جغرافیہ کے قیدی (30) ۔ افریقہ ۔ جغرافیہ/وہاراامباکر

افریقہ کے ساحل؟ خوبصورت اور ریتلے۔ لیکن قدرتی بندرگاہوں کے طور پر بہت برے۔ افریقہ کے دریا؟ زبردست۔ لیکن ٹرانسپورٹ کے لئے ناکارہ کیونکہ ہر چند میل کے بعد آبشار آ جاتی ہے۔ یہ دو مسائل اس طویل فہرست میں سے ہیں جو اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ افریقہ ٹیکنالوجی اور سیاست کے اعتبار سے اتنا کامیاب کیوں نہ ہو سکا جتنا دنیا کے دوسرے خطے ہیں۔

انسان کا آغاز اس براعظم سے ہوا لیکن ترقی کی دوڑ میں یہ باقی سب سے پیچھے رہا ہے۔ صحارا، بحرہند اور بحراوقیانوس اسے باقی دنیا سے الگ کرتے ہیں۔ اور یہاں پر تہذیبی ارتقا یورپ اور ایشیا سے الگ ہوا۔ یوریشیا میں ٹیکنالوجی، نظریات اور افکار سفر کرتے رہے لیکن افریقہ میں یہ سفر اس طریقے سے نہیں رہا۔
افریقہ بہت بڑا ہے۔ اس میں کئی طرح کے علاقے ہیں، کلچر ہیں، موسم ہیں۔ لیکن ان سب میں مشترک چیز ایک دوسرے سے تنہائی رہی ہے۔ اب یہ اتنا نہیں لیکن پرانی وراثت باقی ہے۔
کم لوگ اس بات کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں کہ افریقہ کس قدر بڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کاغذ پر نقشہ بنانے کے طریقے (مرکیٹر میپ) میں یہ سائز سے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس کے شمال اور جنوب میں اتنا فاصلہ ہے کہ سویز نہر دنیا کی تجارت کے لئے اہم ترین مقام ہے۔ اس نہر نے مغربی یورپ اور ہندوستان کے درمیان فاصلے کو چھ ہزار میل کم کر دیا تھا!
افریقہ میں امریکہ جیسے تین ملک پورے آ جائیں۔ یا اگر اس میں امریکہ، انڈیا، چین، سپین، فرانس، جرمنی، برطانیہ، گرین لینڈ ڈال دیا جائے تب بھی مشرقی یورپ کے لئے جگہ بچ جائے گی۔
اسکے جغرافیہ کی کئی طریقے سے وضاحت کی جا سکتی ہے۔ سب سے بنیادی یہ کہ اس کی بالائی ایک تہائی اور زیریں دو تہائی کو الگ دیکھا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالائی ایک تہائی بحیرہ روم کے ساحل سے شروع ہوتا ہے جہاں پر شمالی افریقہ کے عربی بولنے والے ممالک ہیں۔ ساحلی میدانوں سے کچھ ہی آگے صحارا آ جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا خشک صحرا ہے۔ تقریباً اتنا بڑا ہے جتنا امریکہ کے نیچے کے علاقے کو ساحل کا خطہ کہا جاتا ہے۔ خشک، پتھریلا اور ریتلا۔ مغرب میں گیمبیا سے لے کر نائیجر، چاڈ، ایریٹیریا سے گزرتا ہوا بحیرہ احمر تک جاتا ہے اور تین ہزار میل چوڑا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے نیچے اسلام کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ ساحل سے لے کر بحیرہ روم تک مسلمان اکثریت ہے جبکہ اس سے نیچے مذاہب میں تنوع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیریں دو تہائی میں اکثر چیزوں میں ہی تنوع ہے۔ زمین زیادہ معتدل ہو جاتی ہے۔ اور سبز بھی جو کہ کانگو اور سنٹرل افریقن ری پبلک تک پہنچتے ہوئے جنگل میں بدل جاتی ہے۔ مشرقی ساحل کے قریب یوگنڈا اور تنزانیہ میں بڑے جھیلیں ہیں۔ جبکہ مغرب میں نمیبیا اور انگولا میں مزید صحرا ہیں۔ جب تک ہم جنوبی افریقہ تک پہنچتے ہیں تو موسم خاصا خوشگوار ہو چکا ہوتا ہے۔ اور اب ہم افریقہ کے شمال میں تیونس کے شمالی حصے سے پانچ ہزار میل کی قریب کا سفر کر چکے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply