جمہوریت سے انتقام/محمد عامر حسینی

میں اپریل 2022 سے اپنے ان سیاسی دوستوں سے مسلسل اختلاف کر رہا ہوں جو پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی میدان میں جمہوری طریقے سے شکست دینے کی بجائے اس کو ریاست کے سویلین و عسکری اور انٹیلی جنس اداروں ، الیکشن کمیشن کے یک طرفہ فیصلوں کے ذریعے سے روکنے کے غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی طریقوں کی حمایت کر رہے ہیں ۔

میرے یہ دوست جن دلائل اور وجوہات کی بنیاد پر 1950ء سے لیکر 2018ء تک اسٹبلشمنٹ کی طرف سے عوام کے مینڈیٹ اور ان کے ووٹ کی توہین کرکے بننے والی حکومتوں کو غیر جمہوری اور اسٹبلشمنٹ کی بنائی ہوئی حکومتوں کے جواز پر سوال اٹھاتے ہیں اور اس طرح سے ہونے والے انتخابات کو انجینئرڈ انتخابات قرار دے کر مسترد کرتے رہے ہیں وہ ان دلائل اور وجوہات کی بنیاد پر فروری 2024ء کے انتخابات کو انجینئرڈ، دھاندلی زدہ قرار دینے اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے حکومتی سیٹ اپ کو غیر جمہوری ماننے سے یا تو انکاری ہیں یا پھر وہ ان سب غیر جمہوری اقدامات کو یہ کہہ کر جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر وہ اقدامات نہ اٹھائے جاتے تو تحریک انصاف دوبارہ برسراقتدار آ جاتی اور وہ ملک میں اپنی سابقہ حکومت کے دور سے کہیں زیادہ فسطائی اقدامات کی مرتکب ہوتی ۔

دیکھا جائے تو ان دوستوں کی اس منطق کے مطابق پاکستان کی موجودہ فوجی قیادت کے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اب تک اٹھائے جانے والے تمام غیر آئینی ، غیر جمہوری اور ریاستی جبر پر مبنی اقدامات ملک کو مبینہ فاشزم سے بچانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں اور جو سیاسی جماعتیں فوجی قیادت کے ان اقدامات کی حمایت کر رہی ہیں وہ ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے ایسا کر رہی ہیں ۔
میں اپنے ان جمہوریت پسند دوستوں سے یہ سوال بھی کرتا آ رہا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک موجود ہے جہاں جمہوریت پسند ترقی پسند سیاسی قوتیں کسی فسطائی ،نسل پرست رجحانات کی حامل سیاسی جماعت کی مبینہ مقبولیت کا راستا روکنے کے لیے اس ملک کی فوجی ، سویلین اور عدالتی اسٹبلشمنٹ کا سہارا لیکر انجئیرڈ انتخابات اور اس سیاسی جماعت کو ریاستی جبر کے ذریعے سے ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں ؟

ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ہندو فاشزم کی اعلانیہ حامی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جس کے پاس راشٹریہ سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد جیسی بہت وسیع نیٹ ورک رکھنے والی تنظیمیں بھی ہیں اپنے مذہبی فسطائی ایجنڈے کے ساتھ تیسری بار برسراقتدار آئی ہے ۔ کیا اس ملک کی سیکولر جمہوری ترقی پسند سیاسی جماعتوں نے اس ڈر سے اسٹبلشمنٹ کو مداخلت کرنے اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابات میں جیتنے سے روکنے کی درخواست کی کہ دوسری صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی جیت جائے گی ؟

کیا یورپ اور امریکہ میں ترقی پسند جمہوری جماعتوں نے ریاستی مداخلت سے وہاں پر نسل پرست جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے اور انھیں انتخابی انجنئیرنگ سے ہرانے کی کوشش کی اس ڈر سے اگر وہ جیت گئیں تو یورپ اور امریکہ میں نسل پرست فاشسٹ انتظامیہ بن جائیں گی ؟

میرے جمہوریت پسند دوستوں نے اس سوال پر سرے سے غور کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ جس جماعت کو سیاسی جماعت ماننے سے انکاری تھے اور اس جماعت کی عوام میں انھیں کوئی بڑی حمایت نظر نہیں آتی تھی اور ان کا یہ تجزیہ تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سر پر سے جس دن مسلح افواج پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف ، آئی ایس آئی کے سربراہ کا دست شفقت ہٹا اور پاکستان کی عدلیہ کے چیف جسٹس ، الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مدد ملنا بند ہوئی اس دن یہ جماعت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی وہ کیسے نہ صرف بطور سیاسی جماعت قائم رہی اور اسے انتخابات سے باہر رکھنے کے لیے نہ صرف انتخابات میں تاخیر کی گئی بلکہ اس جماعت کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کے انتخابی نشان کو ہی غائب کر دیا۔ اس جماعت کو انتخابی مہم چلانے سے روکنے ، یہاں تک کہ ضلعی سطح پر کنونشن تک کرنے سے روکا گیا ۔ اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بہت بڑی تعداد کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے تک سے روکا گیا۔ اور جن کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ان کی اکثریت کو اپنے حلقوں میں کمپین تک چلانے کی اجازت نہ ملی اور ان کی صف اول کی قیادت کو یا تو جیلوں میں بند کرکے نا اہل قرار دے دیا گیا یا پھر انھیں ریاستی جبر کے تحت پارٹی چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ ان کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت اور 70 فیصد امیدواروں پر دہشت گردی سمیت سنگین جرائم کے مقدمات قائم کیے گئے اور انھیں اپنے حلقوں میں انتخابی کمپئن نہیں چلانے دی گئی اور وہ روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔ انتخابی نتائج میں تبدیلی کی گئی اور فارم 45 پر جیت جانے والوں کو فارم 47 میں ہرا دیا گیا ۔
ہمارے یہ دوست یہ بھی بتانے سے قاصر ہیں کہ آخر فاشزم کے مخالف اور اپنے تئیں حقیقی جمہوریت پسند جماعتیں 8 فروری 2024 کو خاص طور پر پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان میں پولنگ اسٹیشنوں تک اصلی اور حقیقی جمہوریت پسند ووٹرز کو ان جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے کیوں نہ لا سکے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان میں یہ سیاسی جماعتیں آزادانہ انتخابی مہم چلانے اور آزادی سے بڑے بڑے جلسے کرنے کے باوجود “پی ٹی آئی ہمدرد لہر” کے مقابلے میں اپنے تئیں اپنے جمہوری پروگرام اور ترقی پسند انتخابی منشور کے حق میں مقبول عوامی لہر پیدا کرنے میں ناکام رہے؟

میں یاد کراتا چلوں پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں ہوں یا پاکستان پیپلزپارٹی ہو ان کی مرکزی قیادت کا پی ٹی آئی کی ساڑھے تین سال کی حکومت پر سب سے بڑی اور بنیادی تنقید یہ تھی کہ ملک میں معیشت کی بدحالی ، میکرواکنامک اشاریوں میں زوال ، مہنگائی اور غربت میں اضافے کا بنیادی اسباب نہ تو عالمی کساد بازاری ہے ، نہ ہی کورونا کی وبا ہے ، نہ ہی آئی ایم ایف کی شرائط ہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا سبب پی ٹی آئی کی نا اہلی ہے ۔ ان سب کا یہ دعوا تھا کہ اگر حکومت انھیں مل جائے گی تو یہ عوام کو یوٹیلیٹی بلز میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے ۔ ایکسپورٹ کو کم از کم 30 بلین ڈالر تک لیکر چلے جائیں گے ۔ یہ آئی ایم ایف سے طویل المدت آسان شرائط پر قرضہ لیں گے ۔ جبکہ امریکہ ، یورپ اور عرب ممالک ، پیرس کلب ، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 60 ارب ڈالر کے قریب آسان شرائط پر قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن 16 ماہ کی پی ڈی ایم حکومت کے دوران یہ پی ٹی آئی دور کی 25 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کو 2 ارب ڈالر پر لے گئے۔ مہنگائی کئی گناہ بڑھ گئی ۔ یہ کسی ملک سے ایک ارب ڈالر قرضہ تک نہ لے سکے۔ آئی ایم ایف سے ایک ڈالر تک نہ لے پائے اور آخری بجٹ پیش کرنے سے ایک دن پہلے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے انھوں نے آئی ایم ایف سے 9 ماہ کے لیے 6 ارب ڈالر کا ایس بی اے معاہدہ کیا جس کی شرائط اب تک کے تمام آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں سے کہیں زیادہ سخت بلکہ ظالمانہ شرائط تھیں ۔ جب غیر ملکی امداد اور قرضے لینے میں یہ ناکام رہے تو انھوں نے مقامی بینکوں سے قرض لینے کے 76 سالہ تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ 16 ماہ کی حکومت میں یہ حکومتی اخراجات کو پی ٹی آئی کی حکومت کے اخراجات سے 38 فیصد زیادہ پر لے گئے ۔ اور اس سال اس میں مزید 21 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ یہ آج تک ڈالر کی شرح تبادلہ کو پی ٹی آئی کی حکومت جانے کے وقت کی شرح پر واپس نہیں لا سکے۔

یہ حکومت آج تک بجلی ، گیس کی قیمتوں میں جتنا اضافہ کرچکی ہے وہ سارا اضافہ صرف عوام کے لئے ہے لیکن یہ افسر شاہی ، حکومتی اراکین ، وزیر و مشیر اور فوجی جنتا کے لئے مفت بجلی اور گیس کی مراعات تک واپس نہیں لے سکی ۔

یہ آج تک عوام کے سامنے یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے کہ یہ حکومت پی ٹی آئی سے بہتر چلا سکتے ہیں اور پی ٹی آئی کی نا اہلی لے مقابلے میں یہ حکومت چلانے کے زیادہ اہل ہیں ۔
اس حکومت نے کسانوں کا جو بھرکس نکالا اس کی مثال ماضی میں ملنا دشوار ہے۔

یہ پی ٹی آئی دور کی 25 فیصد شرح غربت کو سابقہ 16 ماہ میں 40 فیصد تک لے گئے اور ورلڈ بینک کے مطابق 2025ء تک یہ 50 فیصد سے زائد ہوجائے گی ۔
پی ڈی ایم کے سولہ ماہ اور فروری تا جولائی چھے ماہ کی حکومت کے دوران ان جماعتوں کا انسانی حقوق ، شہری آزادیوں کا ریکارڈ بھی بدترین ہے ۔

ان جماعتوں کی قیادت اور اس کی اندھی حمایت کرنے والے سیاسی کارکن اور دانشور یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پی ٹی آئی کی نا اہلی کے مقابلے میں ان کی بدترین نا اہلی نے عوام میں انھیں غیر مقبول بنا دیا ہے اور ان کی سیاست میں عوام کو سرے سے کوئی کشش محسوس ہی نہیں ہوتی ۔

ان جماعتوں کے وہ حامی سیاسی بانجھ پن کی پستیوں کو چھو رہے ہیں جو پی ٹی آئی کا راستہ  ریاستی جبر اور فوجی انجنئیرنگ کے ذریعے سے روکنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ یہ بالواسطہ عوام کو جمہوری جدوجہد کے ذریعے سے جیتنے کے یقین سے محرومی کا اعلان ہے ۔ یہ فوجی جنتا کے آگے مکمل سرنڈر کرنے کا اعلان بھی ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

پیپلزپارٹی کی قیادت نے پنجاب ، کے پی کے ، بلوچستان میں اپنی جماعت میں جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے اور عوام میں کام کرنے پر زور دینے والے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو دیوار سے لگانے اور انھیں پارٹی سے باہر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ بلکہ یہ تو ان سیاسی کارکنوں کو بھی پنجاب ، کے پی کے میں کوئی تنظیمی ذمہ داری دینے سے گریزاں ہے جنھوں نے رضاکارانہ طور پر ان صوبوں میں پارٹی کا پرچم بلند رکھا اور اس قیادت کا ناروا دفاع بھی کیا ہے اور وہ آصف علی زرداری سے ایسے معجزے منسوب کرتے نہیں تھکتے کہ جن کو سن کر معشیت اور سیاست کی معمولی شد بد رکھنے والے بھی ہنس ہنس کر دوہرے ہوئے جاتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنی موقعہ پرستی کا منطق کے پرفریب اسلوب کے سہارے دفاع کرنے والے اہل رضاکار ترجمان تک کو اکاموڈیٹ کرنے سے انکاری ہے چہ جائیکہ یہ اپنے نظریاتی منجھے ہوئے سیاسی کارکنوں کی آواز سنے ۔ اس نے کے پی کے میں پیپلز پارٹی کی سیاست کو یتیم کرنے والے سب سے نا اہل شخص کو گورنر کے پی کے لگا کر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ اسے کے پی کے میں عوامی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply