قبالہ (4)کتاب یتزیراہ/احمر نعمان

گزشتہ بار ہم نے دیکھا کہ یتزیرہ میں ۳۲ تشکیل کے پراسرار راستے ہیں، کائناتی تشکیل تین پر مشتمل ہے، ایک تحریر، دوسرے حروف اور تیسرے اعداد۔ تین کی تکرار ملتی ہے۔
حروف (عبرانی کے) ۲۲ ہیں، ۱۰ اعداد ہیں ، یہ جڑ کر ہوگئے ۳۲، یعنی تشکیلی راستے۔
اب اعداد کا کھیل ہے، کتاب نے ۱۰ سے آغاز کیا ہے۔ ۲۲ مجموعہ ہے تین ہی اعداد کا، ایک ۳ ، دوسرا ۷ اور تیسرا ۱۲؛
۲۲ حروف:
کتاب ظہورمیں ایک جگہ درج ہے کہ خدا نے تین کی تشکیل دی، ایک متن، دوسرا عدد اور تیسرا ابلاغ۔
اور پھر اس نے خود کو بھی تین اقسام میں ملفوف کر دیا، جو کہ ایک کتاب ہے، دوسرا اس کتاب میں بیان کردہ داستان، تیسرا داستان بیان کرنے والا۔ He made darkness His hiding place ( Psalm 18:12)
یتزیراہ میں ۳ حروف کو دیگر حروف کی مائیں کہا گیا ہے۔
الف ، میم اور شین (عربی و عبرانی دونوں میں یہی تین حروف ہیں اور نام بھی یہی ہیں۔)
الف میم اور شین – یہ تینوں آگ، پانی اور ہوا کی علامات ہیں؛
پانی ساکت ہے، آگ متحرک ہے، ہوا ان دونوں کے درمیان مصالحت، ثالثی یا توازن قائم رکھتی ہے ۔
آگ سے حرارت پیدا ہوتی ہے، پانی سے ٹھنڈ ، ہوا سے معتدال حالت۔
الف ، میم اور شین میزان ہیں، ایک پلڑے میں مجرم ہیں، دوسرے میں پاکباز اور تیسری روح/ہوا جو ان میں توازن برقرار رکھتی ہے۔
یہ تین اسرار ہیں، یہ چھے انگوٹھیوں کی طرح مہربند ہیں، ان سے ہوا، پانی اور آگ نکلتی ہیں، جو مرد و خواتین میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔
یہ تین مائیں وہ باپ پیدا کرتی ہیں جن سے دنیا کی باقی چیزیں خلق ہوتی ہیں۔
ان تین کو ایک نے تین جگہ بنایا – کائینات میں، وقت میں، انسان میں۔ حرف الف کو اس نے ہوا میں ڈالا اور تاج پہنایا، اسے دوسروں سے جوڑ کر مہربند کر دیا۔ اسی کی کچھ crude سی تشریح کروں تو یتزیراہ میں Ruach کا مطلب روح ہے، چونکہ روح قدسی سے پہلا اخراج روح کا ہی تھا روح یعنی ہوا کا، بعد کی تشریحات کے مطابق اس ہوا سے پانی پیدا ہوا اور پانی سے آگ کی پیدائش ہوئی۔ یہاں ان کے شارحین غالبا ارسطو سے متاثر ہیں (یا ارسطو ان کی تشریح سے) سے کہ ان تینوں مادوں کا امکانی وجود تھا، جسے فلسفہ میں ہم potential کہتے ہیں، مگر اس سے اصل وجود یا actuality میں ان تین حروف نے عناصر پیدا کیے ۔
الف: ہوا سے ہوا
میم: ہوا سے پانی
شین: پانی سے شعلہ
یتزیراہ کہتی ہے کہ ان تین سے کائنات کے تمام عناصر کی تشکیل ہوئی، جہاں کائنات کو یہ تین بنیادی الفاظ سے ظاہر کرتی ہے، زمان، مکان اور انسان جیسا اوپر ذکر کیا آگے پھر اپنی گنجلک زبان میں بتاتی ہے پانی سے زمین بنی، آسمان آگ سے ، اور روح نے زمین اور آسمان کے درمیان ہوا پیدا کی۔
غزالی قبالہ/نوفلاطونیت/مانویت اوراس پر استوار فارابی و ابن سینا کے افکار کےخلاف تھے، مگر رد کرتے غزالی خود بھی کچھ شکار ہوئے، ایک جگہ انہوں نے تین عالمین کا ذکر کیا، عالم جبروت کو وہ توازن کا نام دیتے ہیں کہ دیگر دو عالمین کے درمیان واسطہ ہے، اسی تصور کو ابن عربی نے بڑھا کر برزخ کا نام دیا اور وہاں سے دانتے نے لے کر اعراف کو باقاعدہ عیسائیت میں شامل کرا دیا۔
فیثاغورث کے ہاں تین Triadتھا، وہ کہتا تھا کہ اس کا ایک آغاز ہے، ایک درمیان اور ایک اختتام، یہ اس لیے مثالی عدد Perfect numberہے۔ فیثاغورث کی ایک شاگرد نے کہا کہ تین واحد عدد ہے جو اپنے سے نچلے دونوں کا مجموعہ ہے، .3=2+1
سناتن دھرم میں یہ عدد تری مورتی تھا, سنسکرت میں ترنگلا سے ہی Triangle کا لفظ بھی نکلا۔
خدا وہاں تین صفات کی صورت ظاہر ہوتا ہے،
برہما – پیدا کرنے والا ؛ وشنو – پالنے والا ؛ شیو/مہیش – نیست و نابود کرنے والا
اوم کا ترشول بھی اسی لیے تین رخ رکھتا ہے،
موکش / نجات کے بھی تین ہی مختلف راستے ہیں ؛
وید کرم یوگ – اعمال کی بنیاد پر ؛ اپنشد گیان یوگ – معرفت کی بنیاد پر ؛ بھگتی یوگ – عشق کی بنیاد پر
معروف مصور، مانی نے جب مجوسیت کے اصولوں پر اپنا مذہب اختراع کیا، تو یہ مجوسیت سے مختلف اوربہت سے مذاہب کا ملغوبہ تھا۔ اس کی مذہبی کتاب میں ۲۲ ابواب ہیں اور ہر باب کسی ایک آرامی حرف پر استوار تھا جہاں پہلا حرف “الف” تھا اور اصل میں وہ بھی اسی کتاب یتزیراہ پر ہی چلتا ہے۔ اسی وجہ سے مانی کی تخلیقی داستان میں آدم ایلیا اور نخش ہاریشون کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
یہاں یہ بھی قابل غور ہے کہ نوفلاطونیت کا بانی فلاطینوس بھی مانی کا ہم عصر تھا اس پر قبالہ و مانی کے اثرات بھی ہیں۔
عیسائیت نوفلاطونیت سے بےطرح متاثر تھی، اس میں غالبا تثلیث Trinity کی بنیاد بھی یہی ہے خداوند، خدا وند بطور بیٹا اور خداوند بطور روح۔
مسلم تصوف کی علمیات epistemology بھی نوفلاطونیوت سے ماخوذ ہے، اسلیے مانی اور یتزیراہ کے اثرات بھی ملتے ہیں۔
حالیہ دور میں معروف سائنسدان نکولائی ٹیسلا (۳) کو کائنات کا کوڈ مانتا تھا، اسی میں تین جمع کر کے ۳،۶،۹ اس کے خیال میں کائناتی طلسم تھے جن سے دوسری جہات کھلتی ہیں اور بقول اس کے وہ دیگر عالمین سے رابطہ میں تھا۔
نمبر ۷:
ان میں سات دوہری آواز والے حروف ہیں؛ عبرانی اور ساتھ عربی میں دیکھیے؛ بیت (ب)، گمل (ج)، دالت (د)، کاف (ک)، پے (پ)، ریش (ر)، تا (ت)
یہ سات راستے بتاتے ہیں، یہ تمام جوڑی دار ہیں۔ یعنی یہ سات اور دو کا تعلق بناتے ہیں اور وہ یوں جیسے چین کے ین یانگ اور ہندوستان کی شیو شکتی کی طرح ہیں، یعنی ان میں اضداد oppositesاور جدلیات dialectics کا خیال رکھا گیا ہے۔
خیر و شر کا ایک دوسرے سے الگ وجود نہیں کیونکہ ہر شئی اپنے جدل اور اپنی ضد کی وجہ سے وجود میں ہے۔
یہ سات راستے، حیات و موت ، امن و جنگ ، حکمت و حماقت، امارت و غربت، خوبصورتی و بد صورتی، زرخیزی و ویرانی اور ربوبیت و بندگی کی علامات ہیں۔
کائنات کی تخلیق کے سات دن اور سات ہی ستارے (سیارے) ہیں؛ سورج، زہرہ، عطارد، چاند، زحل، مشتری اور مریخ۔
ہفتے کے دن ۷ جن میں سے ہر ایک ان میں سے کسی سیارے سے منسوب ہے ؛
آسٹرولوجی کے حساب سے ۲۲ حروف تہجی کو ۱۲ بروج، ۷ سیارگان اور ۳ عناصر (الف، میم، شین) سے جوڑا گیا ہے۔
انسان کی روح کے سات دروازے — دو آنکھیں، دو کان، منہ اور دو نتھنے۔ تو سات کے ساتھ سات آسمان، سات زمینیں، اور سات ادوار بنتے ہیں۔ اور اسی طرح اس نے سات کو آسمان کے نیچے کی تمام چیزوں پر ترجیح دی ہے، سات کی حرمت کی ابتدا یہیں سے ہے۔( اگلی بار اس سلسلہ کو ختم کرنے کی کوشش ہو گی۔ ) جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply