• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • نوجوان نے اپنے دل کے مختلف حصّے محبوباؤں کے نام کردیے

نوجوان نے اپنے دل کے مختلف حصّے محبوباؤں کے نام کردیے

ہوم ورک ہو یا کلاس روک انسانی اعضاء اور خاص طور پر دل کی تصویر بنایا انتہانی مشکل سمجھا جاتا ہے۔

اسی مشکل سے دوچار ایک طالب علم نے دل کی ڈائیگرام اور اسکے مختلف حصوں کے سپرد کام کرنے طریقوں کو اس انداز میں پیش کیا کہ انٹرنیٹ پر قہقہوں کا طوفان امڈ آیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک طالب علم نےدل کے چیمبرز کے نام کی جگہ اپنی گرل فرینڈز کے نام لکھ کر استادوں کے ذہنوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر میمز کنکشن نامی پیچ سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس نے منظر عام پر آتے ہی صارفین کو لوٹ پوٹ کردیا۔

یوں کو اکثر و بیشتر دل کا خاکہ بنانے کا سوال آئے تو عموماً طالب عالم دوسرے سوال کا انتخاب کرتے ہیں لیکن اس بچے نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا خاکہ تشکیل دیا کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا۔

وائرل کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک طالب علم نے دل کا خاکہ بناتے ہوئے اسکے چیمبروں کے نام لکھنے کے بجائے مزاحیہ انداز میں اپنی تمام گرل فرینڈز کے نام لکھ ڈالے۔

دل کا ہر حصہ ایک نئی لڑکی کے نام کرتے ہوئے اس بچے کا شیطان یہیں نہیں سویا بلکہ یہ بچہ دل کے افعال کو بیان کرتا چلا گیا۔

پریا نامی لڑکی کے لیےاس نے لکھا کہ “وہ ہمیشہ اس کے ساتھ چیٹ کرتی تھی” اور وہ “اسے پسند کرتا تھا”۔ اس لے پریا کیلئے دل کے بائیں ایٹریم میں اس کی جگہ ہے۔

اس شاگرد نے روپا کو بہت “خوبصورت اور پیاری” قرار دیا۔ وہ اسے اسنیپ چیٹ پر ٹیکسٹ کرتی تھی اور اس نے اسے اپنے بائیں حصے میں رکھا۔

نمیتھا طالب علم کی پڑوسی ہے جس کے “لمبے بال اور بڑی آنکھیں” ہیں۔ اس کے دل میں بھی اس کی جگہ ہے۔

جبکہ ہریتھا اس کی ہم جماعت ہے، جو اس کے دائیں ایٹریم پر قابض ہے، پوجا اس کی سابقہ محبوبہ ہے، جسے وہ بھول نہیں سکتا۔

مذکورہ تصویر 13 مئی کو شیئر ہونے کے بعد سے، 64.3 ملین سے زیادہ آراء اور 10 لاکھ سے زیادہ لائکس کے ساتھ وائرل ہو چکی ہے۔

اس عجیب وغریب دل کو دیکھنے کے بعد ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ”کم از کم وہ جانتا ہے کہ دل کے چار چیمبر ہوتے ہیں،”

Advertisements
julia rana solicitors london

ایک اور صارف نے کہا، “بھائی اپنے سابقہ ​​کو بھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔”

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply