نشاۃ ثانیہ کا فریب/زبیر حفیظ

تازہ لبرل’ مولوی طارق جمیل کے بیان سے متاثرہ ہو کر نئے نئے توبہ تائب مومن کی طرح ہوتا  ہے ،جیسے ڈبہ پیک مومن کو شیطان اور نفس فوبیا ہو جاتا ہے ٹھیک ویسے ہی نوخیز لبرل کو مولوی فوبیا کی بیماری چمٹ جاتی ہے ۔
دیکھو مُلاں ایسے ہیں مُلاں ویسے ہیں ہم ترقی تب تک نہیں کرسکتے جب تک ملائیت سے نہ جان چھڑا لیں۔۔”
پھر تازہ لبرل ایک اور تاریخی موشگافی بیان کرتے ہیں ۔۔۔
” یورپ نے ترقی تب کی جب انھوں نے اپنے ملاں یعنی پادری سے جان چھڑائی اور مذہب کو سیاست سے  الگ کیا  ”

بعض بہت ہی میچور اور علمی طور پر  ہمارے دوست بھی یورپ کی ترقی کی وجہ نشاۃ ثانیہ کو سمجھتے ہیں اور   بلا تامل یہ کہنے میں دریغ نہیں کرتے کہ
“یورپ میں سائنسی اور صنعتی انقلاب تب آیا جب وہاں کلیساء کو سیاست سے بے دخل کر دیا گیا اور پادری کو امور سلطنت سے نکال کر کلیسا  تک  محدود کر دیا گیا  ۔”

یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو ہمارے ہاں رائج ہو گئی ہے ،یورپ کی ترقی کے پیچھے نشاہ ثانیہ نہیں تھی ،نہ ہی یہ اتنا سیدھا سادہ  عمل تھا جب مذہب کو سیاست سے الگ کر دیا گیا تو ترقی کے فوارے چھوٹ پڑے ،سائنس کا من و سلوی برسنے لگا ،صنعتی انقلاب کے پودے اُگنے شروع ہو گئے ۔۔۔ایسا بالکل نہیں تھا ،کسی بھی قوم کی ترقی کے پیچھے بہت سے عوامل ہوتے ہیں ،صرف ایک رخ کو دیکھ  کر اس کا درست تجزیہ کیا ہی نہیں جا سکتا ۔

یورپ کی ترقی کے پیچھے ،سائنسی اور صنعتی انقلاب کے پیچھے نشاۃ ثانیہ نہیں بلکہ یورپ کا سفاک کالونیل ازم تھا ۔جس نے آدھی سے زیادہ دنیا پر یورپی سامراج کے پنجے گاڑ دیئے تھے ۔یہ وہی کالونیل ازم تھا جس نے غیر یورپی دنیا کو یورپ کے لیے خام مال کی کان بنا دیا تھا  ۔

صنعتی انقلاب کی گنگوتری یہی کالونیل ازم تھا۔۔۔افریقہ ،لاطنیی امریکہ سے لے کر انڈیا تک کے خزانے جب فرنگی ،ہسپانوی اور پُرتگالی جہازوں سے لد کر یورپ پہنچے تو یورپ میں ان لوٹے گئے خزانوں نے اتھل پتھل پیدا کر دی ،اس اتھل پتھل نے صنعت کاری کے انجن کو تیز کر دیا ،سائنس بھی کمر کس کر سیدھی ہوگئی ،خام مال صنعتی انقلاب کا بھوکا پیٹ بھرتا رہا ،اسی صنعتی انقلاب نے سائنسی ایجادات کی فرمائشیں شروع کر دیں ،جو سائنسدانوں نے پوری کیں ،یہ ساری اتھل پتھل تب ہوئی جب یورپی کالونیوں سے مال  و دولت پہنچنا شروع ہوا۔

کالونیل سائنس بھی ایک الگ سے مضمون ہے ،کئی سائنسی ایجادات تو یورپ کے غیر یورپی زمینوں پر قبضہ کرنے میں سہولت واسطے ہوئیں ،جب یورپی دوسری زمینوں پر قبضہ کرنے پہنچتے تو انھیں طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ،اسی پس منظر میں میڈیکل سائنس بھی ترقی کرتی گئی ،اس سمے کے ایک ڈاکٹر آرنلڈ کا بڑا دلچسپ مقولہ کہیں پڑھا تھا کہ
“کالونیل ازم کی ترقی میں ہماری خرد بینوں (مائیکرو سکوپ)کا بڑا کردار ہے۔ ”

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے سائنسی انقلاب نشاہ ثانیہ کی وجہ سے آیا تھا یا سفاک کالونیل ازم کی وجہ سے ۔نشاۃ ثانیہ نے تو یورپ کو کئی دہائیوں پر مشتمل ایک خونی جنگ میں دھکیل دیا تھا بجائے ترقی کے  ۔مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ایک سیاسی مسئلہ تھا ،اس کو اتنا گلیمرائز کرنا بذات خود غیر جانبدار تاریخی تجزیے سے منہ موڑنا ہے۔

میں اسے سفاک کالونیل ازم کیوں کہتا ہوں اور سائنسی انقلاب کو کیوں کالونیل ازم سے نتھی کرنے پر تلا ہوں ۔؟

اس کی ایک وجہ ہے ،جب کوئی قوم استحصال کرتی ہے ،قبضے کی شکل میں ،لوٹ مار کی شکل میں،دوسری اقوام سے ہتھیائی گی دولت کے د َم پر ترقی کرنا شروع کرتی ہے تو اس ترقی کے ساتھ اپنے استحصال کے جواز تراشنے کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے ،اپنی ترقی کو خوشنما قسم کے فلسفوں کے پیچھے چھپا کر پیش کیا جاتا ہے ،یہی واردات اہل یورپ نے بھی ڈالی اپنے سفاک کالونیل ازم کے دم پر کی گئی ترقی پر نشاۃ ثانیہ کی خوشنما پوشاک ڈال دی  ۔

اٹسا پٹنائک بھارتی مارکسسٹ مورخ ہیں ،برطانوی کالونیل ازم کی تاریخ پر ان کی آراء سند کی حیثیت رکھتی ہیں انھوں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ صرف انڈیا سے برطانیہ نے پنتالیس ٹریلن ڈالر کی دولت لوٹی  گئی ۔

اپنی کتاب aspect of Indian colonial economic history میں پٹنائک ایک اور دلچسپ بات لکھتی ہیں کہ سترھویں صدی کے شروع میں انگلینڈ اور ویلز کا  مجموعی جی ڈی پی 157 ملین تھا جب کہ اس کے مقابلے میں صرف بنگال کا جی ڈی پی 215ملین تھا ،اس سے اندازہ لگا لیں کہ بنگال کتنا امیر تھا اور برطانوی سامراج نے اس کا کیا حال کیا۔

اور آپ کا کیا خیال ہے جو دولت یہاں سے برطانیہ گئی کیا اس نے صنعتی انقلاب میں حصہ ڈالا یا مذہب و کلیسا کی جنگ نے ۔۔۔یہ دولت کتنی تھی اور اس نے یورپ پر کیا اثرات ڈالے ۔

مولانا حسین احمد مدنی نے لکھا تھا ،یورپ کے کارخانے ہندوستان کی دولت پر چلتے ہیں ۔
مولانا مدنی کی ایک شاہکار کتاب ہے” برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا” ۔۔۔اس موضوع پر اردو میں کسی اور کتاب کی مثال نہیں ملتی ۔۔کتاب میں مولانا مدنی لکھتے ہیں ۔۔
“ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1613میں تاج برطانیہ کو تیرہ ہزار پونڈ کا ٹیکس دیا جو بڑھتے بڑھتے 1660 تک چالیس ہزار پونڈ تک پہنچ گیا ۔کمپنی اتنی طاقتور ہو گئی تھی کہ شاہ برطانیہ چارلس دوئم نے کمپنی سے چالیس ہزار پونڈ کا قرض مانگ لیا ۔
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کے غیر یورپی اقوام سے لوٹی گئی دولت پر نشاۃ ثانیہ کی خوبصورت قلعی کیسے چڑھا دی گئی ۔۔

Advertisements
julia rana solicitors

یہی حال غلامی کے خاتمے کا بھی ہے ،غلامی کا خاتمہ خالص اخلاقی وجوہات کے تحت نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے خاتمے میں معاشی وجوہات چھپی تھیں ،غلامی کے خاتمے کی بنیادی تحریک انگلینڈ سے اٹھی ،اس کے حریف سپین کی لاطینی امریکہ میں شوگر کی تجارت عروج پر تھی ،اس کی فصل کے لیے غلاموں کو کھپایا جاتا ،چینی کی ہسپانوی تجارت برطانوی سامراج کو آنکھیں دکھا رہی تھی ،برطانیہ اس کی کمر توڑنے کے لیے چینی کہ تجارت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی غلامی کے خاتمے کے لئے زور دینا شروع کر دیا۔۔
اگر یورپ نوآبادیاتی پنچے پوری دنیا پر نہ گاڑتا تو مارٹن لوتھر ناچ کے گنگھرو توڑ دیتا ،پروٹسٹنٹ لڑ لڑ کر کتھیولک پر فتح یاب ہو جاتے یا کلیسا سیاست سے ہار جاتا ،نہ تو صنعتی انقلاب آنا تھا ،نہ انجن بننا تھا ،نہ سائنسی ایجادات ہونی تھیں ۔۔۔یہ نشاۃ ثانیہ کا فریب ہے ،جس نے سفاک کالیونیل ازم پر پردہ ڈال رکھا ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply