قطرہ قطرہ موت/ثاقب الرحمٰن

جب کسی قریبی دوست، اچھے ساتھی اور رشتہ دار کی موت ہوتی ہے تو ان کے ساتھ ہم بھی تھوڑے سے مر جاتے ہیں۔ پچھلے برس میں آج کے دن بھی کینسر وارڈ میں بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ یہ خوشی نہیں بلکہ حیات پر تمسخر تھا۔ موت پر فتح پانے کی کمینی سی خوشی تھی۔ چند اور سانسیں مل جانے کو میں نے وقتی فتح مان لیا تھا۔ مگر شاید ایسا نہیں تھا۔ وہاں وارڈ میں اکیلا میں تو نہیں تھا۔ جیتے جاگتے ڈرے ہوئے اور پرامید دوست تھے۔ سبھی وقتاً فوقتاً اپنا علاج مکمل کر کے نکلتے رہے۔

ابتدا میں سب سے رابطے کرتا تھا۔ بھولے بھٹکے ایک آدھ وٹس ایپ میسج کر دیا کرتا تھا۔ پھر جب ان میں پہلا دوست انتقال کر گیا تو میں بھی تھوڑا سا مر گیا۔ پھر کسی سے حال پوچھنے سے ڈر لگنے لگا۔ میں نے وقار بلوچ سے وعدہ کیا تھا کہ اس سے ملنے ہسپتال آؤں گا۔ مہینہ بھر مصروف رہا ہسپتال پہنچا تو معلوم ہوا وہ ہفتہ قبل ختم ہو چکا۔

راولپنڈی بحریہ ٹاؤن کا ایک خوبصورت نوجوان، عثمان ابھی سترہ سال  کا تھا۔ عیدالفطر کے دن اسے میسج کیا تو جواب میں ان کے والد نے رپلائی کیا۔ میرا تعارف لیا اور قبر کی تصویر بھیج دی۔ پھر کسی اور سے نہ پوچھ پایا کہ عید مبارک ہوئی کہ نہیں۔۔ میں تھوڑا سا اور مر گیا۔

میں جب پہلی بار وارڈ میں داخل ہوا تھا تو مردان سے لانس نائک حیدر بھائی پہلے سے موجود تھے۔ دو مہینے ایک ہی کمرے میں ہم دن رات ساتھ تھے۔ وہ پرانے اور experienced ہسپتال واسی تھے۔ مجھے انہوں نے آداب مرض و مریض سکھائے۔ آج ڈرتے ڈرتے خیریت دریافت کی تو ان کی کفن میں لپٹی تصویر موصول ہوئی۔ کچھ ہفتے قبل سانسوں کی زنجیر سے آزاد ہوئے تھے۔ ہم کیا سکتے تھے۔ تھوڑا سا اور مر لئے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہسپتالوں پر تو یونہی ٹراما سینٹر لکھا ہوتا ہے۔ دماغ سے بڑا ٹراما سینٹر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ خیال ہی کچھ الگ طرح کا ہوتا ہے کہ موت کا نامہ نگار ہمارے نام کا خط لئے گلیاں گلیاں بستی بستی ہمیں ڈھونڈ رہا ہے۔ اور ہم نگر نگر اس سے بچتے پھرتے ہیں، بھاگتے رہتے ہیں۔۔ اور جب کوئی پوچھتا ہے کہ “ابھی آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ ” تو گویا وہ بتا رہا ہے کہ موت کا پیامبر تمہیں ڈھونڈنے آیا تھا۔۔
اس تھوڑی تھوڑی موت کا تریاق بھی یہیں آس پاس موجود ہے۔ جب ہم کسی پرندے کو درخت پہ کوکتا دیکھتے ہیں تو تھوڑی سی موت ٹل جاتی ہے۔ مکمل چاند کے عکس کو سمندر کی لہروں پہ ناچتا دیکھ لیں تو ذرا سی زندگی لوٹ آتی ہے۔ موسیقی کی اچھی سی تان کو بار بار سننا اور حظ اٹھانا موت کو دور کرتا ہے اور اپنے گھر والوں کے لئے کچھ آسانی کا سامان کر کے زندگی لمبی لگنے لگتی ہے۔
بیشتر راتوں میں ڈراؤنے سپنے آتے ہیں۔ لیکن اچھا دن تو روزانہ ہی آتا ہے۔ چھ آٹھ دوست زمین تلے جا چکے لیکن اس سے کئی زیادہ ابھی زندہ بھی تو ہیں۔ تھوڑی تھوڑی موت ملتی ہے لیکن زیادہ زیادہ زندگی بھی تو مل ہی جاتی ہے۔ اب تو سال پورا ہونے کو ہے۔ اور اجل کا نامہ بر اب تھک چکا ہو گا۔ ہماری ڈیلیوری واپس ڈاکخانے پہنچا چکا ہو گا۔

Facebook Comments

ثاقب الرحمٰن
چند شکستہ حروف ، چند بکھرے خیالات ۔۔ یقین سے تہی دست ، گمانوں کے لشکر کا قیدی ۔۔ ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply