علاج کارگر ہے اور ہے کوتاہ فہمی/سعدیہ بشیر

پپو کا گھر پکا کیا ہوا۔ اس کی خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی۔ پکا گھر بچپن سے ہی اس کی شدید خواہش تھی۔ سمندر کے کنارے لوگوں کو ریت کے گھر بناتا دیکھ کر وہ اپنے بال نوچتا کہ ان جاہلوں کو کیسے بتائے کہ پکی اینٹوں سے بنے گھر کا نشہ انسان کو کیا سے کیا بنا سکتا ہے۔ اس کے ذہن میں ایسی کوئی مثال ہی نہ تھی جس سے وہ لوگوں کی ذہن سازی کر سکتا۔ لیکن اب پنڈ کے بے شمار کچے گھروں کے درمیان اپنا پکی اینٹوں والا گھر دیکھ کر عجیب سا کمینہ پن محسوس ہوتا۔ اردگرد کے سارے لوگ اسے کمی کمین اور طاغوت محسوس ہوتے۔ اسی لیے اس نے ارد گرد کے سارے گاؤں کو اپنی مریدی میں لینے کا اعلان کر دیا۔

آئندہ کئی برسوں تک جاری رہنے والا پیری مریدی کا یہ سلسلہ ہی اسے وہ خوشی دے سکتا تھا جسے ہر بدنیت عاشق سچی محبت کا نام دیتا ہے۔ آن لائن فراڈ اور سسٹم کی کم زوریوں کو دیکھتے ہوئے پپو کی تمام تر توجہ آف لائن فراڈ پر تھی۔ وہ بھول گیا کہ سارے پنڈ نے ذہنی معذوری کا چندہ ڈال کر اس کی لیڈری کے گھر کی بنیاد رکھنے میں مدد کی ہے۔ پپو اور بھی سب کچھ بھول چکا تھا۔ بس پکے گھر کو دیکھ کے ناچ ناچ کے پاگل ہو رہا تھا۔ حلوائی کو گھر کے باہر بٹھا کر جلیبیاں اور پیڑے بنوائے گئے۔ ہلکے ہلکے طبلے پر شیرے سے لتھڑی جلیبیاں اور کھوئے سے لپیٹے گئے پیڑے کھانے کے شوقین دن رات پپو کے گھر کے باہر بیٹھے رہتے۔

یہ رونق میلہ دیکھ کر غلام عباس کے افسانے کی طرز پہ آدھا شہر پپو کے گھر کے باہر منتقل ہو چکا تھا۔ کھانے پینے کی اتنی دکانیں تھیں کہ ہر وقت میلے کا گمان ہوتا۔ پپو ہاتھ لہرا کر لوگوں کو تسلی دیتا کہ جمے رہو، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ شام ہوتے ہی نجانے کہاں سے اور کیسے اچانک ہی ناچ گانا کا باقاعدہ اہتمام ہوتا۔ خوب “ویلیں” چڑھائی جاتیں۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ سیاہ باریک جالی کے نقاب پہنے ناچنے والے کون تھے اور ماسک پہنے “ویلیں” چڑھانے والے کہاں سے آتے تھے۔

پپو کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔ ان کچی پکی اینٹوں کے نیچے ہزاروں کہانیاں دفن تھیں۔ کئی بار تو اینٹیں خود بھی یہ کہانیاں سنانے پر آمادہ لگتیں، لیکن زباں بندی کے ضابطے پختہ کار ہو چکے تھے۔ کسی چیخ کی صورت میں طبلہ کی تھاپ تیز سے تیز تر ہو جاتی اور تواتر کے ساتھ ناچ شروع ہو جاتا ،جلیبیوں والا تھال بھرنے لگتا اور کچی اینٹوں کی آواز دبا دی جاتی۔ پپو کو کچی اینٹوں کی چیخ و  پکار سے خوف نہیں تھا۔ اس نے “ویلوں”کی مدد سے ایسا ساونڈ سسٹم تیار کروا رکھا تھا جس میں ہر آواز دب جاتی تھی یا دبا دی جاتی تھی۔ اخلاقیات کی اکا دکا مثالوں کے علاوہ اسے کسی بات سے کوئی غرض نہ تھی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر پپو نے ایسی کمپنیاں بنائی تھیں جو وائٹ بیٹ ہیکنگ کے لیے دھڑا دھڑ اخلاقی سٹیکرز چھاپ رہی تھیں جو پپو نے اپنے گھر کے ہر اطراف پر چپکا رکھے تھے۔ ان بولتی اینٹوں پر بھی ان میں سے ہی کوئی سٹیکر چپکا کر ان کا علاج کیا جاتا تھا۔ فرائض کی بات پر بد زبانی کا وہ راگ الاپا جاتا کہ سمجھ دار لوگ جلیبی چھوڑ کر بھاگ جاتے اور جو حقوق لینے آتے انھیں بندر کی طرح خوب گھمایا جاتا ان کی اٹھک بیٹھک پر بھی پیسے وصولے جاتے اب کوئی مولوی شریعت اللہ نہیں تھا۔ البتہ کتنے ہی مولویوں کے چغے پہنے قضائے مجلہ کا فریضہ سنبھالے پاس داروں نے چوروں، ڈاکوؤں کا صفایا کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔

شدید دنیا داروں کو جہنم کی آگ دکھا کر مجنوں بننے پر مجبور کرتے بد ہیئت کردار گویا اگتے جا رہے تھے۔ وہ سب مقبول انام بننے اور قوم پر اپنی حاکمیت مسلط رکھنے کے لیے اپنی باتوں کو دین بنا کر پیش کرتے تھے۔ انھیں اس سے بھی غرض نہیں تھی کہ سر کی ٹوپی جاتی ہے یا سر۔ وہ اپنے مخالفین یا راہ میں حائل لوگو ں پر بلا تحقیق زود رنج ہو کر فسق و فجور اور گمراہی و تذبذب یہاں تک کہ ارتداد تک کا حکم لگانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ ان کے سجدوں کی طوالت سے حوریں ہی نہیں اور بھی بہت سے کانپتے تھے۔ جہاں ان کی مرادوں والی جھولی بھرتی اسے کلین چٹ دے دی جاتی۔

پپو کا گھر سب کا مرکز تھا جس کے گرد نادیدہ حصار کھینچا گیا تھا۔ پیشین گوئیاں تو بہت تھیں لیکن پپو کی خواہش کے برعکس دریا اپنا رستہ خود بناتا ہے۔ پانی بچانے کے لیے دریا کو سیدھا کرنا پپو کے بس میں نہیں تھا۔ سو سب پپو شہد میں ڈبکی لگا کر مکھیاں جمع کرنے میں مشغول ہیں۔ اس کے لیے لائٹنگ کا خاص اہتمام کرنا پڑتا ہے کہ کہیں شہد کی چمک سے ریچھ حملہ نہ کر دیں۔ الٹی سیدھی قلابازیوں پر مجمع بے سوچے سمجھے تالیاں پیٹتا ہے اور پیٹے جا رہا ہے۔ کوئی قتل کرے یا زخمی ہو جائے اس کی بلا سے۔ پکے گھر کا نشہ زہر بن کر پپو کی رگوں میں ناچ رہا ہے۔ بزبان خموشی وہ کہہ رہا ہے۔

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

Advertisements
julia rana solicitors

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply