سگ ہیں آزاد اور پتھر بندھے ہوئے/حیدر جاوید سیّد

کوئی بھی نئی چیز جب آتی ہے تو ہمیشہ سے یہ ہوتا ہے کہ اس سے استفادہ کرنے والوں میں مثبت اور منفی سوچ کے حامل دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔

“یاد رہے کہ ہم نئی ایجادات پر فتوئوں کی چاند ماری اور پھر ان ایجادات کے ذریعے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادینے والے دوغلوں کے بارے میں بات نہیں کررہے”۔

میں لگ بھگ بارہ برسوں سے سوشل میڈیا پر ا خبارات میں شائع ہونے والی اپنی تحریروں کو شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر اپنی رائے بھی عرض کرتا رہتا ہوں۔ اس دوران بسا اوقات بعض صاحبانِ علم اور کتاب دوستوں کی وجہ سے مکالمے کی سہولت ملتی ہے۔ یوں سوچنے سمجھنے کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کے نئے در کا وا ہونا ایک طالب علم کے لئے صحت مند غذا ہی ہے۔

پچھلے بارہ برسوں کے دوران بعض میڈیا مالکان (ان میں حکومتیں بنوانے اور گرانے کا زعم رکھنے والے جنگ جیو گروپ کے مالک بھی شامل ہیں) نے جب سوشل میڈیا پر “وار” کئے تو ہماری رائے یہی رہی کہ یہ میڈیا مالکان اپنی طاقت میں کمی کے باعث بوکھلا سے گئے ہیں لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طبقہ سوشل میڈیا کو تعلقات کا دائرہ وسیع کرنے، معلومات کے حصول، ترویج علم اور مکالمے کے ساتھ اپنی فکرکے اظہار کا ذریعے بناتا ہے وہیں ایک بڑا طبقہ صرف گند گھولنے کے لئے سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس پر دندناتا پھرتا ہے۔

گندی ذہنیت کے اس طرح کے ایک نیچ شخص سے پہلی بار پالا اس وقت جب ایک معروف مسلکی جماعت کی جنونی محبت کے اسیر نے “اپنے مولانا” پر تنقید کے جواب میں بہن بھائی کے مقدس رشتے کو سوشل میڈیا پر ایک نیا رنگ دے کر پیش کیا دوستوں کی مدد سے نہ صرف اس کا اکائونٹ رپورٹ ہوا بلکہ ایک مہربان دوست کے توسط سے اس غلیظ شخص کے بزرگوں سے رابطہ کرکے ساری تفصیل ان کے سامنے رکھی۔

بزرگوں کا جواب اور عمل نہ صرف حوصلہ افزا تھا بلکہ انہوں نے جو کیا وہ شاید میں بھی نہ کرپاتا اگر ان کی جگہ ہوتا۔

یہ سطور لکھتے ہوئے وہ وقت یاد آیا جب اکتوبر 1999ء میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو ابتداً ایک محدود طبقے کے مولوی صاحبان نے اس کی مخالفت کی زیادہ تر ان کے حامی ہوئے پھر پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ وہی مولوی صاحبان جو جنرل پرویز مشرف کے حامی تھے انہوں نے راتوں رات قلابازی کھائی اور اگلے جمعہ کو عالم وجد میں پرویز مشرف کو قادیانی ثابت کرنے پر تل گئے۔ ان کے خطبات جمعہ سے ایسا ہی ماحول بن گیا جیسا ماحول مسلم لیگ کے حامی اہلحدیث جماعت کے امیر پروفیسر سینیٹر ساجد میر کی جانب سے ایک اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قادیانی قرار دیئے جانے سے بنا تھا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ نے آرمی ہائوس راولپنڈی میں خواتین کی محفل میلادالنبیﷺ کا انعقاد کیا خود جنرل باجوہ بھاگم بھاگ عمرے کے لئے سعودی عرب جاپہنچے۔ مسجد نبویﷺ میں بنوائی گئی ویڈیو اور تصاویر کی نشرواشاعت کے لئے آئی ایس آئی نے خصوصی انتظامات کئے۔ اس کے باوجود باجوہ کی مسلمانی مشکوک ہی رہی۔

جنرل پرویز مشرف کو صبح و شام قادیانی ثابت کرنے والے مولوی صاحبان میں سے کچھ نے کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ریاض بسرا کے وہاڑی میں پولیس مقابلے میں مارے جانے کے بعد ان میں سے شیعہ دریافت کرلیا اور پھر ان مولویوں کے خطبوں سے لطفیے جنم لینے لگے۔

9/11کے بعد جب مشرف حکومت نے امریکہ اور اسلامی دنیا بالخصوص پاکستان کے تخلیق کردہ سابق مجاہدین جہاد افغانستان کو دہشت گرد قرار دے کر انسداد دہشت گردی کی جنگ میں فریق بننے کا فیصلہ کیا تو خیبر سے کراچی تک کالعدم تنظیموں کے حامی مولوی و خطیب حضرات نے جنرل پرویز مشرف کو شدومد کے ساتھ شیعہ ثابت کرنے کے لئے خوب مجمعے لگائے۔

بالآخر جنرل پرویز مشرف کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سالانہ سیرت النبیﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ وہ کاظمی سید ہیں اور صوفی سنی بریلوی مسلمان۔

یہ دو مثالیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں فتویٰ ہر شخص کے منہ سے بندھا ہوا ہے جس کا “جو” کرتا ہے دوسرے کو قرار دے دیتا ہے۔

چند برس قبل پاکستانی دستور میں عدم رواداری کو پروان چڑھانے والی شقوں پر ایک کالم لکھا تو درجنوں خالص مسلمانی کے مالکان نے مجھے قادیانی قرار دے دیا البتہ رافضی اسلام دشمن، غدار، متعہ کی پیدائش اور اس کا محافظ اور اس طرح کی ناپسندیدہ باتیں تو مجھے آئے دن سننا پڑتی ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اپنی تحریروں میں میں جن موضوعات پر لکھتا ہوں وہ تو سیاسی، تاریخ، تصوف یا ان امور پر ہوتی ہیں جن پر میرا مطالعہ ہے لیکن ایسے مضامین و آراء پر بدزبانی کرنے والے خود الف کو کِلی نہیں جانتے ایسے لوگوں کا سارا مذہبی و مسلکی علم خاندانی فرقہ وارانہ عقائد، مسجد کے مولوی کی تقاریر اور ایک دوسرے کے مسالک بارے بازاروں میں گشت کرتی عامیانہ باتوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

سیاسی علم بھی سنی سنائی باتوں، اخبار کی سرخیوں اور کھمبیوں کی طرح اُگ آئے چینلز کے ٹکرز سے کشید کیا ہوا ہوتا ہے۔ اچھا “وارے کی مسلمانی ” کے بخار میں مبتلا بعض لوگ تو صرف نام دیکھ اور پڑھ سن کر دوسرے کا عقیدہ طے کرکے الٹیاں کرنا شروع کردیتے ہیں۔

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ لوگ ان موضوعات پر بات کیوں نہیں کرتے جن پر میں لکھتا ہوں۔ پھر جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسروں کے عقیدے، ذات، نسب، سیاسی پسندوناپسند، سماجی حیثیت پر دہن سے نکلے گوبر کے گولے مارنے کی بیماری کا شکار اصل میں خود لذتی کے اسیر ہوتے ہیں۔ یقیناً اس خود لذتی میں گھریلو ماحول اور تربیت کا عمل دخل بھی ہوتا ہے۔

میرے بہت سارے مہربان دوست اکثر ایسی صورتحال میں مجھے کہتے ہیں، شاہ جی دفع کرو جواب دینا مناسب نہیں اور بھی چند باتیں کرتے ہیں۔ میری دانست میں جواب اس لئے بھی دیا جانا چاہیے کہ آپ کے چار اور کا ماحول خراب نہ ہو، آوارہ بولیوں کی طرح دندناتے پھرتے ان انتہا پسندوں کو جواب دینا ہی واجب ہے۔

درگزر کوئی علاج نہیں بلکہ تجربہ یہ ہے کہ درگزر کرنے سے اس طرح کے نیچ ذہن لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ نفسانفسی، شدت پسندی اور علم و مکالمے سے دوری نے اس سماج کی جو حالت بنادی ہے اس سے دوچار دس برس میں نجات ملنا ممکن نہیں۔ اس سماج کو ذلت کے گہرے گٹروں میں گرانے کے لئے ہر کس و ناکس نے اپنا حصہ ڈالا اور خوب ڈالا۔

باردیگر یہ عرض کردوں کہ اس ساری صورتحال کی بینیفشری سکیورٹی اسٹیٹ اور اس کی ساجھے دار قوتیں ہیں ان ساجھے دار قوتوں میں ملا۔ سرمایہ دار، سیاسی مہاجر فرقہ وارانہ تشدد کا کاروبار کرنے والے اور مسیتڑ ملا کے خطبے کو کُلِ مذہب سمجھنے وا لے سبھی شامل ہیں۔

میرا دکھ یہ ہے کہ میں جو لکھتا ہوں اس پر بات کرنے کی بجائے بوزنوں کا ایک مخصوص ٹولہ اپنی خباثت کے مظاہروں پر اتر آتا ہے۔ کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھا جائے کہ ابھی چند برس قبل اس ملک سے نکاح برائے جہاد کے لئے شام جانے والی خواتین کو اس راہ پر لگانے والے مردوخواتین، مذہبی، سکالروں اور ترغیب کو ایمان سمجھ کر عمل کرنے والوں کے خلاف آپ نے آواز بلند کیوں نہیں کی؟

پھر سوچتا ہوں سوال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میرے دوست کہتے ہیں شاہ جی آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا۔

یہ بات درست ہے یارو! لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ

Advertisements
julia rana solicitors london

سگ آزاد ہیں اور پتھروں کو باندھ کر رکھ دیا گیا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply