ایک دن ایس ایس پی شہلا قریشی کے ساتھ/محمد ثاقب

پاکستان کی بہادر پولیس آفیسر ایس ایس پی شہلا قریشی سے ایک یادگار میٹنگ کے بعد نوٹس بناتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا انسان چند پروٹوکولز کو فالو کر کے اپنی زندگی کو اگلے لیول پر لے کے جا سکتا ہے۔

شہلا قریشی کی کامیابیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ کامیابی کے بہت سارے گر، دوران ملاقات انہوں نے بتائے جس کا حاصل یہ تھا کہ انہوں نے کہا ثاقب صاحب میں جس کام کو پورا کرنے کا عزم کر لوں پھر اس کو ہر قیمت پر کر کے چھوڑتی ہوں لیڈرشپ کی زبان میں استقامت

Persistency

کا نیکسٹ لیول۔

مشہور صوفی شاعر شاہ حسین نے اسی جذبے کو اپنی کافی میں منفرد انداز میں پیش کیا

ربا! میرے حال دا محرم توں

اندر توں ہیں، باہر توں ہیں

روم روم وچ توں

تو ہی تانا توں ہی بانا

سب کجھ میرا توں

کہے حسین فقیر نمانا

میں ناہیں سبھی توں

اے خدا تو ہی میرے حال کا محرم ہے۔

تو ہی اندر ہے تو ہی باہر تو ہی میرے روئیں روئیں میں بسا ہوا ہے۔

تو ہی تانا تو ہی بانا میرا سب کچھ تو ہی ہے۔ حسین فقیر عاجزی کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نہیں بس تو ہی تو ہے۔

یعنی جب مقصد آپ کے اندر، باہر روئیں روئیں میں بس جاتا ہے تو حیران کن چیزیں وجود میں آتی ہیں کہتے ہیں پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں۔

اپنے دادا کی لاڈلی تھیں اور دو تین سال کی عمر میں جب گھر میں شور کرتی تھیں، دادا کی نیند ڈسٹرب ہوتی تھی، پوچھتے تھے کہ یہ کون ٹھک ٹھک کر رہا ہے تو ان کی دادی جواب دیتی تھیں کہ آپ کی لاڈلی پوتی ہے۔ دادا مسکرا کر کہتے ، میری پوتی شہلا تھانیدار ۔

اور لاشعور یہ ساری گفتگو ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے گویا اس کو پتہ ہو کہ یہ ننھی بچی بڑی ہو کر سندھ پولیس کی پہلی خاتون پولیس آفیسر بنے گی

شہلا قریشی نے اپنے تایا کا تذکرہ کیا ان کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں کتب موجود تھیں کتاب بینی کا شوق وہیں سے پڑا سکول کالج اور یونیورسٹی میں گولڈ میڈلسٹ تھیں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد کمیشن کے امتحان میں ٹاپ کیا اور ڈی جے کالج میں تین سال تک لیکچرار کے فرائض سر انجام دیے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن میں

(Combined Competitive Examination)

میں ٹاپ کیا اور اسسٹنٹ کمشنر منتخب ہوئیں۔ اس کے بعد سی ایس ایسں2010 میں کیا اور پولیس کا محکمہ بحثیت پہلی خاتون اے ایس پی کے طور پر جوائن کیا۔

پاکستان میں پہلی خاتون پولیس آفیسر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس میڈم ہیلینا سعید ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ پولیس مشن میں ملک کا نام روشن کیا اور ریٹائر ہوئیں۔

یہ خواتین کی کہانیاں

ہیں عزم کی مثال

ہر قدم پہ حوصلہ

ہر لمحہ ہے کمال

گفتگو کے دوران شہلا قریشی نے بتایا کہ پاکستان کے ٹوٹل پولیس آفیسرز میں سے 10 فیصد خواتین ہیں مزید خواتین کو اس لائن میں آنا چاہیے کیونکہ کام کرنے کا سکوپ بہت زیادہ ہے اپنے ٹریننگ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فائرنگ میں پوزیشن لی تھی اس کے علاوہ پریڈ، ہارس رائڈنگ، ڈرائیونگ تمام شعبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دوران سروس مختلف پوزیشنز پر کام کیا ایس پی سٹی آپریشنز بھی رہیں۔

ایس ایس پی ریلوے کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کراچی سرکلر ریلوے کی 43 کلومیٹر کی اراضی قبضہ مافیا کے قبضے سے واپس لی۔

ٹرانس جینڈرز کی فلاح کے لیے مثالی کام کیا ٹیم بنائی اور 43 ڈیسک قائم کیے ۔

بلائنڈ لوگوں کے لیے کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ شکایات گھریلو تشدد کی آتی ہیں۔خواتین کی ذہنی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ وہ گھریلو تشدد کو اپنے خاوند کا حق سمجھتی ہیں۔

معاشرے میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیاکہا کہ خواتین اپنے آپ کو برسر روزگار کر کے اپنے آپ کو طاقتور بنائیں۔

کوئی ہنر سیکھ کر یا کوئی چھوٹا کام شروع کر کے اس کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور اہم بات بتائی کہ شادی کے بعد بھی باپ کے گھر میں لڑکی کے لیے کمرہ موجود ہو اس کلچر کی حوصلہ آفزائی کی جائے تاکہ مظلوم خواتین کو یہ احساس ہو کہ ان کو سپورٹ کرنے کے لیے ان کے والدین موجود ہیں۔

بہن کو جائیداد میں حصہ دیا جائے۔ عام طور پر پڑھے لکھے خاندانوں میں بھی بہن کو اس حق سے محروم کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کے محکمے میں خواتین کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں اگر کسی خاتون کا قد کم از کم پانچ فٹ ہے اور عمر 18

سے 28 سال کے درمیان ہے۔

تو وہ ضرور جاب کے لیے اپلائی کریں سب سے پہلے ایم سی کیوز پر مبنی ٹیسٹ دینا ہوتا ہے۔

PTS/NTS

کے ذریعے رجسٹر ہو جائیں۔ پھر فزیکل فٹنس کا ٹیسٹ ہوتا ہے جس میں 15 منٹ میں 1 میل دوڑنا ہوتا ہے اور یہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد انٹرویو ہوتا ہے۔

آفیسر رینک کی جابز بھی آتی ہیں اور ڈائریکٹ سی ایس ایس کر کے پولیس فورس جوائن کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ خواتین ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن 1715 پر رابطہ کریں۔ کسی مسئلے کی نوعیت کے لحاظ سے زینب ایپ اور زارا ایپ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں وومین پروٹیکشن سیل ہے جو زبردست طریقے سے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔

شہلا قریشی آج کل

Assistant Inspector General Police on Gender & Human Rights For Sindh Province

کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں اور پورے سندھ میں خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ چاہے چھوٹے بچے ہوں، خواتین، ٹرانس جینڈرز یا اقلیتیں ہوں، سب کے مسائل کے حل کے لیے بحثیت پولیس افسر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں۔ پورے سندھ میں تقریباً 406 سے زائد پولیس افسرز کو ٹرین کر کے جنڈر سینسٹیو ڈیسک پر تعینات کیا گیا ہے، جسے “وومن اینڈ چائلڈ ہیلپ ڈیسک” کہا جاتا ہے۔ اور آج کل

Special Sexual Offense Investigation Unit

کے قیام عمل کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ

One Stop Protection Centre

اور

Anti-Rape Crisis Cell

کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے، جس میں سندھ حکومت اور آئی جی سندھ صاحب کی کوششیں سر فہرست ہیں۔ اس طرح لوگوں کو خصوصاً جنڈر کرائم کے متاثرین کو کافی تقویت ملے گی۔ کیونکہ جگہ جگہ بھاگنے کے بجائے عوام کو ایک ہی جگہ تمام سہولتیں مل جائیں گی، اور متاثرین کی داد رسی میں مدد ملے گی۔ پولیس میں خواتین کی شمولیت سے متاثرہ خواتین بھرپور طریقے سے پر اعتماد ہو کر اپنے مسائل وومن ہیلپ ڈیسک تک لے کر آتی ہیں، اور بیشمار لوگوں کی کمیونٹی پولیس کے ذریعے داد رسی کی گئی۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کم نہ تھے کرو بیان

میں نے ورک اور فیملی لائف کو بیلنس کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اپنے شوہر کے لیے پراٹھا بناتی ہیں؟ جواب دیا میں کھانا پکانے میں مہارت رکھتی ہوں پراٹھا، گول روٹیاں اور مختلف روایتی ڈشز اہتمام کے ساتھ بناتی ہوں۔ بیکنگ بھی جانتی ہیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ سلائی کڑھائی مہندی لگانا میک اپ کرنے میں مہارت رکھتی ہیں اور اپنے گھر میں امور خانہ داری میں ایک ماہر خاتون کے روپ میں نظر آتی ہیں۔

رہیے نال سجن دے رہیے

لکھ لکھ بدیاں سو سو طعنے، سبھو سر تے سہیۓ

ترجمہ: جیون تو بس وہی ہے جو ساجن سنگ گزرے لاکھ طعنہ و تشنیع ہو، سب سہہ لیں گے۔

(شاہ حسین)

شہلا قریشی کا اورا ریڈ کیا تو سرخ اور اورنج کلر مضبوطی کے ساتھ نظر آیا۔ سرخ رنگ کا نظر آنا تو بنتا تھا یہ رنگ آپ کے کام کے جنون کو ظاہر کرتا ہے۔

آپ کی انرجی اور کام کے لیے ایکسائٹمنٹ بھی اسی رنگ کے اندر چھپی ہوئی ہے اورنج کلر ان کی ایموشنل سائیڈ کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر نہ لینا بڑا عہدہ رکھنے کے باوجود عاجز رہنا بہت زیادہ خوشی میں آپے سے باہر نہ ہونا اس کلر کے اوصاف ہیں۔

جیسے ہم نے کالم کے شروع میں بیان کیا کہ ان کی کامیابیوں کی لسٹ بہت لمبی ہے جہاں بھی کام کیا ایک نمایاں فرق ڈالا ان کی شخصیت یہ پیغام دیتی ہے کہ بڑا خواب دیکھا جائے اور پھر بڑے خواب کو پورا کرنے میں اپنا پورا وجود لگا دیا جائے ان کی روحانی انرجی بھی طاقتور ہے۔

برازیلین رائٹر پاؤلوکوئیلو یاد آگئے، جب کھلی آنکھوں سے خواب دیکھا جائے اور اس کے نیچے جگ راتوں اور پسینوں کی کھاد بھری جائے تو پھر اوپر والا پوری کائنات کو اس سازش میں شریک کر لیتا ہے کہ خواب دیکھنے والے کا خواب پورا ہونا چاہیے۔

قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھتی ہیں ڈاکٹر روتھ فاؤ اور دیگر کامیاب لوگوں کی بائیوگرافیز پڑھ رکھی ہیں۔

گریگ مور ٹینس کی تھری کپ آف ٹی ز نامی کتاب کا تذکرہ کیا آج کل دی سلک روڈ نامی کتاب پڑھ رہی ہیں۔ ان کی انرجی بتا رہی ہے کہ ابھی پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہ رہی ہیں اور لاکھوں خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں۔

وقت سے چھین لاؤں گی

میں اپنے حصے کی جیت

وہ دور ہی کیا جو

Advertisements
julia rana solicitors

میرے قبضے میں نہ رہے

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply