امرتسر کا گاؤں دھاریوال اور نانی اماں/محمد نعیم گھمن

یہ جس جگہ میں کھڑا ہوں یہ لاہور کا بارڈر ہے اور گاؤں ٹھٹہ ڈھلوں کی زمین ہے ۔میرے سامنے امرتسر کا گاؤں دھاریوال ہے ۔اس گاؤں میں سفید رنگ کا گوردوارہ یہ بات عیاں کر رہا ہے کہ یہ گاؤں سکھوں کا ہے ۔میرے اور اس گاؤں کے درمیان دو چار ایکٹر کا فاصلہ ہو گا ۔مجھے جب معظم باجوہ نے بتایا کہ یہ ہمارا رقبہ اور ساتھ ہی امرتسر کے گاؤں دھاریوال کا رقبہ   شروع ہو جاتا ہے ۔دھاریوال کا لفظ سننا تھا کہ میں ماضی میں کھو گیا ۔مجھے اپنی نانی اماں یاد آئیں جو دھاریوال تھیں ۔چک نمبر 113ٹن آر جہانیاں میں دھاریوال کثیر تعداد میں رہتے ہیں ۔میری نانی اماں کا گاؤں یہی تھا ۔

مجھے بچپن میں ہی دھاریوال بزرگوں کی کشش نے اپنی جانب متوجہ رکھا ۔نانی اماں کا نام فضل بی بی تھا ۔میری نانی اماں کے بھائی اکثر شام کو سائیکل پر سوار ہوتے اور دس چک اپنی بہن سے ملنے پہنچ جاتے ۔تازہ پھل ہوں یا سبزی ۔عید ہو یا شب برات نانی اماں کو کہتے فضل بی بی یہ تمہارا حصہ ہے ۔یہ اتنے دلچسپ کردار تھے کہ نانی اماں کے ساتھ مل کر حقہ پیتے اور سگریٹ نوشی بھی کرتے ۔ہم بڑے شوق سے چلم تازہ دم کر کے ان کو پیش کرتے ۔دنیا میں میری نانی اماں کے بھائیوں جیسا کم ہی کوئی ہوگا ۔

ایک دفعہ آم نہ بھجوائے تو اگلے سال آموں کے درختوں پر بھور ہی نہ لگا ۔فوراً نانی اماں کے پاس پہنچے اور کہنے لگے فضل بی بی غلطی ہو گی ہے ہم آئندہ سے تمہارا حصّہ بروقت بھیجیں  گے ۔ دھاریوال بزرگوں کی وضع قطع مخصوص ہوتی تھی ۔دراز قد ،سر پہ پگڑی ،ہاتھ میں چھڑی ،سفید اور اجلا لباس ،لبوں پہ مسکراہٹ ہوتی تھی ۔ایک دفعہ نانی اماں ہمارے گاؤں 202 مراد تشریف لائیں ۔بس میں سوار ہوئیں تو دو بزرگ بیٹھے تھے ۔نانی اماں نے میری اماں جی کو کہا زبیدہ خاتون  ” لگدا اے بابے دھاریوال نے “اماں جان نے ان سے پوچھ لیا تو واقعی ہی قریبی گاؤں سیون مراد کے دھاریوال تھے ۔نانی اماں اپنے بھائیوں پر جان فدا کرتی تھیں ۔دھاریوال بزرگ میرے ماموں جان چوہدری علم دین واہلہ سے محبت کرتے تھے ۔میرے سب سے بڑے ماموں جان چوہدری علم دین واہلہ اپنے ماموں کے لاڈلے تھے ۔

ننھیال والے میری اماں سے بھی بہت محبت فرماتے۔ جب بھی اماں تیرہ چک جاتیں تو خوب خدمت کرتے ۔میرے ساتھ چوہدری حبیب اللہ دھاریوال کا منفرد تعلق تھا ۔مجھ پہ بڑی کرم نوازی فرماتے ۔ماموں جان چوہدری حبیب اللہ دھاریوال ہمیشہ کہتے گھمن بادشاہ ساڈا چنگا پتر اے ۔آج جب میں امرتسر کے گاؤں دھاریول کے سامنے کھڑا ہوں تو مجھے میری اماں جان کے ننھیال دھاریوال بڑے یاد آئے ۔انہوں نے بھی امرتسر سے ہجرت کی تھی ۔کاش میری اماں میرے ساتھ ہوتیں تو بے ساختہ لوہے کے جنگلے کے پار چلی جاتیں اور سکھ دھاریوال بزرگوں کو بتاتیں کہ آپ میرا ننھیال ہو ۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمارے دیہاتوں میں بیٹیوں کی قدر جاٹ جس طرح کرتے ہیں کوئی کم ہی کرتا ہو گا ۔ ۔مجھے یوں لگا شاید یہ دھاریوال گاؤں میری نانی اماں کا ہے ۔میرے چھوٹے ماموں چوہدری کالا واہلہ نے اپنے بیٹے کا نام اپنی والدہ کی محبت میں فضل احمد رکھا ۔میرے ماموں چوہدری منظور حسین واہلہ کا اپنے کزن چوہدری فرزند علی دھاریوال سے تعلق مثالی ہے ۔ان گنت واقعات ہیں جو میرے ذہن میں اودھم مچا رہے ہیں مگر کچھ اشک بھی رخساروں کو چھو رہے ہیں جو ان بے مثال بزرگوں کو یاد کر رہے ہیں ۔مجھے دھاریوال گاؤں امرتسر سے آنی والی ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے مدتوں یاد رہیں گے کیوں کہ یہ میری اماں کا ننھیال ہے اور میری نانی اماں کا گھر ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply