حوصلہ افزائی کے معاشرے پر مضر اثرات/وقاص آفتاب

آ ج سے تین دہائیاں پہلے ایک مزاحیہ شاعر ٹی وی کے ایک مشاعرے میں نمودار ہوۓ اور پنجابی و اردو کا ایک ملغوبہ سنا کر فورًا ہٹ ہو گئے۔ ان صاحب کی شاعری میں ندرت بیانی تو تھی مگر سوچ میں گہرائی ، کلام میں بلاغت اور شاعرانہ تعلی وغیرہ بہت کم تھی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ جو کلام یہ سناتے تھے اسکے پہلے دو یا تین شعر تو وزن اور بحر میں ہوتے تھے پھر یہ صاحب پٹری سے اتر جاتے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ انکے اندر موزوں طبیعت اور شاعرانہ ٹیلنٹ تو ہے مگر اسے مزید نکھرنے اور صیقل ہونے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اردو شاعری کے بڑے بڑے نام بشمول امجد اسلام امجد، محسن نقوی اور افتخار عارف وغیرہ موجود تھے مگر کسی بھی بڑے شاعر نے ان صاحب کی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے بھی انکے کلام کو تنقید کی سخت چکی میں نہیں پیسا۔ ماحول چونکہ واہ واہ اور پذیرائی کا بن چکا تھا اس لئے بڑے بڑے استاد بھی انکی بے وزن شاعری پر داد کے ڈونگے برساتے رہے۔ جو ملا اس نے ان صاحب کی تعریف کی اورانکی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اس پہ مزید ظلم یہ ہواء کہ جب یہ مشہور ہو گئے تو انکے اندر سے ایک عدد دانشور بھی برآمد ہواء چناچہ یہ اخبارات میں کالم بھی لکھنے لگے۔ زمانہ طالب علمی میں انکے کئی کالم پڑھنے کا اتفاق ہواء مگر ہر کالم پہلے کالم سے زیادہ بور اور پھسپھسا نکلا۔ چنانچہ تنگ آکے پڑھنا چھوڑ دیا ۔شاعری کی طرح کالم نگاری میں بھی انکی بے پناہ حوصلہ افزائی ہوئی مگر کسی بڑے شاعر، ادیب ، صحافی اور قلم کار نے انکو یہ نہ بتایا کہ جناب آپ شاعری پر ظلم تو کر ہی رہے ہیں ، کم ازکم نثر کو ہی معاف کر دیں ۔اس ساری تعریف اور بے جاستائش کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان صاحب کا فکری اور فنی سفر منجمند ہو گیا۔ یہ آج بھی ویسی ہی شاعری کر رہے ہیں اور ویسی ہی نثر لکھ رہے ہیں جو آج سے تیس سال پہلے لکھا کرتے تھے۔ کلام میں وزن اور بحر کی جو کمزوری روز اول تھی وہ آج بھی وہیں ہے۔ تیس سال کے عرصہ میں نہ تو انکا زخیرہ الفاظ بڑھا اور نہ کوئی نئی چاشنی دیکھنے کو ملی۔

اسی طرح کا حادثہ آج سے کچھ برس پہلے ایک طالب علم کے ساتھ ہواء جس نے اے اور او لیول میں اتنے زیادہ اے گریڈ لئے کہ ورلڈ ریکارڈ ہی ٹوٹ گیا۔ یہ بچہ امریکہ، برطانیہ ، جرمنی، چائنہ ، حتی کہ بھارت میں بھی ہوتا تو اس کی تراش خراش ہوتی اور یہ بہت بڑا مفکر، بہت بڑا سائنسدان ، بہت بڑا ریاضی دان یا فلسفی بن کے سامنے آتا۔ مگر ہمارے یہاں قحط رجال اسقدر شدید ہے کہ اس بچے کی امتحانی کامیابی کی خبر ملتے ہی اخبارات اور ٹی وی چینل اس پر ٹوٹ پڑے۔ اسکے انٹرویو ہونے لگے ۔اسے ٹی وی ٹاک شوز میں قومی مسائل پر بحث اور انکے حل میں درکار نایاب گیڈر سنگھی کی دریافت کے لیے بلایا جانے لگا ۔بہت جلد اسے بھی دانشور کا درجہ مل گیا۔ اس بچے کی گفتگو کئی ٹی وی پروگرامز میں سننے کا اتفاق ہواء مگر کوئی خاص بڑی علمی بات نہ ملی۔ دانشور کا مقام خاص پاتے ہی اس بچے کو بھی کالم نگار بنا دیا گیا اور یہ بھی اخبارات میں لکھنے لگا۔ اسکے کالم بھی بور اور زندگی کی ہر رمق سے خالی نظر آۓ مگر اساتذہ فن میں سے کسی نے بھی اس کندہ نا تراشیدہ کو یہ بتانا گورا نہ کیا کہ وہ کالم نگاری اور اردو زبان پر جاری اپنا ظلم بند کر دے۔ اس کے بر عکس اس کی حوصلہ افزائی ہی ہوتی رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اس بچے کا ذہنی ارتقاء بھی رک گیا اور کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم پانے کے باوجود یہ بھی ایک خاص سطح پر منجمد  ہو گیا۔

آپ بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ آپکو معاشرے میں بہت سے افراد ایسے ملیں گے جو ایک خاص ذہنی سطح پر منجمد ہوں گے۔ آپکو ایسے شاعر، ادیب، گلوکار ، صحافی ملیں گے۔۔ جن کی اٹھان تو بہت اچھی تھی مگر بے جا تعریف اور جعلی و بناوٹی حوصلہ افزائیوں نے انکا سفر روک دیا۔ اس لئے حوصلہ افزائی سے گریز کریں ۔ تعریف کرنے میں جس قدر جز رس ہو سکتے ہیں ہوں۔

Advertisements
julia rana solicitors

پرانا زمانہ اچھا تھا جب یہ حوصلہ افزائیوں اور ستائشوں کے رواج نہ تھے۔ سکولوں میں ، کالجوں میں اساتذہ کرام تعریف کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچتے تھے۔ اکثر یہ ہوتا تھا کہ کسی کے سو میں سے نوے نمبر آ رہے ہوتے تو ماسٹر صاحب دو چار نمبر گندی لکھائی یا مارکر کے رنگ کا بہانہ بنا کر کاٹ لیتے تھے۔ دوران کلاس شرارت کرنے پر سزا تو ملتی ہی تھی مگر بعض اساتذہ کرام وقتاً فوقتاً بلا وجہ بھی دو چار تھپڑ رسید کر دیتے تھے۔ مقصد اس مشق کا یہ تھا کہ کوئی طالب علم اپنی اوقات سے باہر نہ نکلے اور فائنل امتحان کے لئے مزید محنت کرے۔عام زندگی میں بھی لوگ زندہ لوگوں بشمول عزیز و اقارب کے بہت مشکل سے کسی کی تعریف کرتے تھے۔ بلکہ تعریف کرنا یا اچھا بول بولنا خوشامد اور مکھن لگانے کے ضمن میں آتا تھا ۔پاک و ہند کے اکثر علاقوں میں تعریف صرف مرحومین کی کی جاتی تھی۔کئی  جگہوں پر تو یہ رسم بھی نہ تھی بلکہ مرے ہوؤں کو بھی ویسے ہی کوسنےسننے پڑتے تھے جو کہ وہ زندگی میں سنتے آۓ تھے۔ اسی تنقید سے ڈرکر شاعر نے کہا تھا
اب تو گھبراکے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔

Facebook Comments

Waqas Aftab
Intensivist and Nephrologist St. Agnes Hospital Fresno, CA, USA

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply