کمفرٹ زون/سید علی رضا

کمفرٹ زون کا لفظ آپ میں سے اکثریت نے سُنا ہو گا، ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں آپ آرام اور سکون محسوس کرتے ہیں، اِس حالت میں آپ کو تحفّظ کا احساس رہتا ہے اور آپ پُر اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ دراصل یہ ایک روزمرّہ کی لگی بندھی روٹین ہوتی ہے ، جِس کے مطابق آپ اپنا وقت گزارتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ کی زندگی میں ہر کام معمول کے مطابق ہو رہا ہوتا ہے اس لئے آپ کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے ، آپ کو اہم چیلنجوں یا غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں ہوتا اور آپ حالات کو اپنے کنٹرول میں محسوس کرتے ہیں،
اب ہم میں سے جو لوگ نوّے کی دہائی میں یا اُس سے پہلے اِس دنیا میں موجود تھے، تو وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اُس دور میں تانگہ ایک ایسی سواری تھا جو کہ گاؤں، دیہات اور شہروں میں یکساں طور پر چھوٹے سفروں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، جیسے آج کل چِنگ چی رکشے تانگے کے نعم البدل کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، اُس دور کے لوگوں میں سے اکثریت نے متعدد بار تانگے پر سفر کیا ہو گا، اگر آپ اُن لوگوں سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ کوچوان اپنے گھوڑوں کو ٹریک پر رکھنے کے لئے چمڑے وغیرہ سے بنی ہوئی ایک ایسی عینک استعمال کرتے تھے جو کہ گھوڑے کی آنکھوں پر باندھ دی جاتی تھی ، اس کو ‘کھوپے’ کہا جاتا تھا، کھوپے کا کمال یہ تھا کہ وہ گھوڑے کو وقتی طور پر اندھا کر دیتا تھا اور گھوڑا آنکھوں پر کھوپے چڑھ جانے کے بعد کچھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ گھوڑا صِرف کوچوان کے ہاتھوں میں موجود باگ کے اشارے سے چلتا چلا جاتا تھا، وہ اپنے اردگِرد کے ماحول سے بے خبر ہو جاتا تھا اوراُس کا سارا فوکس بس باگ پر ہی ہوتا تھا جو اسے چلا رہی ہوتی تھی،
اب اگر غور کریں تو کھوپے گھوڑے کا کمفرٹ زون تھے جو اُس کو اردگِرد کے ماحول سے بے نیاز کر دیتے تھے اس کو پتا نہیں چلتا تھا کہ سامنے گڑھا ہے یا کھائی وہ تو بس باگ کی روٹین کو فالو کر رہا ہوتا تھا اور سواریوں کو اپنی منزل پر پہنچا دیتا تھا، باگ سنبھالنے والا کوچوان بہت مہارت کے ساتھ گھوڑے کو ہر قِسم کی رکاوٹ آسانی سے پار کروا دیتا اور منزل پر پہنچنے کے بعد باگ کھینچ کر گھوڑے کو روک دیتا تھا۔

اب ہم لوگ جب صبح آفس جاتے ہیں یا اپنے کاروبار پر بیٹھتے ہیں تو ہر آفس اور کاروبار کو چلانے کے لئے کچھ قاعدے اور ضابطے ہوتے ہیں، وہ قاعدے اور ضابطے دراصل کوچوان کا کام کرتے ہیں اور ہماری اپنے کام کرنے کی مہارت کھوپے کا کام کرتی ہے، کیونکہ ہم ان ضابطوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے اپنے روز مرّہ کے کام آسانی سے سرانجام دے کر اپنا دِن گزار لیتے ہیں۔ اور دِن تمام ہونے کے بعد شام کو گھر آ جاتے ہیں۔

اپنے اِس کفرٹ زون میں ہم اپنے ہمسائیوں ، محلّے داروں، اور اقرباء کو فراموش کر دیتے ہیں، ہم تک اپنے اردگر کے ماحول کی کوئی خبر نہیں پہنچتی کیونکہ ہمارا کمفرٹ زون ہمیں اس قدر آرام پسند کر دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں پر جمود طاری کر کے اپنے آپ کو پُر سکون محسوس کرتے ہیں۔ ہماری ذہنی صلاحیتیں زنگ آلود ہو کر ہمارے ذہن کو ایک نقطے پر مرکوز کر دیتی ہیں اور ہم اس کو اپنی کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔

ہم اپنے خدا کا یہ حکم بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ اگر ہمارا ہمسایہ رات کو بھوکا سویا ہے تو آخرت میں اس کا جواب ہم سے بھی لیا جائے گا، اور اگر ہمارے کسی عزیز ، رشتہ دار کو ہماری ضرورت ہے اور وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے ہم سے سوال کرنے میں شرم محسوس کر رہا ہے جبکہ ہم صاحبِ استطاعت ہوتے ہوئے بھی اس کے حالات سے بے خبر ہیں تو پھِر یہ کمفرٹ زون ہمیں کب تک تحفّظ فراہم کرے گا، ہم کب تک حقوق العباد سے نظر چُرا سکتے ہیں، اگر دنیا فانی ہے تو پھِر کمفرٹ زون بھی سدا کے لئے نہیں ہے۔

کیا ہم ایک دائرے میں گھومنے والے کولہو کے بیل ہیں یا اشرف المخلوقات، کیا خدا نے ہمیں اپنی اِس زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ نہیں بنایا، کیا ہم زندگی کے چیلنجز کو قبول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، کیا خدا کی  طرف سے ہمیں ذہنی اور جِسمانی صلاحیتیں عطا نہیں کی گئی ہیں، کیا ہم عِلم اور مہارت نہیں رکھتے ، کیا ہم اِن عطا کی گئی نعمتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی نہیں لاسکتے، کیا ہمارا دماغ اُس مخصوص نقطے سے باہر آ کر مزید بہتر کام کر سکتا ہے؟

اگر اِن سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے جو کہ یقیناً ہاں میں ہی ہو گا تو پھر اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلیں اور اپنی ، اپنے پیاروں اور اِس معاشرے کی ترقّی میں اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا حصّہ ڈالیں اور یاد رکھیں! “یہ دائمی کامیابی ہو گی”، آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ہم سب کے لئے دونوں جہانوں میں آسانیوں والے معاملات فرمائے ، “الٰہی آمین”

Advertisements
julia rana solicitors london

pc;silvertheropy

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply