سٹرنگز اور ریاضی ۔ کمرون وفا/مترجم-محمد علی شہباز

 کمرون وفا نے ایم آئی ٹی سے ریاضی اور طبیعیات میں بی ایس حاصل کیا اور پرنسٹن یونیورسٹی سے نظریاتی طبیعیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہیں نظریاتی طبیعیات پر اپنے کام کے لیے بے شمار انعامات ملے ہیں، جن میں بنیادی طبیعیات میں 2017 کا بریک تھرو پرائز، 2008 کا آئی سی ٹی پی کا ڈیراک میڈل اور امریکن میتھمیٹیکل سوسائٹی کے ساتھ ساتھ امریکن فزکس سوسائٹی کی جانب سے ریاضیاتی طبیعیات پر ان کے کام کے لیے انعامات بھی شامل ہیں۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ساتھ ساتھ امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے رکن بھی ہیں۔ان کا یہ انٹرویو 19 جون 2024 کو آئی سی ٹی پی، اٹلی کی ویب سائٹ پر شائع ہوا جسے جیولیا فوفانو نے پیش کیا۔ اس کا اردو ترجمہ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ (مترجم)

 مضمون کا لنک:
https://www.ictp.it/news/2024/6/strings-and-mathematics

کمرون وفا سٹرنگ تھیوری کے دنیا کے ممتاز ماہرین میں سے ایک ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں ریاضی اور قدرتی فلسفہ کے ہالس پروفیسر اور ICTP کے ممتاز اسٹاف ایسوسی ایٹ کمرون وفا مشہور سالانہ کانفرنس سٹرنگ میتھ 2024 کے مقررین میں شامل تھے۔ اس کانفرنس میں ریاضی دانوں اور طبیعیات دانوں کو یکساں اکٹھا کیا جاتا ہے تاکہ سٹرنگ تھیوری کے ناحل کردہ مسائل کے ساتھ ساتھ ریاضیاتی برادری کے لیے انتہائی دلچسپی کے پہلوؤں پر نظر ڈالی جاسکے۔ ICTP کو اس سال اس کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا جو 10 سے 14 جون 2024 تک منعقد ہوئی۔ اس میں دنیا بھر سے 200 سے زائد لوگوں نے شرکت کی اور اس میں اس شعبے کے کچھ سرکردہ ماہرین بھی شامل تھے۔

وفا نے سٹرنگ تھیوری اور اسکی چند قابل تجربہ پیشین گوئیاں مرتب کرنے کے لیے ان کی تازہ ترین کوششوں، 2024 سٹرنگ میتھ کانفرنس اور ICTP کے ساتھ اپنے تجربات کے بارے میں چند سوالات کے جوابات دینے کے لئے رضامندی ظاہر کی۔

سٹرنگ تھیوری شدید آرزوؤں بھرا ایک فریم ورک ہے جو کوانٹم میکانیات اور عمومی نظریہ اضافیت کو یکجا کرتے ہوئے ہماری کائنات کے تمام بنیادی اجزاء کی کامل تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فریم ورک میں بنیادی ذرات کو،  یک جہتی اشیاء جنہیں سٹرنگز کہتے ہیں یا دو جہتی اشیاء جنہیں برینز کہتے ہیں، کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے مضمرات ہیں جن میں مکاں کی تین جہتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔

سوال: آپ کو سٹرنگ تھیوری کی طرف کس چیز نے راغب کیا؟

وفا: میں یہ جاننے کی کوشش کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا کہ کائنات کے بنیادی اصول کیسے کام کرتے ہیں، اس لیے میں نے پارٹیکل فزکس کا مطالعہ شروع کیا اور آہستہ آہستہ جب سٹرنگ تھیوری، کوانٹم میکانیات کو کشش ثقل کی قوت کے ساتھ ملانے کی امیدوار بن گئی تو اس نے قدرتی طور پر میری دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ 1984 سے یعنی دراصل جب میں گریجویٹ طالب علم تھا تب سے اس پر کام کر رہا ہوں۔

سوال: سٹرنگ تھیوری میں ایک مرکزی تصور اور جس میں آپ نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ ہے دوہرایت Duality۔ یہ تصور کیا ہے اور اتنا اہم کیوں ہے؟

وفا: دوہرایت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مادی نظام کو ایک سے زیادہ طریقوں سے بیان کیا جا سکتا ہے اور یہ مختلف وضاحتیں ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سٹرنگ تھیوری پر عبور حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسکے کسی مخصوص دائرہ کار میں رہ کر کام کیا جائے جس کے خصائص مختلف پیرامیٹرز کی انتہائی قدرویں طے کرتی ہیں۔ ان انتہائی قدروں میں سے ہر ایک قدر آپ کو اس طبعی نظام کی بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے حالانکہ مختلف وضاحتوں میں بنیادی نظریہ ایک ہی ہوتاہے۔ ہم ان وضاحتوں کو ایک دوسرے سے دوہری کہتے ہیں۔ یہ دوہری وضاحتیں مختلف پیرامیٹرز کی قدروں کی مدد سے ایک ہی چیز کو بیان کرتی ہیں۔

دوہرایت کی طاقت یہ ہے کہ یہ آپ کو ایک ہی مسئلے پر بہت سے نکتہ ہائے نظر فراہم کرتا ہے اور اس بات پر منحصر کہ آپ کس مادی مظہر کا سوال پوچھ رہے ہیں، ان میں سے ایک یا دوسرا نکتہ نظر آپ کو کم و بیش موثر طریقے سے جواب دے سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ مختلف نقطہ ہائے نظر استعمال کر کے کچھ گہرے سوالات سے بھی نمٹ سکتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک آپ کو کچھ ایسا بتائے گا جو دوسرے نہیں بتا پائیں گے۔

سوال: اس کانفرنس میں آپ کی گفتگو کا عنوان تھا “Cardy Formula and the Black Hole Entropy“۔ بلیک ہولز اور خاص طور پر ان کی اینٹروپی سٹرنگ تھیوری کے ایک ماہر کے لیے اتنی دلچسپ کیوں ہیں؟

وفا: بلیک ہولز شاید کوانٹم گریوٹی میں سب سے زیادہ پراسرار اور دلچسپ چیزیں ہیں۔ اس کے باوجود کہ ہم نے ان کا کئی دہائیوں سے مطالعہ کیا ہے وہ اب بھی پراسرار ہیں۔ ہم بلیک ہول کے باہر کے بارے بہت کچھ جانتے ہیں، ہم نے ان کا مشاہدہ بھی کیا ہے اور ان کی تصویر کشی بھی کی ہے، لیکن ہمیں ابھی تک اس بات کی گہری سمجھ نہیں ہے کہ بلیک ہول کے اندر کیا ہوتا ہے۔

1970 کی دہائی میں بیکن اسٹائن اور ہاکنگ نے بلیک ہولز کی کچھ تھرموڈینامک خصوصیات کی پیش گوئی کی تھی جس میں بلیک ہولز کی اینٹروپی بھی شامل ہےجس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ بلیک ہولز کی اندرونی ساخت بھی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سٹرنگ تھیوری کے آئیڈیاز کو استعمال کرتے ہوئے ہم ان کے نتائج کو بازیافت کرنے اور بلیک ہولز کی (جنرل ریلیٹیویٹی کے ذریعہ فراہم کردہ وضاحت کے مقابلے میں)  مزید تفصیلی وضاحت فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کا پہلا ثبوت تھا کہ سٹرنگ تھیوری، کوانٹم گریوٹی کا ایک مکمل نظریہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلیک ہولز سٹرنگ تھیوری میں ایک مرکزی چیز اور کوانٹم گریویٹی کے بارے میں ہماری سمجھ کا لٹمس ٹیسٹ بن گئے ہیں۔

 سوال: آپ اس وقت کس چیز پر کام کر رہے ہیں؟

وفا: حال ہی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ میں اس بات کا خلاصہ کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز کر رہا ہوں کہ سٹرنگ تھیوری کے ساتھ مطابقت رکھنے والی کائنات کی قابل مشاہدہ خصوصیات کیا ہوں گی۔

حیرت انگیز طور پر، ہم کچھ عمومی اصولوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ جن سے پتا چل سکے کہ گریوٹی کا کوانٹم نظریہ، مختلف ممکنہ انتخابات کے جبر سے کیسے آزاد ہوگا۔ ہم نے معلوم کیا ہے کہ ان عمومی اصولوں کو ان مشاہدات کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں، جیسے کائناتی مستقل یا تاریک توانائی کی قدر، اور یوں نئی پیشین گوئیاں کی جا سکتی ہیں جن کا حقیقت میں تجربہ کیا جا سکتا ہے۔

سوال: سٹرنگ تھیوری سے ہونے والی چند پیشین گوئیاں کیا ہیں جن کا مشاہدات سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟

وفا: ایک سادہ معیاری پیشین گوئی، جس کی دراصل پہلے ہی تصدیق ہو چکی ہے، وہ کشش ثقل کی قوت کا کمزور ہونا ہے۔ ہم نے معلوم کیا ہے کہ سٹرنگ تھیوری سے ہم آہنگ کسی بھی کائنات میں کشش ثقل کمزور ترین قوت ہوگی۔ اور یقیناً یہ مشاہدات سے متفق ہے کیونکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری کائنات میں کشش ثقل سب سے کمزور قوت ہے۔

اسی طرح کے خیالات کا استعمال کرتے ہوئے، ہم بہت آگے جا سکتے ہیں۔ انہی خیالات کو تاریک توانائی dark energy پر لاگو کرنے سے ہم نے سیکھا ہے کہ اس کیلئے دوہرایت اور انتہائی پیرامیٹرز کے درمیان وہی تعلق ہے جس کے بارے میں میں پہلے بات کر رہا تھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے وضاحت کی کہ جب آپ اپنے نظریہ کے پیرامیٹرز کو ان کی انتہائی اقدار تک لے جاتے ہیں، تو آپ کو اس نظریہ کا کوئی ایک نکتہ نظر ملتا ہے۔ تاہم، تاریک توانائی کا تناظر ہلکی کمیت کے ذرات کی پیش گوئی کرتا ہے جن کی حرکت مکان کے (تین کے بجائے) کچھ اضافی ابعاد extra dimensions میں ہوتی ہے۔

ڈارک انرجی جو کہ فزکس کی بنیادی اکائیوں کی شکل میں 10 کی طاقت منفی 122 جتنی چھوٹی ہے، انتہائی مقدار کی ایک بہت اچھی مثال ہے۔ یوں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم نے تاریک توانائی سے منسلک  ہلکے ذرات ابھی تک کیوں نہیں دیکھے۔ میرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ تاریک توانائی کے ایسے ہلکے ذرات تاریک مادے dark matter میں پائے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، تاریک توانائی کا انتہائی چھوٹا ہونا ہی تاریک مادے کے وجود کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح سٹرنگ تھیوری تاریک مادے اور تاریک توانائی کی ایک متحد تصویر فراہم کرتی ہے۔

 اور پیش گوئیاں بھی ہیں۔ تاریک توانائی کی مشاہدہ شدہ قدر اس پیشین گوئی کی طرف لے جاتی ہے کہ اضافی جہتوں میں سے کم از کم ایک جہت مائکرون (یعنی ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے) جتنی بڑی ہونی چاہیے۔ یہ ایک چھوٹا پیمانہ ہے لیکن اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے۔ ایک مائکرون، ایک ایٹم سے بہت بڑا ہوتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ سہہ جہتی مکان میں دو کمیتوں کے درمیان کشش ثقل کی قوت انکے درمیانی فاصلے کے مربع کے معکوس متناسب ہوتی ہے۔ کوئی بھی یہ معلوم کر سکتا ہے کہ اگر آپ ان تین جہتوں میں ایک اضافی جہت کا اضافہ کرتے ہیں تو کشش ثقل کی قوت فاصلے کے مکعب کے معکوس متناسب ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی مشاہد اضافی جہت کے سائز سے زیادہ فاصلے پر دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اثرات نظر نہیں آتے لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ اس جہت سے کم فاصلے پر نظر آئیں گے۔ خاص طور پر جب کشش ثقل کی قوت کو فاصلہ کم کرتے ہوئے ماپتے جائیں تو ہم توقع کرتے ہیں کہ طاقت کے قانون میں ایک مائیکرون کی دوری پر فاصلے کی طاقت مربع سے مکعب بنتی جاتی ہے۔ اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ ایک مائکرون سے چھوٹے فاصلے پر کشش ثقل کی قوت تیزی سے بڑھنا شروع ہوجائے گی۔

اب تک بس یہ پیمائش کرنا ممکن ہوسکا ہے کہ کشش ثقل کا معکوس مربع کا قانون تقریباً 30 مائیکرون تک کارگر رہتا ہے۔ ویانا میں ہونے والے تجربات میں جانچ کی جارہی ہے کہ تقریباً دس مائکرون کے فاصلے پر کیا ہوتا ہے۔ جوں جوں ہم مزید چھوٹے پیمانوں کی جانچ کرنے کے قابل ہورہے ہیں ہم ممکنہ طور پر ایک مائکرون کے پیمانے پر بھی کچھ بہت دلچسپ ہوتا ہوا دیکھ سکیں گے اور یہ بہت ہی پرجوش  بات ہوگی۔

سوال: 2011 میں پہلی سٹرنگ میتھ کانفرنس کے انعقاد کو تیرہ سال گزر چکے ہیں اور آپ نے کئی مرتبہ اس میں شرکت کی ہے۔ آپ کے مطابق طبیعیات دانوں اور ریاضی دانوں کے درمیان قریبی تعاون سے اس شعبے کو کیا ملا ہے؟

وفا: اس کانفرنس میں ریاضی اور طبیعیات دونوں کا ایک بہت ہی نتیجہ خیز تعلق رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ متعدد سمتوں میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ریاضی دان اور طبیعیات دان دو واضح الگ الگ گروہ ہیں۔ ہم جن موضوعات پر بات کرتے ہیں ان میں سے کچھ بہت ریاضیاتی نوعیت کے ہیں، کچھ  کا زیادہ تعلق طبیعات سے ہے اور واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہر کمیونٹی کس طرح دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے دونوں شعبوں کے موجودہ مسائل کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

سوال: اس کانفرنس سے آپ کون سا اہم پیغام یا سوال ساتھ لے جا رہے ہیں؟

وفا: میں اس یقین کے ساتھ گھر جا رہا ہوں کہ نوجوان محققین کی ایک بڑی جماعت ہے جو آنے والی کئی دہائیوں تک اس شعبے کو زندہ رکھے گی۔ اس خاص موقع پر مجھے اس وقت ہونے والی تحقیق کے اعلیٰ معیار سے خوشگوار حیرت ہوئی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر مجھے یہ دیکھ کر خاص طور پر خوشی ہوئی ہے کہ ان خیالات کی ترقی میں بہت سارے نوجوان اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ ان تمام باصلاحیت لوگوں کے تعاون کی بدولت یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ انتہائی دلچسپ ہے اور یہاں ہوئی گفتگو کے معیار اور اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ کر میں اس شعبے کے مستقبل کے بارے بہت پرامید ہوں۔ اس سال یہ شاید اسٹرنگ میتھ کی بڑی کانفرنسوں میں سے ایک رہی ہے جس میں میں نے شرکت کی ہے اور میرے خیال میں یہ بہت امید افزا ہے۔

 سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ICTP اس سال اپنی 60ویں سالگرہ منا رہا ہے اور آپ اس مرکز کو کافی عرصے سے جانتے ہیں۔ آپ کے مطابق ICTP نے عالمی سائنسی برادری کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے؟

وفا: میں پہلی بار 1984 میں آئی سی ٹی پی میں آیا جب میں گریجویٹ طالب علم تھا۔ اس وقت ہی میرا خیال تھا کہ ICTP ایک جادوئی جگہ ہے، اور مجھے یہ بات خوشگوار طور پر چونکا دینے والی معلوم ہوئی کہ ایسا ایک تحقیقی مرکز جہاں اعلیٰ درجے کی سائنس تیار کی جا رہی ہے اور یہ سب کے لیے دستیاب ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اپنے آبائی ممالک میں اس تک رسائی نہیں رکھ سکتے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

چالیس سال بعد جب میں پھر سے ICTP میں آیا ہوں تو مجھے اب بھی اسی خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا ہے کیونکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ جگہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ آئی سی ٹی پی سائنس کی ترقی کے لیے امید کی کرن اور بین الاقوامی محققین کے لیے ملاقات کی جگہ ہے۔ سٹرنگ میتھ کانفرنس جو ابھی ہوئی ہے اس کی صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح ICTP ترقی پذیر ممالک کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے علاوہ اعلیٰ درجے کی سائنس کرنے کے لیے بھی ایک بہترین جگہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسے وہ تمام تعاون ملے گا جو اسے دنیا بھر سے عظیم محققین کو راغب کرنے کے لیے درکار ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply