میری امریکی سٹرگل/سلمان خالد

اِدھر اُدھر کی بات کیا کرنی، تو سیدھا اپنی مثال دیتا ہوں۔
امریکہ آنے کے بعد کوئی آٹھ سے نو ماہ رب کے بعد ایک دوست کے بھروسے کام کی تلاش شروع کر دی۔ بیوی بچوں سے دور تھا مگر اُس وقت تک اللّٰہ بھلا کرے شامی نژاڈ سٹیو جابز کا کہ فیس ٹائم ویڈیو کال کی بدولت اُس نے سب عزیز و اقارب کو قریب کر دیا تھا۔ کچھ عرصہ کلیم کے گھر رہا اور پھر فیضان اور احمد شاہ المعروف شاہ جی کے اپارٹمنٹ میں موو ہو گیا۔ یہ بڑے جگرے اور کُھلے دِل کے اعلیٰ ظرف لوگ تھے جن سے مشکل دنوں میں میٹھے بول اور بڑی حوصلہ افزا تھپکیاں ملیں۔ پھر محسن بھائی سمیت مہتاب خان سے شناسائی بڑھی تو یہ سبھی رشتے دائمی بن گئے۔ یہ تمام احباب  دنیائے ہوابازی میں آسمانوں کی رولز رائس پرائیویٹ طیارہ ساز کمپنی گلف سٹریم ایرو سپیس کارپوریشن میں پاکستان کی پہچان تھے۔ فیضان اور شاہ جی جب دفتر چلے جاتے تو میں تنہائی میں عجب سے ڈپریشن میں چلا جاتا تھا اور خود کلامی میں اندر ہی اندر “یار! کمانا کب شروع کرے گا؟ بیوی بچوں کو کب تک اپنے سے دور رکھ پائے گا؟” جیسی لوپ لگ جاتی اور پھر کلیم سے مستعار شدہ ایک IBM frame پہ تجربہ سازی میں جُت جاتا۔ کلیم نے اُس مشین کو شاید Dead weight سمجھ کر کبھی hands on کام نہیں کیا تھا۔ مگر میَں اُس مشین پہ گوگل کر کرکے اور کلیم اور شاہ جی سے ٹپس لے کر کئی scenarios اور use cases (سافٹ وئیر انجینئرنگ ٹرمز) recreate کرتا اور انہیں destroy کرکے دوبارہ دہراتا رہتا۔

ایک وقت تھا جب شاہ جی کبھی پندرہ بیس روز بعد اپنی مقامی ریاست الینوائے کے معروف شہر شکاگو جاتے تو وہاں کی مشہور ڈیوون سٹریٹ (دیسی بھائی اِسے ‘دیوان’ سٹریٹ بلاتے ہیں) سے بھُنے ہوئے چکن پیس واپسی پہ سوٹ کیس میں بھر کر لے آتے جنہیں دفتری بریک میں بندہ بطور اکرام مگر دِل ہی دِل میں احسان مندی و تشکر کے احساس کے ساتھ بہت چاؤ اور لاڈ سے دسترخوان سجا کر نان یا ڈان کے ریڈی میڈ پراٹھوں کے ساتھ تیار رکھتا۔ میں نے پاکستان سے امریکہ آنے سے قبل بلامبالغہ “ٹورینٹ” (لفظ توڑ کر لکھ رہا ہوں مگر محبانِ سینما سمجھ جائیں گے) سے آلموسٹ ہر ژانرا کی موویز دیکھ چھوڑیں تھیں۔ نا  صرف انگریزی بلکہ کورئین، ایرانی، رشین، البانیئن، تُرک، ہسپانوی، اطالوی الغرض دنیائے سینما کی مختلف اللسان موویز کو کھنگال ڈالا تھا۔ وائس آف امریکہ پہ ثنا مرزا (جو بعد ازاں غالباً جیو نیوز میں خبرنامہ نگار بھی رہیں) کی امریکی ثقافت بارے کئی ویڈیوز دیکھیں۔ سو سچ پوچھیے تو میرے پاس کم از کم بات چیت کرنے کی حد تک ٹھاک ٹھاک مقامی امریکی ثقافت اور تہذیب بارے vocabulary کا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ شاہ جی، فیضان، عدنان، محسن اور مہتاب بھائی کے ساتھ شام اور بالخصوص ویک اینڈ پہ میں مختلف ژانرا کی موویز ڈاؤن لوڈ کرکے رکھتا اور پھر ہم میں سے کوئی ایک چولہے پہ ہنڈیا چڑھا دیتا جو اکثر چنے کی دال ہوا کرتی تھی جس میں گفتگو بےلگام ہو تو پانی سوکھ جاتا اور جب پانی سوکھ جاتا تو گفتگو بےلگام ہو جاتی مگر دال کو بالآخر گلنا ہی پڑتا۔ بندہ بطور ہیلپر کٹنگ بورڈ پہ سامانِ نوش یعنی پیاز، ٹماٹر، دھنیا، تڑکا اور بعد ازاں چائے بنانے کا فریضہ سرانجام دے لیتا۔ امریکی اپارٹمنٹس میں عموماً بجلی کی کوائل یا انڈکشن ٹاپ چولہے ساس پین کو پلک جھپکتے میں گرم کر دیتے اور دس میں سے نو مرتبہ چائے ابالا آنے کے بعد برتن سے باہر چھلک جاتی تو فیضان بھائی ہر بار “یار سلمان بھائی! مرضی ہے آپ کی یار۔۔ !” کہہ کر مسکراتے ہوئے سر پکڑ لیتے۔ میں اُس اپارٹمنٹ میں اُن کے ساتھ کوئی چھ یا سات ماہ رہا اور اُس دوران میں اپنی ہی ذات میں کسی حد تک شرم سار اور خود کو قدرے بوجھ سا سمجھنا شروع ہو گیا۔ لیکن میں ہولے ہولے سسٹم اور لوکل امریکی مارکیٹ کا مزاج سمجھ کر اپنا CV (جسے امریکی اصطلاح میں Resume کہا جاتا ہے) مختلف جاب پورٹلز پہ submit کرتا رہتا اور یوں دس میں سے سات مرتبہ کسی نہ کسی انڈین لہجے میں ریکروٹرز کی کالیں آنا شروع ہو گئیں۔

بات کچھ بن نہیں رہی تھی، اکثر میں شام ڈھلے فیضان اور شاہ جی کے اپارٹمنٹ لوٹنے تک نجانے کتنی مرتبہ پھوٹ پھوٹ کر رَو لیتا۔ پاکستان سے چند ہزار ڈالر ہم راہ لایا تھا مگر ضربوں تقسیموں نے دماغ کی لَسّی بنا چھوڑی تھی۔ مجھے یاد ہے کلیم اور اُس کے برادرِ نسبتی ٹیپو کے ہم راہ کوئی گاڑی خریدنے سوانہ، جارجیا سے میامی، فلوریڈا کے سفر میں ایک ٹول پلازہ پر کلیم نے مجھ سے پانچ ڈالر مانگے کہ شاید اُس کے پاس ریزگاری نہیں تھی۔ میں نے بڑا جگرا کرکے پانچ ڈالر اُسے دے تو دئیے مگر قیمتِ خرید یعنی 108 پاکستانی روپوں سے ضرب دینا نہیں بھولا۔ میرا گمان تھا کہ بعد میں مجھے وہ پانچ ڈالر واپس کر دے گا مگر وہ بھول گیا اور آج تک نہیں لوٹائے (ازراہِ مذاق کہہ رہا ہوں)۔ مجھے لگا گویا میری پاکستانی بینکنگ جاب کے پے چیک سے بہت خطیر رقم اِس میامی کے حرامی ٹول ٹیکس کی ہی نذر ہو گئی ہے۔

بعد میں فیضان بھائی کا ایک فقرہ مجھے آج تک نہیں بھولتا کہ، “سلمان بھائی! جب ڈالر کمانے لگ جاؤ گے تو یہ ضربیں تقسیمیں تبھی ختم ہوں گی اور ایسی ختم کہ پھر آپ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھو گے، بس اِس وقت کو ہمیشہ زندگی میں یاد رکھنا”۔
(فیضان بھائی! میں نے آج تک آپ کے اِس مشورے کو دِل سے لگا کر رکھا ہے۔)

جمعہ پڑھنے “اسلامک سینٹر آف سوانہ” جانے کے لیے کلیم یا فیضان و محسن بھائی کی مدد درکار ہوتی تھی کیوں کہ اَپن کے پاس کوئی سواری تو ہوتی نہیں تھی۔ سو اکثر یہ لوگ دورانِ دفتری اوقات شارٹ بریک کے چکر میں ٹائم بچانے کو مجھے کہا کرتے تھے کہ سلمان تو اپارٹمنٹ بلڈنگ سے کوئی تین میل پیدل چل کر “پولر پارک وے” تک آ جا ہم تجھے وہاں سے پِک کر لیں گے۔ واپسی پہ بھی اکثر میں مروتاً خود ہی کہہ دیتا کہ “آپ لوگ دفتر سے لیٹ ہو رہے ہوں گے، مجھے یہیں اتار دیجئے میں پیدل چلا جاؤں گا”۔ اور پھر تین میل خود کلامی اور سڑک پہ مہنگی ایس-یو-وی میں بیٹھے سواروں کو شاں شاں کرکے گزرتا دیکھ کر سینے میں کچھ کر دکھانے، اور دوستی کے احسان تلے دبے رہنے جیسی خود کلامی کے بھڑکتے الاؤ میں نجانے کیا کیا کنکر پھینکتا چلا جاتا۔ میں درحقیقت اپنے اِن مہربانوں کی مہمان نوازیوں سے تنگ آ چکا تھا۔ میَں سچ میں نہیں جانتا کہ کلیم، فیضان اور شاہ جی کو میری اقامت پذیری کی کیا قیمت ادا کر رہا تھا بلکہ اکثر وہ مجھے وال مارٹ اور کرشنا نامی دیسی سٹور (جہاں سے پاکستانی مصالحہ جات اور سبزی ترکاری وغیرہ ملتی تھی) پہ لے جا کر دو سو ڈالر تک کی گراسری بھی کروا دیتا۔ ایک روز کلیم نے ہفت وار ترتیب کے مطابق مجھے گھر کھانے پہ انوائیٹ کیا تو ڈائننگ ٹیبل پہ کلیم کی والدہ کے حوصلہ افزا فقروں کے سبب بھابھی کی موجودگی میں میں رَو ہی پڑا۔
بھلا پردیس میں کون کسی دوست کے لیے ایسی ہمت کرتا ہے؟

کلیم کے گیراج میں ایک متروکہ بائیسکل کھڑی ہوا کرتی تھی، میں نے تذکرہ کیا تو وہ اُسے اپنے مرسیڈیز ٹرک کے ٹرنک (ڈِگّی) میں رکھ کر فیضان و شاہ جی والے اپارٹمنٹ میں لے آیا۔ اُس کا ٹائر شاید پنکچر تھا، مگر ائیر پمپ سے ہوا بھری۔فِل کی تو کان والو کے پاس کر کے دو منٹ تک تسلی کرنے کے بعد اُس پہ تین میل دور واقع پُولر پارک وے تک بےخودی میں بھگاتا چلا گیا۔

اُس روز میں سواری ملنے پہ بہت خوش اور شاداں تھا کیوں کہ آج آس پاس سے گزرنے والی قیمتی ایس۔یو۔ویز کی شاں شاں کا جواب دینے کو میرے پاس ایک خزانہ جو ہاتھ لگ گیا تھا۔
مگر کیا کریں! بندہ تو پھر ناشکرا ہی ہوتا ہے۔ تھوڑی سی آسودگی مل جائے تو اُسے وقتی کشائش میں بھی نقض نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ دراصل آنے جانے کے دوران مجھے اُس بائیسیکل کی کاٹھی (سیٹ) بہت سخت معلوم ہونے لگی۔ اُن دِنوں میرا وزن کافی کم تھا سو بیٹھتے ہوئے سرین کے مقام پر ہڈیاں چبھتی تھیں۔ بیگم سے فیس ٹائم پہ بات ہوئی تو کہنے لگیں ہمت کریں اور وال مارٹ سے فوم والا سیٹ کور خرید لیجئے۔ آئیڈیا اچھا تھا سو اُسے دھلا چمکا کر اُس روشن آفتابی روز نزدیکی وال مارٹ سے بِنا ضربیں تقسیمیں دیئے کاٹھی خرید کر زیبِ نشست کی تو بھائی صاحب! بندہ پیڈل مارتا تھا دِلّی اور بائیسکل نکلتی تھی کلکتے۔ واپسی میں نے وَن ویلنگ کی کام یاب ٹرائیاں بھی ماریں، پیڈلز پہ کھڑے ہو کر تیز تیز ہوا سے باتیں بھی کیں اور ہاں ہاتھ چھوڑ کر مُنہ  سے “آ آ آ آ آ آ ا ا ا ا ااااااااا آآ آ آ آ، گھنگھنگگگ گھنگھنگ جیسی بچگانہ آوازیں بھی نکالیں”۔
اپن سالا! اُس دِن بھیکو ماترے مافق فیل کر ریا تھا۔

میں نے چند سیلف ٹرائیاں مار کر سکائیپ پر چند انٹرویو دینے شروع کر دئیے مگر چھ سات ماہ گزرنے کے باوجود بات پھر بھی نہیں بن رہی تھی۔ کلیم اکثر ایک آدھ دِن بعد میرا حال چال پوچھنے کو اپارٹمنٹ چکر لگا لیا کرتا تھا مگر اب وہ بس کال اور میسجز پہ اکتفا کرنے لگ گیا۔ میرا اور اُس کا کوئی “اولا!” (شرم) کا حساب کتاب نہیں تھا سو میں نے ایک روز ہمت کر کے اُس سے پوچھ ہی لیا، “یار! تو چین پود اب ملنے کیوں نہیں آتا؟ سالے! تھوڑا حوصلہ ہی تو مل جاتا تھا مگر تو نے اُس لائف لائن پہ بھی لکیر پھیر دی ہے”۔

بولا “یار! مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ تُجھ پہ میرا آسیبی سایہ ہے، شاید اِسی سبب تیرا کوئی انٹرویو منڈیر نہیں چڑھ رہا، بس اِسی لیے میں نے خود کو ذرا دور کر لیا ہے۔”

اُس کے ایسے جواب کے بعد احسان مندی تیل لینے چلی گئی، اور میں نے مُنہ  بھر بھر کر اُسے ایسی ایسی بےنقط سنائیں کہ خدا کی پناہ۔ مگر وہ شہزادہ چُپ چاپ میری بھڑاس سُنتا رہا، بس فرق یہ پڑا کہ پندرہ منٹ بعد وہ گھر سے ڈرائیو کرکے مجھے پِک کرنے کو اپارٹمنٹ کے باہر کھڑا تھا۔
اُس شام اُس نے مجھے بہت اچھا سا ڈنر کروایا۔۔
اور وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔۔۔

میں اب کام کی بات کی طرف آتا ہوں۔
میرا اندرونی سیماب اب آتشِ خاموش بن چکا تھا۔ مجھے لگنے لگا کہ اب میں نفسیاتی طور پر تیار ہوں۔ اب بات کرتے ہوئے میری گفتگو میں عَجب سا ٹھہراؤ اور لہجے میں ایک ردھم سا  آنا شروع ہو گیا   تھا ۔ دوست یار! میرے مخاطب ہونے سے قبل اپنے جملے روک کر میرے چہرے کی جانب دیکھ کر خاموش ہو جاتے اور پھر میری بات غور سے سُننے لگتے۔
شاید یہ میرا وہم ہو مگر ایسا مجھے لگتا تھا۔

ویسے بھی چند روز قبل کلیم کی دی گئی IBM machine پہ میں نے پریکٹیکلی وہ تمام scenarios کھڑے کر کر کے دہرا لیے کہ شاہ جی اور محسن بھائی سمیت اپارٹمنٹ میں آنے جانے والے مجھے تکریم آمیز نگاہوں سے دیکھنے لگے کہ اِس لڑکے نے کسی سے گائیڈینس کے بغیر ایک ڈیڈ مشین کو reconfigure کرکے زندہ کر لیا ہے۔ مہتاب اور فیضان بھائی چوبی ڈیک پہ سگریٹ کے مرغولوں کے دوران میرے شانے تھپتھپا کر خوش خبری دینے لگے کہ “سلمان بھائی! آپ کا ٹائم بس آیا لو۔ ۔”
مگر مجھے لگتا تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی کمی ابھی بھی باقی تھی۔

پھر ایک روز کچھ عجب سا ہوا۔
اُس روز مجھے اپنے ایک امریکی رشتے دار کا پیغام ملا، “سلمان سے کہو جب دوستوں سے جی اچھی طرح بھر جائے تو ہمارے پاس آ جانا، ہم جاب لگوا دیں گے”۔
یہ سیدھی سیدھی خود داری پہ چوٹ تھی۔
بھائی صاحب! تن بدن جوالہ مُکھی بن گیا۔۔۔
اور منتشر سوچوں کے عین بیچ تیر بن کر یہ طعنہ یکسوئی کا بہانہ بن گیا۔
میں نے کلیم سے کہا، دیکھ پیارے! اب مسئلہ ہے عجت (عزت) کا۔ آ جا اب آخری دھکا لگا لیں مِل کر۔
بولا! شہزادے! دس فیر کرنا کیہہ  اے؟
(جانی! کرنا کیا ہے)۔
کہا! جانی! اب تو مجھے چوں چاں کرتے نہیں دیکھے گا، بس کوئی پرسنل کنیکشن وغیرہ ہے تو لڑا مگر اب مجھے بنا جاب کے بیوی بچوں کے پاس نہیں لوٹنا۔
کہنے لگا، یار میرا غریب خانہ حاضر ہے اگر تو ہاں کرے تو بھابھی بچوں سمیت بےشک میرے گھر منتقل ہو جا۔۔۔ویکھی جاؤ فیر!

بہرحال! آنے والے ہفتے، میَں نے دو انٹرویو دئیے۔ دونوں جانب سے مجھے جاب آفر ہو گئی۔ پہلی دنیائے طیارہ سازی کے معروف ترین نام Boeing کی جانب سے ریاست ڈیٹرائیٹ کے خوب صورت شہر مشی گن میں مگر اُس سے بھی ڈبل ریٹ پہ ریاست واشنگٹن کے حسین ترین شہر سیئٹل میں IBM corporation کی جانب سے۔
میرے لیے وہ عید کا دن تھا۔

ہفتے کو میری ریاست جارجیا کے سوانہ شہر سے سیئٹل کی فلائیٹ اور ائیرپورٹ سے رینٹل کار سمیت رہائش کی کنفرم بکنگ تھی کہ دفعتاً out of the blue جمعہ کے روز میرے وہی قریبی رشتہ دارعزیز سات سو میل سفر کرکے اپارٹمنٹ ملنے آ گئے اور کہنے لگے، آپ میرے ساتھ چلیں کہ اب یہی مناسب ہو گا۔ ۔۔بہت ہو گیا۔
مگر سلمان خالد عین اُس لمحے آنکھیں بند کیے وجود میں بھرپور تشکر آمیز عجز افروز سانس بھر کر خدائے ذوالجلال کا شکر ادا کرتے ہوئے مسکرا دیا اور پھرعرض کیا،
“انکل۔۔۔! وہ میری جاب ہو گئی ہے۔۔۔
‏IBM میں۔۔۔
ایک لاکھ ڈالر پہ۔۔۔
اور میں ان شاءاللّٰہ! سوم وار سے جوائن کر رہا ہوں”۔
کمرے میں کوئی تیس سیکنڈ کی کھڑکی توڑ خامشی چھائی رہی۔۔۔۔میرے لیے وہ وہ تیس سیکنڈ سات ماہ کی سٹرگل کا فلیش بیک تھا۔
پھر وہ گویا ہوئے۔۔۔۔
بیٹا! مبارک ہو بہت بہت!
کہا! خیر مبارک! بس کلیم اور سب دوستوں کا بہت شکریہ کہ یہ سب انہی کے ہمت و حوصلہ افزائی کے سبب ممکن ہو پایا۔
کلیم کو اطلاع دی تو دفتر چھوڑ چھاڑ کر اُن عزیز رشتہ دار انکل سے ملنے اپارٹمنٹ بھاگا چلا آیا اور مجھے سائیڈ پہ لے جا کر شرارتاً بولا،
سالے! چھوڑنا ہی تھا تو پیر تک کا انتظار کر لیتا، انکل کو بُلانے کی تُجھے بہت جلدی تھی؟ چل۔۔۔خیر ہے! شکر ہے اللّٰہ نے ہماری عزت رکھ کی۔۔۔الحمدللّٰہ!

خواتین و حضرات! اکثر لڑکپن میں اپنے گلی محلوں اور والد صاحب کے کچھ دوستوں کے بچوں بارے سنا کرتا تھا کہ فلاں بھائی جان ملائشیا، دبئی، انگلینڈ و یورپ وغیرہ گئے مگر سیٹ نہیں ہو پائے۔ یہاں میں مان کر آگے بڑھتا ہوں کہ یقیناً کسی بھی قسم کا ایسا تقابل سراسر غلط اور ناانصافی پہ مبنی ہو گا کہ ربِ کائنات بےنیاز ہے کیوں کہ وہ چاہے تو بلاشبہ گلیوں کے روڑے کوڑے کا نصیب چمکا کر اُسے محل چڑھانے کی قدرت رکھتا ہے۔ مگر مجھے اپنی سٹرگل میں رب کی کرم نوازی اترنے کا جو سادہ سا کُلیہ سمجھ آیا ہے وہ یہی کہ کام یاب زندگی سے قبل سٹرگل کرنے والے انسان کو بسا اوقات ایک آخری دھکا درکار ہوتا ہے مگر اُس سے قبل اُسے خود کو مجاہدے کی بھٹی میں جلانا اور تپانا پڑتا ہے، دھیمی آنچ پہ پانی سوکھ جائے تو آنسو ملانا پڑتے ہیں۔۔۔ پھر کوئی مائی کا لعل آپ کی دال گلنے سے نہیں روک سکتا۔

ہوندا نئیں اے، کرنا پیندا اے
عشق سمندر ترنا پیندا اے
سکھ لئی دکھ وی جھرنا پیندا اے
دنیا دے نال لڑنا پیندا اے
جیون دے لئی مرنا پیندا اے

میں اپنی امریکی سٹرگل میں خود کفالت سے قبل کلیم، فیضان، شاہ جی، محسن اور مہتاب بھائی سمیت سب دوستوں کا تا دمِ مرگ شکر گزار رہوں گا مگر اُن رشتہ دار انکل کا دو مرتبہ شکریہ جنہوں نے اپنے الفاظ سے مجھ گرتے پڑتے کو پھر سے جی کڑا کرکے reload ہونے کا جواز فراہم کیا۔ یقیناً انہوں نے وہ فقرہ کوئی طعنہ سمجھ کر نہیں دیا ہو گا۔  شاید میں ہی زیادہ over sensitive ہو گیا تھا۔
~~~~~~~~~~~
پسِ تحریر: بتاتا چلوں کہ تین برس IBM میں جاب کے بعد مجھے اُسی گلف سٹریم ایرو سپیس کارپوریشن میں جاب آفر ہوئی جس کی بدولت  انکل_سام_کے_دیس_سے جیسا سفر نامہ وجود پذیر ہوا۔
وہی گلف سٹریم جو NASA کا ذیلی ادارہ ہے۔
(تمت)

Advertisements
julia rana solicitors

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply