاک کرتا نظر آتا ہے چینی اور چاول کے سیزن میں ہر شخص تھوڑی بہت اشیاء خرید کر اسٹاک کرنے کی دوڑ میں شامل ہوتاہے۔

ہمارے شہر کا بیشتر نوجوان دوبئی جانے کے چکر میں ہے جبکہ میں خود وہاں بےروزگاری کی حالت یہاں سے بھی بدتر دیکھ کر آیا ہوں یہ سب ہم ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بےشمار نوجوان ڈاکٹر، انجینیر تک بن کر بھی بےروزگار ہیں دوبئی جانے والے کم نہیں ہیں لیکن اپنا سب کچھ لٹا کر واپس آنے والے بھی بےشمار ہیں اسے ہی شاید بھیڑ چال کہتے ہیں جو ایک معاشرتی ناسور بن کر ہماری قوم میں سرایت کرچکا ہے ہمارا سوشل میڈیا اسے پھیلانے کی وجہ سے قوم میں مایوسی اور ڈپریشن میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

بھیڑ چال کا مطلب عام طور پر بے سوچے سمجھے تقلید کرنا یا ایک دوسرے کی نقل کرنا کہلاتا ہے اندھی تقلید یا دیکھا دیکھی کوئی طرز عمل اپنانا بڑا پرانہ لطیفہ ہے کہ ایک بار ایک استاد نے سوال کیا کہ اگر آپ کے پاس دس بھیڑیں ہوں اور ان میں سے ایک بھیڑ چلی جائے تو باقی کتنی رہ جائیں گیں؟ طالب علم نے جواب دیا سر! کوئی بھیڑ نہیں رہے گی استاد نے کہا بیٹا آپ ریاضی نہیں جانتے ہیں؟ تو طالب علم نے کیا سر! آپ بھیڑوں کو نہیں جانتے۔

اشارہ بھیڑچال کی طرف ہے یعنی ایک بھیڑ کے پیچھے ساری ہی چل پڑتی ہیں ہمارا معاشرہ آجکل اسی بھیڑ چال کا شکار ہوچکا ہے ہم لوگ وہی کرتے نظر آتے ہیں جو سب کر رہے ہوتے ہیں۔ موجودہ دور کا فتنہ افواہ سازی جو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانا کچھ مشکل نہیں ہے ہم کوئی بھی پوسٹ بلا سوچے سمجھے آگے فاروڈ کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ بےشمار اقوال اور احادیث تک بلا تحقیق و علم دوسروں کو بھجوادیتے ہیں۔ کوئی بھی میسج بلا تحقیق آگے بھیجنے سے پہلے سوچنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ مجھے اکثر تجربہ ہوا ہے کہ ہم پیغام پوری طرح پڑھتے بھی نہیں اور جواب دے دیتے ہیں ہے یہاں تک کہ کسی کی وفات کی خبر کو بھی جلد بازی میں لائیک کر دیا جاتا ہے۔

میں اپنے کالم جونہی فیس بک یا واٹس ایپ پر بھجواتا ہوں چند لمحوں میں ان پر لائیک یا بہت اچھا کے کومنٹس آجاتے ہیں جبکہ اتنی دیر میں تو کالم کا عنوان بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ جو اچھے سمجھدار دوست ہیں وہ لائیک کے ساتھ لکھتے ہیں کہ آپکا کالم پڑھ کر تبصرہ کرونگا۔ سوشل میڈیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی واقعہ یا تحریر بلا سوچے سمجھے کاپی پیسٹ کرکے آگے بھیج دی جاتی ہے جس سے باز اوقات بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ اس وقت افواہوں کی زد میں ہے اس لیے ہر خبر پر فوری یقین کرنے سے پہلے تھوڑا سوچ لینا اور فارورڈ یا واٹس ایپ کرنے سے پہلے تھوڑی تحقیق کرلینا بے حد ضروری ہے کسی بھی بات کو بلا تحقیق آگے پھیلانا معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی برائی ہوتی ہے۔ انہیں بلاوجہ اور بلا تحقیق افواہ سازی کی وجہ سے ملک میں کئی بڑے بڑے المیے جنم لے چکے ہیں۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم لوگ یہ جانے بغیر کہ سڑک پر جانے والی گاڑیاں واپس کیوں آرہی ہیں بس جلدی سے واپس مڑ جانے کی کوشش کرتے ہیں شاید بطور قوم سوچنا اور سمجھنا ہم چھوڑ چکے ہیں کہتے ہیں بھیڑ بن کر زندگی گزارنا بڑا آسان ہوتا ہے صرف چرواہے کی ماننا پڑتی ہے انسان غور وفکر کی اذیت سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے اور نقل مار اپنے آپ کو آگے نظر آنے والی لال بتی کے پیچھے لگا دیتا ہے۔ جو بعض اسے گہرے گڑھوں میں ڈال دیتی ہے۔ بےشمار جھوٹی اور مبالغہ امیز خبریں اور معلومات دن رات ہمیں غلط گائیڈ کرتی نظر آتی ہیں جن کو بلا سوچے سمجھے کسی دوسرے تک رسائی دینا نہایت ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔

کہتے ہیں کچھ سال قبل ترکی میں بھیڑوں کا ایک ریوڑ جا رہا تھا کہ ایک بھیڑ نے نجانے کیوں ایک پہاڑی سے نیچے چھلانگ لگادی اور اس کی دیکھا دیکھی اس کے پیچھے آنے والی پندرہ سو پچاس بھیڑیں بھی چھلانگ لگا کر موت کی بھینٹ چڑھ گئیں البتہ لاشوں کا ڈھیر اونچا ہونے کی وجہ سے باقی بھیڑیں بچ گئیں یا پھر زخمی ہوکر معذور ہوگئیں اسے انگریزی میں”ہرڈ سائیکالوجی” یعنی ریوڑ کی نفسیات اور زبان عام میں بھیڑ چال کہلاتا ہے ہرڈ تھیوری کا مطلب کسی انفرادی عمل کا پورے گروپ یا گروہ کا فالو کرنا یا عمل کرنا اور وہ بھی بغیر کسی براہ راست ڈائریکشن یا سوچ کے۔

گو یہ بات زیادہ تر جانوروں میں دیکھی جاسکتی ہے جیسے مچھلیوں کا ایک سمت تیرنا یا پھر پرندوں کا غول کی صورت اڑنا، بھیڑوں کا ایک سمت چلنا یہاں تک کہ مکوڑوں اور کیڑیوں کا ایک قطار میں ایک ہی جانب جانا مگر انسانوں میں بھی یہ عمل اس وقت بہت زیادہ دیکھنے میں آرہا ہے جب سیاست یا مذہب کا معاملہ ہو کیونکہ اس میں مرکزی یا بنیادی ہدایات سے انحراف کر لیا جاتا ہے اور صرف ایک بھیڑ چال میں لوگ چلتے ہیں اور اپنے سماج کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں اس وقت دنیا کا سب سے بڑا چیلنج مذہبی، معاشرتی اور سیاسی بھیڑ چال کو ختم کرنا ہے۔

بھیڑ چال صرف ہمارا یا ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ یہ روگ پوری دنیا کی اقوام کو لاحق ہو چکا ہے ہر معاشرے اور ہرسماج میں موجود یہ المیہ دنیا بھر میں کئی مرتبہ تباہی لا چکا ہے یہاں تک کہ دنیا کے بڑے بڑے معاشی بحرانوں کے پس منظر میں بھیڑ چال کے رویے کار فرما نظر آتے ہیں دنیا کی اسٹاک مارکیٹس اور منڈیا ں کریش ہوجاتی ہیں۔

مذہبی اور سیاسی اندھی تقلید کرتے ہوئے ہم اپنے اپنے رہنماوں کو مقدس اور محترم بنا لیتے ہیں اور پھر اپنی رائے کو حتمی قرار دیتے ہیں اپنے فرقے اور اپنی سیاسی پارٹی کو کو برتر تصور کر لیتے ہیں اور پھر فرقے یا سیاسی پارٹی کی خاطر ہر وقت مرنے اور مارنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور ان کے بارے میں کچھ سننے کو تیار نہیں ہوتے ان کی ہر جائز و ناجائز بات کی وکالت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جبکہ آج کا سوشل میڈیا اور اسکے بڑھتے ہوے اثرات اس بھیڑ چال کو مزید تقویت دیتے نظر آتے ہیں سوشل میڈیا کی مدد سے بھیڑ چال کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی خطرناک بیانیہ تشکیل دینا اور پھیلانا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔

آج کل سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس کی اہمیت اور افادیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے سوشل میڈیا سے مراد انٹرنیٹ بلاگز، سماجی روابط کی ویب سائٹس، موبائل ایس ایم ایس، فیس بک، ٹویٹر اور دیگر ہیں جن کا مقصد خبروں، معلومات، پیغامات کی تیز ترین ترسیل، رابطہ اور پیغام رسانی ہوتا ہے اس میں نظریات، تصاویر اور ویڈیوز کا اشتراک شامل ہے جو رفتہ رفتہ ہماری زندگی کا ایک جزو بن چکا ہے اور اب تجارتی استعمال بھی اس میں شامل ہو چکا ہے لیکن اس کا منفی مقاصد اور افواہ سازی کے لیے بڑھتا ہوا استعمال ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس کے ذریعے ہر روز نئے نئے ٹرینڈ سیٹ کئے جاتے ہیں اور نوجوانوں کو انکی جانب راغب ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی چند گھنٹوں میں یہ ٹرینڈ پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بلا سوچے اور سمجھے ہم تقلید کرنے لگتے ہیں یہی وہ بھیڑ چال ہے جو ہمارے معاشرے کومذہبی، سیاسی، اور معاشرتی خرابی کی جانب لے جارہی ہے۔ سوشل میڈیا کی افواہ سازی اور غلط سمت کی رہنمائی سے بچنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply