ارتقاء اور مذہب۔ تنازع یا موافقت(1)-عبدالسلام

 ۱۔ تحریر کا مقصد کیا ہے
پہلے یہ واضح ہو کہ تحریر کا مقصد ارتقاء کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں ہے۔ اس تحریر کا یہ مقصد بھی نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ارتقاء اور مذہب میں موافقت پائی جاتی ہے اور نہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ان میں تنازع پایا جاتا ہے۔ میں نے یہ کوشش کی ہے کہ ارتقاء سے متعلق عوامی سطح پر جو سمجھ پائی جاتی ہے اس کو بہتر کیا جائے اور ارتقاء اور مذہب سے متعلق تنازعات اور ممنکہ موافقت سے متعلق حقائق اور توجیہات سب کے سامنے رکھی جائے۔
تحریر سے متعلق توقعات کو واضح کرنے کے لئے پہلے ہی بتا دینا چاہتا ہوں کہ شاید اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ کو اپنے کسی سوال کا جواب نہ ملے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ سوالات کو ویسا ہی واضح طور پر پیش کیا جائے اور شور و غل اور طعنوں میں سوال کی جو علمی نوعیت معدوم ہوئی ہے، اسے بحال کیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جو لوگ جواب ڈھونڈ رہے ہیں، ان پر یہ واضح ہو کہ چیلنجز کیا ہیں۔
چونکہ مقصد سوال اور جیلنجز کو واضح کرنا ہے تو مجھے اکثر نظریہ ارتقاء کے مدعیین کے مؤقف کو بغیر تحریف کے پیش کرنا پڑا۔ ہوسکتا ہے کہ میری تحریر دیکھ کچھ لوگ یہ سمجھیں کہ میں یہاں پرجوش طریقے سے نظریہ ارتقاء کی وکالت کر رہا ہوں۔
سنجیدہ سائنسی حلقے کی طرف سے ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ سائنس کو مذہبی بحث سے الگ رکھا جائے۔ لیکن نظریہ ارتقاء کے معاملے میں یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اگرچہ کسی سائنسی نظریے سے ہم تصور کائنات، عقائد اور اخلاقی اقدار اخذ نہیں کرتے، لیکن نظریہ ارتقاء میں بذات خود یہ صلاحیت یا امکانات (potential) موجود ہے جو کہ ہمارے تمام بنیادی تصورات جیسے اخلاقیات، شعور، جذبات، تعصبات کی مادی تشریح کر سکے۔ اس لئے اس معاملے میں مذہب اور سائنس کو علیحدہ رکھنے کی کوشش روز اول سے ہی ناکام رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشیل میڈیا میں اس پر اکثر بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔ اسی کے پیش نظر یہ خیال آیا کہ جو بھی تنازع یا ممکنہ موافقت ہے اس کو علمی طریقے سے واضح سے واضح کیا جائے اور پڑھنے والوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
میں نے پوری کوشش کی تھی کہ تحریر کو مختصر سے مختصر رکھا جائے۔ لیکن علمی نوعیت کے پیش نظر یہ تحریر توقع سے زیادہ طویل ہوگئی۔ اگر کوئی جلد بازی میں سوال کی نوعیت کو سمجھے بغیر ہاں یا ناں میں نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہے تو وہ جان لے کہ یہ تحریر ان کی توقع پر پوری نہیں کرے گی۔ مسئلے کی نوعیت کو واضح کرنے کے لئے اس میں ضروری تفصیل موجود ہے۔ تحریر کی طوالت کے پیش نظر اس کو قسطوں میں پیش کرنے کا ارادہ ہے اور اس قسط کے نیچے باقی قسطوں میں موجود تحریر کے ذیلی عنوانات دیے گیے ہیں۔ ۔ اس لیے اگر کوئی پہلی قسط پڑھ کر ہی اس کے کسی حصے پر تنقید کرنا چاہے تو نیچے دیے گئے عنوانات پر ایک نظر ڈال لے کہ کہیں ان کے اعتراض کا جواب اگلی والی قسطوں میں آنے والا تو نہیں۔
تحریر پر تنقید کی ہر ایک کو آزادی ہے۔ اگر کوئی مہذب انداز میں علمی تنقید کرے یا کوئی واقعاتی غلطی کی نشاندہی کرے تو میں اس کو ایڈریس کرنے کی کوشش کروں گا۔
۲۔ نظریہ ارتقاء ہے کیوں؟
اس سے پہلے کہ ارتقاء کے ثبوت کا تجزیہ کیا جائے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ انسان کے ذہن میں ارتقاء کا خیال کیوں آیا، یا نظریہ ارتقاء ہے کیوں۔ یعنی بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فطرتاً نظریہ ارتقاء کی طرف انسان کا ذہن جاتا ہے یا اس کے پیچھے کوئی سازش ہے؟ نیچے دی گئی تحریر میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ہزاروں سال سے انسانوں کو یہ بات حیران کرتی آ رہی تھی کہ جانداروں میں ظاہری مماثلت کیوں ہے۔ مثلاً، کئی جاندار ظاہری شکل میں انسانوں سے ملتے جلتے ہیں جیسے مختلف اقسام کے بندر، چیمپینزی، گوریلا وغیرہ۔ بات صرف ظاہری شکل ہی نہیں بلکہ کچھ رویے جیسے جمائی لینا، انگڑائی لینا، شرارت کرنا جیسی حرکتیں بھی دوسرے جاندار کرتے ہیں۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان اور انسانوں جیسے دکھنے والے تمام جاندار دودھ دینے والے ہیں۔ پھر دودھ دینے والے جانداروں میں دوسری اقسام جیسے مویشی، شیر، بلیاں وغیرہ ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دودھ دینے والے تمام جاندار چار بازوؤں (یہاں بازو سے مراد انگریزی لفظ limb ہے جس میں ہاتھ اور پاؤں شامل ہیں) والے ہیں، اگرچہ چار بازوؤں والے جانداروں میں دودھ نہ دینے والے جاندار بھی شامل ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ چار بازوؤں والے تمام جانداروں میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ لیکن ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں میں اکثر مچھلیاں شامل ہیں جن کے چار بازو نہیں ہوتے۔ یہاں پر سمجھانے کے لیے ہم نے یہ ترتیب انسانوں حوالے سے بیان کی ہے، لیکن دوسرے جانداروں سے شروع کر کے بھی اسی ترتیب میں آگے بڑھ کر تدریجی مماثلت کا شجرہ بنایا جا سکتا ہے۔ بعد میں اس ترتیب کا ایک پورا علم بنا جسے ٹیکسانومی (Taxonomy) کہا جاتا ہے۔ لیکن اس منظم سٹڈی سے پہلے سے ہی انسانوں کے مشاہدے میں یہ ترتیب موجود تھی۔
اسی وجہ سے ہمیں زمانہ قدیم سے سائنسی نہ سہی فلسفیانہ انداز میں نظریہ ارتقاء ملتا ہے جیسے Anaximander، پیر لوئی، ناصر الدین طوسی، جلال الدین رومی اور اخوان الصفاء کے رسالہ جات وغیرہ۔ اس سلسلے میں ایک اہم تر سوال یہ تھا کہ اگر جانداروں میں اس قسم کا ترتیبی شجرہ پایا جاتا ہے تو کیا یہ ترتیب بالکل ایک دوسرے سے آزادانہ حیثیت سے بنی یا ان تمام جانداروں کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ انسانی ذہن اس سے ایک فطری نتیجہ نکالے گا کہ ان کی تخلیق ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہوگی۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی اس سے اتفاق کرے، لیکن انسانی ذہن میں اس خیال کا آنا ایک فطری بات ہے۔
خیر یہ تو بالکل ابتدائی بات ہے۔ بعد میں فاسلز کی دریافتیں ہوئیں اور پھر کاربن ڈیٹنگ اور دوسرے کیمیائی تناسب سے فاسلز کی قدامت طئے کرنے کی تکنکیں دریافت ہوئی۔ اس سے یہ ترتیب بھی واضح ہوئی کہ جانداروں کی جسمانی ترتیب میں جو فرق ہے اس میں ایک زمانی ترتیب بھی موجود ہے۔ ساتھ ہی حیاتیات میں ترقی ہوئی تو جانداروں کے سیل اور ان میں پائے جانے والے ڈی این اے کی ترتیب بھی پتہ چلی۔ ڈی این اے کی دریافت سے یہ بھی پتہ چلا کہ بات صرف ظاہری شکل کی نہیں بلکہ ذراتی سطح پر بھی اسی قسم مماثلت موجود ہے۔ یعنی تمام کے تمام جاندار یہاں تک کہ وائرس بھی اسی قسم کے ڈی این اے بیسڈ حیاتیات رکھتے ہیں۔
ایسے میں ایک منطقی ذہن میں ہہ خیال آنا لازمی ہے کہ زندگی کی تمام اقسام کا ایک مشترکہ آغاز ہے اور ان میں پائے جانے والے تنوعات ارتقائی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔
اگلی اقساط میں عنوانات کا احاطہ کیا جائے گا۔
۳۔ کیا ارتقاء کا ماننا مذہب کے خلاف ایک سازش ہے؟
۴۔ کیا واقعی ارتقاء ایک سائنسی نظریہ ہے؟
۵۔ نظریہ ارتقاء حقیقت میں کیا ہے؟
۶۔ کیا ارتقاء سائنسی طور پر ثابت ہے؟ شکوک و شبہات کیا ہیں؟
۷۔ سائنسی طریقہ کار یا Scientific Method کی شرائط۔
۸۔ اتفاقات، رینڈمنس اور ترتیب۔
۹۔ بندر کی اولاد
۱۰۔ ارتقاء اور ناقابل تحلیل پیچیدگی (Irreducible Complexity)
۱۱۔ انٹیلی جنٹ ڈیزائن
۱۲۔ مائکرو ارتقاء اور میکرو ارتقاء
۱۳۔ ایک عام انسان کی تحقیق کی حدود کیا ہیں؟
۱۴۔ کیا سائنسدان بد نیت ہیں؟
۱۵۔ مذہب اور ارتقاء، قضیہ کیا ہے۔
۱۶۔ موافقت کا کوئی امکان؟
۱۷۔ تخلیق آدم و حوا، معجزانہ تخلیق (Special creation)
۱۸۔ آخری بات

Advertisements
julia rana solicitors

جاری        ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply