جیت کا جذبہ جگانےوالے کا شکست خوردہ بیان کیوں؟

تم میں سے کوئی ایک سیکنڈ بھی ہارنے کا نہیں سوچے گا، ہم جیتے بغیر پاکستان واپس نہیں جائیں گے!پاکستان سپرلیگ کا فائنل پاکستان میں کروانا پاگل پن ہے۔
یہ دو ایسے جملے ہیں جو ایک ہی شخص نے کہے، پہلی دفعہ 1992 میں کہے گئے جملوں نے ہاری ہوئی ٹیم کے اندر وہ جذبہ پیدا کردیا جس نے میدان کرکٹ کےتمام بڑے بڑے سورماؤں کو چاروں شانے چت اور پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا، جس کے بعد یہ شخصیت یعنی عمران خان پوری قوم کے ہیرو بن گئے، لیکن آج 2017 میں جب پاکستان کا بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ جاری ہے عین اس وقت پاکستان دشمنوں نے ملک پر ایک بار پھر حملہ کردیا۔
خیبرپختونخواہ سے سندھ تک مظلوم عوام کو خون میں نہلادیا ،پھر سےمسکرانےوالی قوم کو ڈھیروں آنسوؤں سے رلایا، بہادر قوم کو ڈرانے کی کوشش کی، ایک سازش دشمنوں نے کی اور ایک ملک کے اندر موجود غداروں نے کی ۔پاکستان سپرلیگ فائنل کے پاکستان میں ہونے پر سوالات اٹھا دئیے، مگر قربانیاں دینا جاننے والی قوم بزدلانہ حملوں سے کب ڈرنے والی تھی، قوم اس بات پر قائم رہی کہ سپرلیگ کا فائنل پاکستان میں ہی کروایا جائے۔
بالآخر حکمرانوں نے پی ایس ایل کافائنل پاکستان کےدل لاھور میں کروانے کا حتمی فیصلہ کیا غموں کے پہاڑ سہنےوالی قوم خوشی سے نہال ہوگئی۔ لیکن یہ کیا ؟وہ شخص جو 1992 میں ہاری ہوئی ٹیم کی جیت کا باعث بنا تھا آج دہشتگردوں کیخلاف کھڑی ہونی والی قوم کو کیوں کمزور کررہا ہے، جیت کا جذبہ جگانے والا عمران خان آج ایسے ہارے ہوئے بیانات کیوں دے رہا ہے کہ “فائنل پاکستان میں کروانا پاگل پن ہے”۔یہ بات سمجھ میں آنے سے قاصر ہے، خود عمران خان کے کارکن کہتے ہیں کہ ہم فائنل دیکھنے لاہور جائیں گے مگر خان صاحب کہتے ہیں کہ یہ وقت بھی اپوزیشن کرنے کا ہے۔
خان صاحب خدارا اپوزیشن کریں ،ضرور کریں۔ آپ کی اپوزیشن قابل تعریف مگر جب قوم دہشتگردی کیخلاف متحد ہےتو اپوزیشن کو سائیڈ پر رکھ کر دشمن کو پیغام دینا چائیے کہ ملکی مفادات کی خاطر ہم سب ایک ہیں، لہٰذا خان صاحب بیانات سوچ سمجھ کردیا کیجئے، یاد رکھئیے آپ کے بہت سے چاہنے والے ہیں وہ بھی آپ کےایسے مضحکہ خیز بیانات کا دفاع نہیں کرسکتے،لہٰذا ملکی مفاد کے فیصلوں میں اپوزیشن کو بیچ میں مت لایا کیجئے اسی میں ملک اور قوم کی بہتری ہے۔

Avatar
محمداظہرعالم
طالب علم ہیں اور میدان صحافت میں داخل ہوکر اب حقیقی تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *