شعبدہ بازی اور آج کا پاکستانی معاشرہ/اکرم خان

انڈیا آفس لائبریری لندن میں تقریباً پچاس مختلف کتابیں محفوظ ہیں، جو 1870 سے 1890 کے درمیان چھپیں، جن میں تعویذوں، شعبدہ بازیوں اور فالناموں کا چرچا ہے،یہ کتابیں بارہ صفحات سے لیکر چار سو صفحات تک کی ہیں، اور اس وقت کے حساب سے چار پیسے سے لے کر ڈیڑھ روپے تک فروخت ہوا کرتی تھیں۔
کتابوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس وقت جادو، ٹونے، اور عملیات کا ذوق زیادہ تر مسلمانوں میں عام تھا، وہ ان کتابوں کو بڑی تعداد میں خریدتے تھے،بعض کتابوں کے کئی، کئی ایڈیشن چھپے، غیر مسلموں نے یہ رحجان دیکھ پیسہ کمانے کی غرض سے ان موضوعات پر جو کتابیں لکھیں، وہ بھی یقیناً مسلمانوں کے لئے ہی تھیں،مثلاً امبے پرشاد نے 1875 میں تعویذ گنڈوں کی جو کتاب لکھی، اس کا نام “اعجاز احمدی” تھا، اس طرح سیتا رام نے “اعجاز محمدی” لکھی۔

یہ عقیدہ عام تھا کہ ہندؤوں کے منتر بڑے کارگر ہوتے ہیں، چنانچہ “اسرار الہنود” سُمدریکا ریکھا” “سحر الہند” اور سحر الہنود” جیسی کتابیں لکھی گئیں۔
بنگال کا جادو آج بھی مشہور ہے۔
عبدالرؤف نے انیسویں صدی میں “سحربنگالہ” کے نام سے کتاب لکھی،سحر بنگال ہو یا عملیات نادرہ یہ سب کتابیں کسی طور روٹی کمانے کی تراکیب تو تھیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تمام مصنفوں میں دوڑ لگی ہوئی تھی کہ لوگوں کو بیوقوف بنانے میں کون بازی لے جاتا ہے،لوگ سمجھتے تھے کہ چھ پیسے کی “سحر سامری” نامی کتاب خرید لیں تو باقی عمر آرام سے کٹے گی۔ان کتابوں میں روپیہ بنانے کی ایسی تراکیب لکھی تھیں کہ اسے جا کر خرچ کرو، رات کو روپیہ خود بخود واپس آئے گا، سونے، چاندی کی ایسی گولیاں بنانے کے طریقے درج تھے کہ انہیں چاہے جتنی بار بیچو، اگلا دن نکلنے سے پہلے گولیاں خود بخود لوٹ آئیں گی،یا آپ ایسی رسّی بنا سکتے ہیں کہ کسی آدمی کے گلے میں ڈال دیں تو وہ گھوڑا بن جائے گا۔اسی طرح آدمی کو بکرا، بھینسا، بندر اور کتا بنانے کی ترکیبیں بھی درج ہیں۔
ان کتابوں میں دولوگوں کو لڑانے اور دشمن کو دیوانہ بنانے اور ہلاک کرنے کی ترکیبیں درج ہیں۔

گھر بیٹھے ہیرے جواہرات بنانے کے طریقے  ہیں، رات سونے سے پہلے مخصوص وظیفہ پڑھا جائے تو دفینہ کا پتہ معلوم ہو، زبان بندی اور نظر بندی کے وظائف عام تھے۔
( دراصل یہ سب ایک عظیم الشان دور کے خاتمے کے بعد کے احساسات تھے۔مسلمانوں کا شراب اقتدار کا نشہ ٹوٹ گیا تھا، اور یہ سب اگلی صبح کا خُمار تھا)

Advertisements
julia rana solicitors london

معاشرے میں کچھ کیے بِنا دولت مند بننے کی دوڑ لگی ہوئی تھی، جو سمجھدار تھے وہ ہوا کا رُخ دیکھ کر آگے جا چکے تھے۔اور جو ناسمجھ تھے وہ گھر بیٹھے بلاقی داس کی کتاب “گنجیئہ نقشیات” سے ایک نقش کو ایک لاکھ پچیس ہزار بار نقل کر رہے تھے کہ بلاقی داس نے لکھ دیا تھا کہ جو شخص اس نقش کو ایک لاکھ پچیس ہزار بار لکھ کر اپنے پاس رکھے گا، غیب سے اس کے سب کام پورے ہو جائیں گے۔ “خدا جانے بلاقی داس نے چھ پیسے کی کتاب لکھنے کی بجائے خود یہ نقش کیوں نہیں لکھا”۔
یہ تذکرہ ڈیڑھ سو سال قبل کے معاشرے کی ذہنی سطح، نفسیات اور ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی کتابوں کا تھا،لیکن سوچتا ہوں کہ آج بھی کچھ نہیں بدلا،ہم آج بھی دم کیے ہوئے پانی سے کینسر،ہیپاٹائٹس ،ایڈز، Covid 19 اور دوسرے مہلک امراض کا علاج کرتے ہیں،ہمزاد کو تسخیر کرنے کے عملیات کرتے ہیں،عورتیں راتوں کو قبرستانوں میں حالت برہنگی میں اولاد نرینہ کے لئے چلّے کاٹتی ہیں،لاٹری ٹکٹ اور پرائز بانڈ کے نمبر پیروں، فقیروں سے حاصل کرتے ہیں،خوابوں میں غیبی اشاروں کی بنیاد پر اپنے معصوم بچوں کو ذبح کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
ایسے واقعات اگر گنوانے بیٹھوں تو ایک لمبی فہرست تیار ہو جائے۔
ایسا کیوں ہے؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply