ارتقاء اور مذہب۔ تنازع یا موافقت(2)-عبدالسلام

۳۔ کیا ارتقاء کا ماننا مذہب کے خلاف ایک سازش ہے؟
پچھلی قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ نظریہ ارتقاء کا ہونا ہمارے فطری مشاہدات کا منطقی نتیجہ ہے۔ اگر ہم نظریہ ارتقاء کو بس مذہب کے خلاف سازش کے طور پر ہی دیکھتے رہیں گے تو کبھی بھی نظریہ ارتقاء کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ ہمارے ذہن کا پورا زور بس اسی پر رہے گا کہ ہمارے خلاف کوئی شیطانی سازش ہو رہی ہے اور ہمیں جی جان لڑا کر اس کی مخالفت کرنا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے کی کوشش کرنا بھی ایمان کے خطرے کا باعث نظر آنے لگے گا۔ ایسے میں ایک شخص جتنا بھی ذہین ہو, وہ نظریہ ارتقاء کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنی عقل کو معطل کر دے گا۔ اس معطل شدہ عقل کے ساتھ دیے گئے اکثر دلائل سطحی ہوں گے۔ نتیجے میں سوشل میڈیا میں کم ذہانت والے لوگوں کا ایک جمگھٹا ہمارے گرد جمع ہو کر ہماری تعریفیں کرے گا اور ہم یہی سمجھتے رہیں گے کہ ہماری بہت پذیرائی ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ذہین طبقہ جو اس قسم کے سطحی دلائل پڑھے گا، وہ دھیرے دھیرے کھسک کر الحاد کی طرف جانے لگے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ نظریہ ارتقاء کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے ذہن سے یہ الحاد کی سازش والا آئیڈیا نکالنا ہوگا۔ یہاں پر ذہن اس طرف جائے گا کہ سائنسی حلقے میں سے کچھ معروف لوگ جیسے ریچرڈ ڈاکنز ہیں جنہوں نے نظریہ ارتقاء کو مذہب کی مخالفت اور الحاد کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی مشہور کتابیں ہیں “The Blind Watchmaker” اور “The God Delusion”۔ ایسا بالکل ہوا ہے اور ڈاکنز سچ مچ ایک سائنسدان ہوتے ہوئے الحاد کا پرجوش مبلغ ہے اور اس کا سب سے بڑا ہتھیار نظریہ ارتقاء ہی ہے۔ لیکن یہ اس بات کی دلیل قطعی نہیں ہے کہ نظریہ ارتقاء مذہب کے خلاف کوئی سازش ہے۔ بلکہ ڈاکنز کی ارتقائی سمجھ ہی اس کو مذہب کے خلاف دلائل دے رہی ہے اور مذہبی طبقوں خاص طور پر مسیحی طبقوں سے انہیں جن مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کا ایک نتیجہ بھی اسی پرجوش مخالفت کی شکل میں نکلا ہے۔ یہاں پر جلدی میں یہ فیصلہ نہ کریں کہ میں ڈاکنز کو صحیح قرار دے رہا ہوں۔ یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ کوئی “مذہب کے خلاف سازش” نہیں بلکہ متعلقہ طبقے کا ان کی اپنی دانست میں فطری عمل یا ردعمل ہے۔

۴۔ کیا واقعی ارتقاء ایک سائنسی نظریہ ہے؟
اس سلسلے میں اکثر یہ شبہ پیش کیا جاتا ہے کہ نظریہ ارتقاء سائنسی طور پرثابت ہی نہیں ہے۔ اگر آپ حیاتیات کے ماہرین کا تناسب دیکھیں تو مشکل سے ہی کوئی ایک ادھ نکلے گا جو نظریہ ارتقاء کو رد کر رہا ہو۔ کسی ایک ادھ سائنسدان کا کوئی جملہ اُٹھا کر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو فلاں نے ارتقائی نظریہ پر غیر یقینی اور حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ مثلا Michael Behe نامی سائنسدان نے نظریہ ارتقاء پرتنقید کی ہے اور اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام Darwin’s Black Box: The Biochemical Challenge to Evolution۔ اسی طرح ایک اور شخص Jonathan Wells ہیں جو نظریہ ارتقاء کورد تو نہیں کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں انٹلی جنٹ ڈیزائن کے حامی ہیں اور انہوں نے اس موضوع پر کچھ کتابیں بھی لکھیں ہیں۔ لیکن عمومی سائنسی حلقے میں انٹیلی جنٹ ڈیزائن کو سوڈو سائنس مانا جاتا ہے۔ اس طرح کچھ اور شخصیات کے علاوہ سائنس میں مروجہ نظریہ ارتقاء پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہاں ہر اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ نظریہ ارتقاء غیر سائنسی ہے تو یوں سمجھیں، ایک ادھ کوالیفائڈ شخصیات کے علاوہ باقی تمام سائندانوں کو غلط قرار دینا پڑیگا۔
کچھ پُرجوش مسلمانوں کی طرف سے مکرر پر سائنسدانوں کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے کہ دیکھو ان سائنسدانوں نے نظریہ ارتقاء کو تسلیم نہیں کیا۔ اب ان سے کسی قسم کا مکالمہ کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود ان سائنسدانوں کی تحقیق اور اعتراضات بلکہ وجود سے بھی نابلد ہوتے ہیں۔ یہ بس اپنی دلی اطمینان کے لئے ایک کاپی پیسٹ ہوتی ہے۔
بہرحال ہوسکتا ہے کہ ہم اسی پر اڑے رہیں کہ نظریہ ارتقاء غیر سائنسی ہے، لیکن ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس طرح اڑے رہنے سے کیا ہم نظریہ ارتقاء کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں؟ اگلے والے کچھ مضامین میں ہم اس موضوع پر مزید بات کریں گے کہ کس طرح سائنسی حلقے میں ارتقاء کا تسلیم شدہ نظریہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی اقساط میں مندرجہ ذیل عنوانات کا احاطہ کیا جائے گا۔
۵۔ نظریہ ارتقاء حقیقت میں کیا ہے؟
۶۔ کیا ارتقاء سائنسی طور پر ثابت ہے؟ شکوک و شبہات کیا ہیں؟
۷۔ سائنسی طریقہ کار یا Scientific Method کی شرائط۔
۸۔ اتفاقات، رینڈمنس اور ترتیب۔
۹۔ بندر کی اولاد
۱۰۔ ارتقاء اور ناقابل تحلیل پیچیدگی (Irreducible Complexity)
۱۱۔ انٹیلی جنٹ ڈیزائن
۱۲۔ مائکرو ارتقاء اور میکرو ارتقاء
۱۳۔ ایک عام انسان کی تحقیق کی حدود کیا ہیں؟
۱۴۔ کیا سائنسدان بد نیت ہیں؟
۱۵۔ مذہب اور ارتقاء، قضیہ کیا ہے۔
۱۶۔ موافقت کا کوئی امکان؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply